03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹی کے اچھے رشتے کےلیے وظیفہ
87943ذکر،دعاء اور تعویذات کے مسائلرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے مسائل ) درود سلام کے (

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

 میری بیٹی" منیلہ حسن عمر" جو کہ اب 28 سال کی ہو چکی ہے، اُس کے لیے رشتے آ رہے ہیں، لیکن کہیں بات بن نہیں پاتی۔ بیٹی بھی شادی کے لیے رضامند نہیں ہے۔ میرے شوہر کا پانچ سال پہلے انتقال ہو چکا ہے۔ میری اللہ سے دعا ہے کہ میری زندگی میں ہی اُس کی شادی ہو جائے۔ میرے باقی چار بچوں کی شادی ہو چکی ہے، یہ بیٹی سب سے چھوٹی ہے۔ براہِ کرم مجھے ایسے وظائف بتا دیجیے جو میں پڑھ سکوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کو اور آپ کی بیٹی کو چاہیے کہ پنجگانہ نماز کا باقاعدگی سے اہتمام کریں اور گناہوں سے مکمل اجتناب کریں۔ سورۃ طٰہٰ کی آیت نمبر 131 اور 132 کسی پاک کاغذ پر لکھ کر کسی کپڑے یا چمڑے میں سی کر بیٹی کے بازو پر باندھ دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر نماز کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی رہیں(اعمال قرآنی)۔

یہ دونوں آیات درج ذیل ہیں:

وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ (131)وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ (132)(سورۃ طٰہٰ، آیات 131-132)

اگر آپ یہ عمل خلوصِ دل سے اور صبر و یقین کے ساتھ کریں، تو ان شاء اللہ بہت جلد کسی نیک اور اچھے گھرانے سے رشتہ آ جائے گا۔

آپ کی بیٹی کو چاہیے کہ مناسب رشتہ ملنے پر اسے قبول کرے اور بلا وجہ انکار نہ کرے، کیونکہ عمر زیادہ ہونے کے بعد رشتے آنا مشکل ہو جاتا ہے،اور شادی کے بغیر زندگی گزارنا نہ صرف یہ کہ خلافِ سنت ہے بلکہ اس میں کئی مشکلات اور گناہوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا جلد از جلد شادی کی کوشش کی جائے، اور والدہ پراس معاملے میں اعتماد کرے، کیونکہ انسان کے لیے اللہ اور رسول کے بعد سب سے بڑھ کر ماںمخلص ہوتی ہے۔

حوالہ جات

السنن الكبرى للبيهقي (7/ 214)

عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب، عن أبيه، عن جده، أن رسول صلى الله عليه وسلم قال له: " يا علي ثلاثة لا تؤخرها الصلاة إذا أتت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت كفؤا ".

سنن سعيد بن منصور (1/ 190)

عن ابن هرمز الصنعاني قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أتاكم من ترضون دينه وأمانته فزوجوه، إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد كبير» . قالوا: يا رسول الله، وإن كان وإن كان؟ قال: «نعم»

مسند أحمد مخرجا (14/ 86)

عن أبي هريرة، قال: قال رجل: يا رسول الله، أي الناس أحق مني بحسن الصحبة؟ قال: «أمك» ، قال: ثم من؟ قال: «ثم أمك» ، قال: ثم من؟ قال: «ثم أمك» ، قال: ثم من؟ قال: «ثم أبوك»

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

07/1/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب