03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کے مرنےکےبعدچہرہ نہ دیکھنے کی وصیت کی دھمکی کی بناء پرطلاق نامہ پر دستخط کرنا
86702طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

میں نے ذہنی دباؤ میں آکر تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامے پر دستخط کئے،کیونکہ میرے والد کا کہنا تھا کہ اگر تم نے دستخط نہیں کئے تو میں وصیت کروں گا کہ تم میرا مرا ہوا چہرہ بھی نہ دیکھو،اس بات کے گواہ موجود ہیں  کہ میں نے یہ سب کچھ دباؤ میں آکر کیا اور میں نے  زبان سے کوئی کلمات نہیں بولے،بقیہ کاغذات کے حوالے سے بھی مجھے علم نہیں تھا کہ اس میں کیا تحریر ہے،کیا یہ طلاق ہوگئی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ والد صاحب کی مذکورہ دھمکی(میں وصیت کروں گا کہ تم میرا مرا چہرہ بھی نہیں دیکھو) جس کی وجہ سے آپ نے طلاق نامے پر دستخط کئے ہیں طلاق واقع ہونے سے مانع نہیں ہے اور اس کے علاوہ آپ پر کوئی ایسا جبر یا دباؤ نہیں تھا جس کی وجہ سے آپ خود کو طلاق نامے پر دستخط کرنے پر مجبور پاتے ہوں،اس لئے مذکورہ صورت میں اس طلاق نامے پر دستخط کرنے کی وجہ سےتین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،جس کے بعد موجودہ حالت میں آپ دونوں میاں بیوی کا دوبارہ نکاح بھی ممکن نہیں ہے۔

حوالہ جات

"بدائع الصنائع " (3/ 100):

"وكذا التكلم بالطلاق ليس بشرط فيقع الطلاق بالكتابة المستبينة وبالإشارة المفهومة من الأخرس ؛لأن الكتابة المستبينة تقوم مقام اللفظ والإشارة المفهومة تقوم مقام العبارة".

"الفتاوى الهندية" (1/ 379):

"رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان".

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع "(7/ 175):

"وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا".

"الدر المختار " (6/ 129):

"(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى ".

"البحر الرائق " (3/ 264):

"وقيدنا بكونه على النطق لأنه لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية، وفي البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع اهـ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

28/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب