| 86960 | رضاعت کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مثلاً عائشہ نے اپنی بیٹی فاطمہ کے ساتھ زید کی بیٹی زینب کو مدت رضاعت میں دودھ پلایا ، جبکہ عزیز اللّٰہ کے بیٹے سیف اللّٰہ نے زید کی سوتیلی ماں مریم کا مدت رضاعت میں دودھ پیا ۔ اب سیف اللّٰہ عائشہ کی بیٹی فاطمہ کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے ۔ کیا شرعاً یہ نکاح کرنا جائز ہے ؟وضاحت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں سیف اللّٰہ کا عائشہ کی بیٹی فاطمہ کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے،سیف اللہ اور فاطمہ ایک دوسرے کے لیے محرم نہیں ہیں،کیونکہ ان دونوں کے درمیان نہ حقیقی رشتہ ہے اور نہ رضاعی رشتہ ہے۔
حوالہ جات
قال العلامة ابن عابدین رحمه الله:قوله:( أي بسببه) أشار إلى أن من بمعنى باء السببية ط .قوله:( ما يحرم من النسب) معناه أن الحرمة بسبب الرضاع معتبرة بحرمة النسب. (ردالمحتار:3/213)
و فی الھندیۃ :يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة. (الفتاوی الھندیۃ :1/343)
محمد یونس بن امین اللہ
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
25 شعبان ، 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد یونس بن امين اللہ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


