03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میاں بیوی میں طلاق کے عدد میں اختلاف کاحکم
84876طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

 میں صباء .............. ہوں،بروز پیر، 24 ستمبر 2023 کو، میں اپنی والدہ ریشماں اور بہن ثناء کے ساتھ اپنے شوہر کے تایا کے گھر گئی تھی۔ وہاں کچھ اختلافات کی بنا پر بات چیت جاری تھی۔ اس موقع پر میرے شوہر مرجان شاہ، ان کے گھر والے اور ان کے تایا کے گھر والے بھی موجود تھے۔بات چیت کے دوران، فرحان شاہ نے اپنے گھر والوں اور تایا کے گھر والوں کے سامنے، میری والدہ اور میری بہن کے سامنے، اور میرے سامنے کھڑے ہو کر یہ الفاظ کہے: "میں اسے طلاق دے رہا ہوں، طلاق دے رہا ہوں، طلاق دے رہا ہوں۔"اب میرے شوہر اور ان کے گھر والے ان تین طلاقوں کا انکار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے طلاق دودی ہے۔ جبکہ میرے پاس ان تین طلاقوں کی ریکارڈنگ موجود ہے،اورمیں نے دارالافتاء کے واٹسپ نمبرپر ارسال کردی ہے۔لہٰذا میں شریعت کی روشنی میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ قرآن و حدیث کے مطابق تین طلاق کے بعد کیا کوئی گنجائش ہے؟ میں چاہتی ہوں کہ حلال و حرام کی حدود کا خیال رکھتے ہوئے اس رشتے کو نبھاؤں، کیونکہ میرے دو بچے ہیں جن کی عمریں تقریباً چار سال اور پونے تین سال ہیں۔براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مذکورہ میں جب تین طلاق کے اتنے سارے گواہ موجود ہیں اور ریکارڈنگ بھی موجود ہے، جو ہم نے بھی سنی ہے، اور اس میں شوہر نے واضح طور پر تین طلاق دی ہے، لہذا مذکورہ صورت میں شوہر اور اس کے گھر والوں کے تین طلاق سے انکار کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا، اور تین طلاق واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے۔ اب آپ دونوں میاں بیوی کے لیے اکٹھے رہنا صحیح نہیں ہے۔ ایسی صورت میں اگر آپ خود جان نہ چھڑا سکتی ہوں تو آپ کو چاہیے کہ عدالت سے رجوع کرکے شوہر سے کسی طریقے سے خلاصی حاصل کر لیں۔

عام حالات میں اگرچہ شرعی وجہ فسخ نہ پائے جانے کی وجہ سے عدالتی خلع کا اعتبار نہیں ہوتا، لیکن جب آپ ویسے ہی طلاق شدہ ہیں تو ایک ثبوت اور قانونی حمایت کے لیے عدالتی فیصلہ حاصل کر سکتی ہیں۔ اگر اس کے باوجود بھی آپ کے لیے جان خلاصی ممکن نہ ہو تو اس مجبوری کی صورت میں آپ پر اس شخص کے ساتھ رہنے کا گناہ نہیں ہوگا، بلکہ پورا گناہ شوہر اور اس کی حمایت کرنے والوں پر ہوگا۔

حوالہ جات

وفی الشامیة :

المرأۃ کالقاضی اذا سمعتہ او اخبرھا عدل لا یحل لھاتمکینہ‘ والفتویٰ علی انہ ‘ لیس لھا قتلہ ولا تقتل نفسھا بل تفدی نفسھا  بمال او تھرب کما انہ‘ لیس لہ قتلھا اذا حرمت  علیہ وکلما ہرب رد تہ بالسحر ، وفی البزازیۃ عن الا وزجندی انھا ترفع الا مر للقاضی فان حلف ولا بینۃ لھا فالا ثم علیہ اھ قلت اذا لم تقدر علی الفداء اوالھرب والا علی منعہ عنھا فلا ینافی ما قبلہ (شامی ص ۵۹۴ ج۱ باب الصریح)البحرائق میں  ہے  والمرأۃ کالقضی اذ سمعۃ اواخبرھا عدل لا یحل لھا یمکینہ ھکٓذا قتصر الشارحون وذکر فی البزازیۃ وذکر الا وزجندی انھا ء ر فع الا مرالی القاضی فان لم یکن لھا بینۃ تحلفۃ فان حلف فالاثم علیہ اھ ولا فرق فی البائن بین الواحدۃ والثلاث ا ھ وھل لھا ان تقتلہ اذ ارادجماعھا بعد علمھا بالبینونۃ فیہ قولان والفتوی انہ لیس لھا ان تقسم … الی قولہ … وعلیھا ان تفدی  نفسھا بمال اوتھرب … الخ (البحرالرائق ص ۲۵۷ ج۳  باب الطلاق) فقط واﷲاعلم بالصواب ۔

قال شمس الأئمۃ السرخسي: ما ذکر أنہا إذا ھربت لیس لہا أن تعتد وتتزوج بزوج آخر جواب القضاء، أما فیما بینہا وبین اللّٰہ تعالیٰ فلہا أن تتزوج بزوج آخر بعد ما اعتدت، کذا في المحیط۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکرہیۃ / الفصل الثاني ۵؍۳۸۶ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

امراۃ اذا ادعت علی الزوج انہ طلقہا فہی للزوج مالم یثبت الطلاق نہایہ.

(۲)ونصابھا ای الشھادۃ لغیر من الحقوق الخ کنکاح وطلاق رجلان او رجل و امرائتان (الدرا لمختار علی ہامش ردالمحتار کتاب الشھادۃ  ج ۴ ص ۵۱۵۔ط۔س۔ج۵ص۴۶۵) ظفیر۔(۳)ونصابھا لغیرھا من الحقوق الخ کنکاح وطلاق رجلان اورجل وامرأتان (الدر المختار علی ہامش ردالمحتار کتاب الشھادۃ ج ۴ ص ۵۱۵۔ط۔س۔ج۵ص۴۶۵) ظفیر.

رد المحتار - (ج 12 / ص 388)

ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالما بحرمتها لا تجب عدة أخرى لأنه زنا ، وفي البزازية : طلقها ثلاثا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لا تستأنف العدة بثلاث حيض ، ويرجمان إذا علما بالحرمة.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (ج 9 / ص 375)

فی سنن ابن ماجة (ج 2 / ص 152)باب من طلق ثلاثا في مجلس واحد 2024

حدثنا محمد بن رمح . أنبأنا الليث بن سعد ، عن إسحاق بن أبى فروة ،عن أبى الزناد ، عن عامر الشعبى  قال : قلت لفاطمة بنت قيس :حدثينى عن طلاقك . قالت : طلقني زوجي ثلاثا ، وهو خارج إلى اليمن .فأجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم .

سنن البيهقي الكبرى - (ج 7 / ص 339)

أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني أنا أبو أحمد عبد الله بن عدي الحافظ نا محمد بن عبد الوهاب بن هشام نا علي بن سلمة اللبقي ثنا أبو أسامة عن الأعمش قال كان بالكوفة شيخ يقول سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة والناس عنقا وآحادا إذ ذاك يأتونه ويسمعون منه قال فأتيته فقرعت عليه الباب فخرج إلي شيخ فقلت له كيف سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول فيمن طلق امرأته ثلاثا في مجلس واحد قال سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق رجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة قال فقلت له أين سمعت هذا من علي رضي الله عنه قال أخرج إليك كتابا فأخرج فإذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فقد بانت منه ولا تحل له حتى تنكح زوجا غيره قال قلت ويحك هذا غير الذي تقول قال الصحيح هو هذا ولكن هؤلاء أرادوني على ذلك.

رد المحتار - (ج 10 / ص 448)

وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - { فماذا بعد الحق إلا الضلال}  وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف.

الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص 196)

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.

لو قال لزوجتہ أنت طالق طالق طالق طلقت ثلاثاً۔ (الأشباہ والنظائر ۲۱۹ قدیم)کرر لفظ الطلاق وقع الکل۔ (شامي ۴؍۵۲۱ زکریا)

أحكام القرآن للجصاص ج: 5  ص: 415

قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

18/ محرم  1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب