| 85653 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
کیا صرف عاشورہ کا روزہ رکھنا آج بھی مسلمانوں کے لیے مکروہ ہے؟ کیا یہودیوں سے مشابہت آج بھی پائی جاتی ہے؟ علماء کرام کی اس بارے میں کیا آراء ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صرف عاشورہ کا روزہ رکھنے کے حوالے سے علماء کی دو آراء ہیں: بعض حضرات اسے مکروہِ تنزیہی کہتے ہیں، اور بعض اسے بلاکراہت جائز قرار دیتے ہیں۔ اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ صرف عاشورہ کا روزہ رکھنے کی ممانعت کی وجہ راجح قول کے مطابق یہود کی مشابہت ہے۔ لیکن کیا یہ مشابہت اب بھی باقی ہے؟
بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ مشابہت باقی ہے، اس لیے اکیلے عاشورہ کے بجائے نو یا گیارہ محرم کا روزہ بھی ساتھ رکھا جائے۔ جبکہ دوسرے بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ اب یہ مشابہت باقی نہیں رہی، لہٰذا ممانعت کی وجہ ختم ہونے کے باعث اکیلے عاشورہ کا روزہ رکھنا بلاکراہت جائز ہوگا۔
بعض علماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ تینوں دن (نو، دس، اور گیارہ محرم) کے روزے رکھے جائیں۔ دوسرے درجے میں یہ ہے کہ دس محرم کے ساتھ نو یا گیارہ کا روزہ رکھا جائے، اور تیسرے درجے میں یہ ہے کہ صرف دس محرم کا روزہ رکھا جائے۔
کئی جدید ذرائع معلومات سے تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ آج کل یہودی یہ روزہ نہیں رکھتے، لہٰذا راجح یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشابہت نہ ہونے کی وجہ سے اب صرف عاشورہ کا روزہ رکھنا مکروہ نہیں۔
حوالہ جات
وفی صحيح مسلم:
سمعت عبد الله بن عباس رضي الله عنهما يقول:حين صام رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عاشوراء وأمر
بصيامه قالوا: يا رسول الله إنه يوم يعظمه اليهود والنصارى۔ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم "فإذا كان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع" قال: فلم يأت العام المقبل حتى توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم۔ (صحيح مسلم،كتاب الصيام،باب صوم يوم عاشوراء (ج:2،ص:731،مكتبةالبشرى)
وفی الدرالمختارمع ردالمحتار(كتاب الصوم،ج:3،ص:336):
والمكروه تحريما كالعيدين. وتنزيها كعاشوراء وحده۔ وقال ابن عابدين(قوله: وعاشوراء وحده) أي مفردا عن التاسع أو عن الحادي عشر إمداد؛ لأنه تشبه باليهود.
وفی بدائع الصنائع(2/218) :
"وكره بعضهم صوم يوم عاشوراء وحده لمكان التشبه باليهود ولم يكرهه عامتهم لأنه من الأيام الفاضلة فيستحب استدراك فضيلتها بالصوم.”
وقال شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی:
"وصيام يوم عاشوراء كفارة سنة ولا يكره إفراده بالصوم"۔ (الفتاوى الكبرى لابن تیمیہ 5/ 378)۔
(دیکھیں: مطالب أولي النهى في شرح غاية المنتهى (2/215)، تحفۃ المحتاج (3/455)، اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء ( 11/401).
وفي تحفة المحتاج لابن حجر الهيتمي:
وعاشوراء لا بأس بإفراده. (ج3 ،باب صوم التطوع).
ویقول الشیخ منظور نعمانی رحمہ اللّٰہ فی معارف الحدیث ( 4/ 387):
ہمارے زمانے میں چونکہ یہود ونصاریٰ وغیرہ یومِ عاشورہ(دسویں محرّم) کو روزہ نہیں رکھتے، بلکہ ان کا کوئی کام بھی قمری مہینوں کے حساب سے نہیں ہوتا،اس لیئے کسی اشتراک وتشابہ کا سوال ہی نہیں رہا، لہذا فی زمانہٖ رفع تشابہ کیلئے نویں یا گیارہویں کاروزہ رکھنے کی ضرورت نہ ہونی چاہیے.
وفي نيل الأوطار:
والظاهر أن الأحوط صوم ثلاثة أيام: التاسع والعاشر والحادي عشر، فيكون صوم عاشوراء على ثلاث مراتب: الأولى صوم العاشر وحده، والثانية صوم التاسع معه، والثالثة صوم الحادي عشر معهما، وقد ذكر معنى هذا الكلام صاحب الفتح( نيل الأوطار 2/549) :
فی العرف الشذّی شرح سُنن الترمذی ( 2/ 177):
وحاصل الشریعۃ ۔۔۔۔أن الأفضل صوم عاشوراء وصوم یوم قبلہ وبعدہ ثم الأدون منہ صوم عاشوراء مع صوم یوم قبلہ او بعدہ، ثم الأدون صوم یوم عاشوراء فقط، والثلاثہ عباداۃ عظمیٰ ۔ وأما فی الدر المختار: من کراھۃ یوم عاشورہ منفرداً تنزیھاً فلابدّ من التاویل فی أی أنھا عبادۃ مفضولۃ من القسمین الباقیین ولا یحکم بکراھۃ فإنہ علیہ الصلاۃ والسلام صام مدۃ عمرہ صوم عاشوراء منفرداً وتمنّیٰ أن لو بقی الی المستقبل صام یوما معہ.
قال المرداوي في "الإنصاف" (3/346):
"لا يكره إفراد العاشر بالصيام على الصحيح من المذهب، ووافق الشيخ تقي الدين [ابن تيمية] أنه لا يكره" انتهى باختصار.
المجموع شرح المهذب (6/ 383)
وذكر العلماء من أصحابنا وغيرهم في حكمة استحباب صوم تاسوعاء أوجها (أحدها) أن المراد منه مخالفة اليهود في اقتصارهم على العاشر وهو مروي عن ابن عباس وفي حديث رواه الإمام أحمد بن حنبل عن ابن عباس قال " قال رسول الله صلى الله عليه وسلم صوموا يوم عاشوراء وخالفوا اليهود وصوموا قبله يوما وبعده يوما " (الثاني) أن المراد به وصل يوم عاشوراء بصوم كما نهى أن يصوما يوم الجمعة وحده ذكرهما الخطابي وآخرون (الثالث) الاحتياط في صوم العاشر خشية نقص الهلال ووقوع غلط فيكون التاسع في العدد هو العاشر في نفس الأمر.
الفتاوى الكبرى لابن تيمية (6/ 175)
الثامن: أنه نهى - صلى الله عليه وسلم - عن التشبه بأهل الكتاب في أحاديث كثيرة مثل قوله «إن اليهود والنصارى لا يصبغون فخالفوهم» - «إن اليهود لا يصلون في نعالهم فخالفوهم» ، وقوله - صلى الله عليه وسلم - في عاشوراء: «لئن عشت إلى قابل لأصومن التاسع»
وقال ابن حجر رحمه الله في تعليقه على حديث: لئن بقيت إلى قابل لأصومن التاسع:
ما همّ به من صوم التاسع يُحتمل معناه أن لا يقتصر عليه بل يُضيفه إلى اليوم العاشر إما احتياطاً له وإما مخالفةً لليهود والنصارى وهو الأرجح وبه يُشعر بعض روايات مسلم. ( انتهى من فتح الباري 4/245).
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (11/ 117)
وفي (المحيط) : وكره إفراد يوم عاشوراء بالصوم لأجل التشبه باليهود، وفي (البدائع) : وكره بعضهم إفراده بالصوم، ولم يكرهه عامتهم، لأنه من الأيام الفاضلة.
وفی إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام عن افراد یوم الجمعة بصوم (2/ 33)
هذا ضعيف؛ لأن اليهود لا يخصون يوم السبت بخصوص الصوم، فلا يقوى التشبه بهم، بل ترك الأعمال الدنيوية أقرب إلى التشبه بهم، ولم يرد به النهي.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
25/11/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


