03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیرمملوک زمین کی بیع کاحکم
85834خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میں ایک اسٹیٹ ایجنسی کا مالک ہوں اور میرے پاس دیگر اسٹیٹ ایجنٹ بھی کام کرتے ہیں۔ 2013 میں، میرے ایک اسٹیٹ ایجنٹ نے دو عدد فائلیں مجھ سے لے کر کسی دوسری ایجنسی کو بیچ دی تھیں، جس کا کچھ بیعانہ بھی وصول کیا تھا جو کہ ایک اندازے کے مطابق 2 سے 4 لاکھ کے درمیان تھا۔ اس بیعانے کی کوئی رسید یا ایگریمنٹ نہیں ہے، اس لیے صحیح رقم یاد نہیں ہے۔

بعد ازاں، وہ فائلیں جس مالک سے میں نے خریدی تھیں، قیمت بڑھنے کی وجہ سے اس نے مجھے دینے سے انکار کر دیا اور وہ فائلیں مجھے نہیں مل سکیں۔ میں نے اسٹیٹ ایجنٹ کے ذریعے یہ پیغام آگے خریدار کو بھجوا دیا اور بیعانہ واپس کرنے کی بھی کوشش کی، لیکن خریدار کا کہنا تھا کہ اسے ہر صورت وہی فائلیں چاہئیں۔

ہم نے ان کو دوسری فائلوں کی پیشکش کی، جو مہنگی تھیں، لیکن انہوں نے وہ لینے سے انکار کر دیا۔ کچھ عرصے بعد، انہوں نے دوبارہ تقاضا کیا، تو ہم نے بیعانہ واپس کرنے کی آفر دی، لیکن انہوں نے پہلے کی طرح لینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد بھی ہمارے دیگر معاملات اور لین دین کامیابی سے چلتے رہے۔

اب 2024 میں، وہ فائلیں (11 سالوں میں) پلاٹ میں تبدیل ہو چکی ہیں اور ان کی قیمت بھی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اب وہ دوبارہ ہم سے تقاضا کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یا تو موجودہ مارکیٹ کے حساب سے پیسے دو یا پھر فائلیں دو۔

مفتی صاحب، اس معاملے میں ہماری شریعت کے مطابق رہنمائی فرمائیں کہ ہم اس مسئلے کو کس طرح حل کریں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ بیع کے صحیح ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ مبیع مملوک، مقدور التسلیم  اور متعین ہو، اس میں ایسی جہالت نہ ہو جو تنازع کا سبب بن سکے۔

مسئولہ صورت میں مبیع غیر مملوک، غیر مقدور التسلیم اور مجہول ہے، لہٰذا یہ عقد فاسد ہے۔ اس کو فسخ کرنا اورصرف

اصل رقم، جو بیعانہ کی شکل میں لی گئی تھی، لوٹانا واجب ہے۔موجودہ مارکیٹ ویلیو یا فائلوں کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔

حوالہ جات

البناية شرح الهداية (8/ 3):

وأما شرطه فأنواع: منها في العاقد، وهو أن يكون عاقلا مميزا، ومنها في الآلة، وهو أن يكون بلفظ الماضي، ومنها في المحل وهو أن يكون مالا متقوما، وأن يكون مقدور التسليم، ........ ومنها شرط النفاذ، وهو الملك أو الولاية.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 248) :

 وفي المبيع كونه مالا متقوما شرعا مقدور التسليم في الحال أو في ثاني الحال فيدخل السلم.

ووجه كون الموضع مجهولا أنه لم يبين أنه من مقدم الدار، أو من مؤخرها، وجوانبها تتفاوت قيمة فكان المعقود عليه مجهولا جهالة مفضية إلى النزاع، فيفسد كبيع بيت من بيوت الدار كذا في الكافي عزمية.

(رد المحتار على الدر المختار،مطلب مهم في أحكام النقود إذا كسدت،ج:4،ص:545) :

وأما شرائطه فاثنان أحدهما القبض فلا يثبت الملك قبل القبض لأنه واجب الفسخ رفعا للفساد وفي وجوب الملك قبل القبض تقرر الفساد۔(بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في حكم البيع،ج:7، ص:377)

فقه البيوع للشيخ محمد تقي العثماني (377/1) مكتبة معارف القران كراتشي:

وقد تباع قطعة من الأرض مقدرة بالخطوات أو الأمتار، ولكن يترك تعيينها للمستقبل وهذا يكون عادة في أرض واسعة تشتريها شركة، ثم تبيع قطعاتها لعامة الناس تقدر بالخطوات أو الأمتار، فمثلا: كل قطعة منها بقدر خمس مائة متر، ولكن لا يتعين محل تلك الخمسمائة عند الشراء. وإنما يتعين حسب التصميم الذي تعمله الشركة فيما بعد.فالسؤال: هل يصح هذا البيع على أنه بيع حصة مشاعة من تلك الأرض الواسعة؟ وهل يجوز لمن يشتريها أن يبيعها إلى آخر؟ وتخرج هذه المسئلة على ما ذكره الفقهاء الحنفية من أن من باع عشرة أذرع غير معينة من دار، فإن هذا البيع فاسد عند الإمام أبي حنيفة رحمه الله تعالى، لجهالة قدر المبيع،فإن جوانب الدار مختلفةالجودة، فتقع مشاعة من الدار، وبيع المشاع جائز. ثم فسر بعض الفقهاء قولهما بأنه يصح البيع عندهم على أساس الشيوع بشرط أن يعلم مقدار جملة الدار، ولکن قال اخرون: قولهما لايقتصر علي تلك الصورة، بل الصحيح أنه يجوز البيع عندهما، وإن لم يكن مقدار الكل معلوما، لإن هذه جهالة بيدهما إزالتها.وعلى هذا، فإن بيع قطعة غير معيّنة من جملة القطعات لايجوز عند الامام أبي حنيفة رحمه الله تعالى، ويجوز عند صاحبيه. والظاهر أنه إن كانت جهالة التعيين تفضي إلى المنازعة، فالإخذ بقول الإمام أبي حنيفة أولى، وإن لم تكن مفضية إلى المنازعة فقول الصاحبين أولى.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

12/6/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب