03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک بیٹے، دو بیٹیوں، زوجہ اور والدہ کے درمیان میراث کی تقسیم
87686میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرے والد سرکاری ملازم تھے۔ دورانِ ملازمت ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ان کے انتقال کے بعد ایک عورت نے عدالت میں دعویٰ کر دیا کہ وہ بھی والد کی بیوی ہے۔ یہ مقدمہ تقریباً آٹھ (8) سال تک عدالت میں چلتا رہا، اس کے بعد عدالت نے یہ مقدمہ خارج کر دیا اور ہمارے حق میں فیصلہ دے دیا۔لہٰذا والد کے ادارے نے تمام واجبات ادا کر دیے، جن میں پنشن کی رقم بھی شامل ہے۔والد کا ایک بیٹا اور ہم دو بیٹیاں ہیں،مرحوم کی والدہ اورزوجہ بھی حیات ہیں۔ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ ان واجبات میں ہم ورثہ میں سے ہرایک کا شرعی حصہ کتنابنتاہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر مرحوم والد کے ادارے کی طرف سے ملنے والی واجبات اس نوعیت کی ہوں کہ وہ مرحوم کی ملکیت تھیں، یعنی ان پر ان کا حق وفات سے پہلے ثابت ہو چکا تھا، اور وہ اپنی زندگی میں ان کے مالک بن چکے تھے، صرف وصولی باقی تھی — جیسے: گریجویٹی، جی پی فنڈ، ڈیتھ گرانٹ، لیو انکیشمنٹ وغیرہ تو یہ تمام رقوم مرحوم والد کی میراث شمار ہوں گی، اور ان کی شرعی تقسیم ورثاء کے درمیان ہوگی، جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔

لیکن اگر ادارے کی طرف سے ملنے والی رقوم اس نوعیت کی ہوں کہ مرحوم ان کے مالک نہیں بنے تھے، یعنی ان پر ان کا حق وفات سے پہلے ان کی زندگی میں ثابت نہیں ہوا تھا، بلکہ وہ ادارے کی طرف سے بطورِ عطیہ یا امدادی رقم دی گئی ہوں — جیسے فیملی پنشن، جو عام طور پر مرحوم کی بیوی کو بطور عطیہ دی جاتی ہے — تو ایسی رقم کی مالک صرف وہی فرد ہوگا جس کے نام پر وہ جاری کی گئی ہو (مثلاً مرحومہ کی بیوی)۔لہٰذا اس قسم کی رقوم میراث میں شامل نہیں ہوں گی، کیونکہ ان پر دیگر ورثاء کا شرعی حق نہیں بنتا۔

مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں ادارے کی طرف سے ملنے والی مذکورہ واجبات سمیت منقولہ و غیر منقولہ مال، جائیداد، سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ سازوسامان چھوڑا ہے، یہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم وہ قرض ادا کیا جائے جس کی ادائیگی مرحوم کے ذمہ واجب ہو۔ اس کے بعد اگر مرحوم نے غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو (اور اسی کے حکم میں نمازوں اور روزوں کے فدیہ کے لیے کی جانے والی وصیت بھی ہوگی، اگر وصیت کی ہو) تو بقیہ ترکہ میں سے ایک تہائی (1/3) تک اس پر عمل کیا جائے۔ اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے، اس کو شرعی ورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔

مذکورہ بالا حقوق (کفن دفن، قرض اور وصیت اگر کی ہو) کی علی الترتیب ادائیگی کے بعد اگر آپ کے والد مرحوم کے انتقال کے وقت صرف یہی ورثاء ہوں جو سوال میں مذکور ہیں، تو کل منقولہ و غیر منقولہ ترکہ میں سے مرحوم کی بیوہ کو %12.5، بیٹے کو %35.42، ہر بیٹی کو %17.71، اور والدہ کو %16.66 حصہ دیا جائے۔ جبکہ بطورعطیہ دی جانے والی پنشن کی رقم وراثت میں شامل نہ ہوگی اور اسی فرد کی ہوگی جس کے نام ادارے نے جاری کی ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع (7/ 57):

الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته.

قال في كنز الدقائق :

يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ...

(ص:696, المكتبة الشاملة)

قال اللہ تعالی :

وَ لِاَبَوَیہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِن کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ۚ.......وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْن   [النساء/11]

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 238)

العصبة نوعان نسبية وسببية فالنسبية ثلاثة أنواع عصبة بنفسه، وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى، وهم أربعة أصناف جزء الميت وأصله وجزء أبيه، وجزء جده.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

29/11/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب