| 87014 | جنازے کےمسائل | مردے کو غسل دینے اوردفنانے کا بیان |
سوال
میت کو غسل دینے کا طریقہ بتادیں
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میت کو غسل دینا عملا سیکھنے کی چیز ہے۔اس کی بہتر صورت تو یہ ہے کہ ان امور کو جاننے والے شخص سے بالمشافہ سیکھ لیں۔تاہم غسل میت کا مختصر طریقہ یہاں بیان کیا جا تا ہے۔
میت کو پہلے خوشبو سے دھونی دیے گئے تختے پر لٹا کرپہنے ہوئے کپڑے اتار کر اوپرکوئی موٹی چادر ڈال دی جائے،تاکہ ستر نظر نہ آئے۔پھر اس کا پہلے وضوء کرا دیں اور سر کوصابن،شیمپو وغیرہ اچھی طرح دھو لیں۔پھرمیت کوبائیں پہلوپرلٹاکردائیں پہلوپرسرسےپیرتک نیم گرم پانی سے صابن وغیرہ لگاکر اچھی طرح دھولیاجائے،پھردائیں پہلو پرلٹاکراسی طرح سرسےپیرتک تین مرتبہ بائیں پہلوپراتناپانی ڈالاجائےکہ دائیں پہلوتک پانی پہنچ جائے،پھرمیت کواپنےبدن کی ٹیک دےکرذرابٹھلانےکےقریب کیا جائےاور اس کےپیٹ کواوپرسےنیچےکی طرف آہستہ ملاجائے،اگرکچھ نکلےتوصرف وہ جگہ دھولیا جائے،غسل دہرانےکی ضرورت نہیں۔پھر سارا بدن خشک کر کےسر اور داڑھی پر عطر لگا دیں۔ پیشانی،ناک دونوں ہتھیلیوں اور گھٹنوں پر کافور مل کر کفن پہنا دیں۔
حوالہ جات
(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع1/ 300):
وأما بيان كيفية وجوبه، فهو واجب على سبيل الكفاية ،إذا قام به البعض سقط عن الباقين ؛لحصول المقصود بالبعض ،كسائر الواجبات على سبيل الكفاية، وكذا الواجب هو الغسل مرة واحدة، والتكرار سنة، وليس بواجب حتى لو اكتفى بغسلة واحدة، أو غمسة واحدة في ماء جار جاز؛ لأن الغسل إنما وجب لإزالة الحدث ،فقد حصل بالمرة الواحدة ،كما في غسل الجنابة.
(الدر المختار2/ 196):
ويبدأ بوجهه ويمسح رأسه (ويصب عليه ماء مغلى بسدر) ورق النبق (أو حرض) بضم فسكون الأشنان (إن تيسر، وإلا فماء خالص) مغلى (ويغسل رأسه ولحيته بالخطمي) نبت بالعراق (إن وجد وإلا فبالصابون ونحوه) هذا لو كان بهما شعر حتى لو كان أمرد أو أجرد لا يفعل(ويضجع على يساره) ليبدأ بيمينه (فيغسل حتى يصل الماء إلى ما يلي التخت منه ثم على يمينه كذلك ثم يجلس مسندا) بالبناء للمفعول (إليه ويمسح بطنه رفيقا وما خرج منه يغسله ثم) بعد إقعاده (يضجعه على شقه الأيسر ويغسله) وهذه غسلة (ثالثة) ليحصل المسنون (ويصب عليه الماء عند كل اضطجاع ثلاث مرات) لما مر (وإن زاد عليها أو نقص جاز) إذ الواجب مرة (ولا يعاد غسله ولا وضوءه بالخارج منه) لأن غسله ما وجب لرفع الحدث لبقائه بالموت بل لتنجسه بالموت كسائر الحيوانات الدموية إلا أن المسلم يطهر بالغسل كرامة له وقد حصل بحر وشرح مجمع.
(النهر :1/ 384):
قال في (الفتح): والأولى أن يغسل الأوليان بالسدر ومعلوم أن الواجب منهما مرة ويسن أن يصب عليه عند كل إضجاع ثلاثًا.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دا الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی
28/شعبان /6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


