03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرحوم کی بیوی ،دوبیٹوں اور چار بیٹیوں کے درمیان میراث کی تقسیم
87026میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مرحوم کی بیوی ،دو بیٹے اور چار بیٹیوں کے درمیان 48لاکھ نقدی رقم اور16تولے سونا کی تقسیم کیسے ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم  کے  ترکہ میں سے سب سے پہلے ان کے ذمہ   جوقرضہ ہو،اس کی ادائیگی اور ایک تہائی میں ان کی  جائز وصیت پوری کرنے کے بعد بقیہ مال درج ذیل طریقے سے تقسیم کردیا جائے گا:

کل ترکہ میں مرحوم کی بیوی کو12.5%،ہربیٹےکو 21.875%جبکہ ہربیٹی کو 10.937%حصہ ملےگا۔کل رقم48لاکھ میں بیوی کو 6,00000،ہربیٹے کو 10,50,000جبکہ ہر بیٹی کو 5,25,000 روپے ملیں گے۔کل 16تولہ سونےمیں مرحوم کی بیوی کو2تولہ، ہربیٹے کو3.5تولہ (40.824گرام( جبکہ ہربیٹی کو1.75تولہ (20.412گرام(سونا  ملےگا۔ آسانی کےلیے نقشہ ملاحظہ فرمائیں۔

نمبرشمار

ورثہ

فی صدی حصہ

کل نقدی رقم:48,00000

کل سونا  :16تولہ

1

بیوی

12.5%

6,00000

2تولہ

2

بیٹا

21.875%

10,50,000

3.5تولہ

3

بیٹا

21.875%

10,50,000

3.5تولہ

4

بیٹی

10.937%

5,25,000

1.75تولہ

5

بیٹی

10.937%

5,25,000

1.75تولہ

6

بیٹی

10.937%

5,25,000

1.75تولہ

7

بیٹی

10.937%

5,25,000

1.75تولہ

حوالہ جات

قال اللہ تبارک و تعالٰی: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ الخ﴾ (ألنساء:(11

ترجمہ: اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو حکم دیتا ہے کہ : مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔(آسان ترجمہ قرآن:(251/1

قال اللہ تبارک و تعالٰی:﴿ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ  الخ﴾ (ألنساء:(12

ترجمہ: اور تم جو کچھ چھوڑ کر جاؤ اس کا ایک چوتھائی ان (بیویوں) کا ہے، بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد (زندہ) نہ ہو۔ اور اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو تم نے کی ہو، اور تمہارے قرض کی ادائیگی کے بعد ان کو تمہارے ترکے کا آٹھواں حصہ ملے گا۔(آسان ترجمہ قران:(252/1

و قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ :ثم شرع في العصبة بغيره فقال (ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) وإن سفلوا.(الدرمع الرد:(775/6

جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم                                                                                                                                               

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

3رمضان المبارک1446ھ                          

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب