03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکوٰۃکاحساب کرنے کا طریقہ
87986زکوة کابیانسونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام

سوال

زکوٰۃکا حساب  کرنے کا طریقہ بتائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب کسی شخص کے پاس قابلِ زکوٰۃ مال (جیسے نقد رقم، سونا، چاندی یا تجارتی سامان) اتنی مقدار میں آ جائے جو نصاب کے برابر ہو، یعنی اگر ایک سے زائد قسم کا مال ِزکٰوۃ ہو تو وہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہوگا، تو اس دن کی اسلامی تاریخ نوٹ کر لی جائے۔ یہی تاریخ زکوٰۃ کے سال کی ابتدا شمار ہو گی۔

جب اگلے اسلامی  سال کی وہی  تاریخ دوبارہ آئے، تو اُس دن جتنا بھی قابلِ زکوٰۃ مال موجود ہو، اس کی مکمل مالیت کا حساب لگایا جائے۔ اس میں سے واجب الادا قرض منہا کر لیا جائے۔ اگر باقی مالیت  اب بھی نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے، تو اس کل مالیت پر زکوٰۃ واجب ہے، اب  زکوٰۃ کا حساب کرنے کے لئے کل رقم  کو چالیس پہ تقسیم کر دیں، جو جواب آئے، اتنی زکوٰۃ ادا کرنا آپ  پر واجب  ہو گی ۔یہ یادرہے کہ نصاب پرجب سال شروع ہوجائے توسال مکمل ہونے سے پہلے کل یاتھوڑی تھوڑی زکوٰۃ نکالی جاسکتی ہے اورسال پوراہونے پرحساب لگالیاجائے اگرمکمل زکوٰۃ اداہوچکی  ہو توٹھیک ،ورنہ جتنی رہتی ہویاابھی کچھ بھی ادانہ کی ہو تواب زکوٰۃ کسی مستحق زکوٰۃ کواداکرنالازم ہوگا۔

حوالہ جات

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

12/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب