| 87987 | حج کے احکام ومسائل | جنایات حج کا بیان |
سوال
ایک شخص نے عمرہ کیا ،اس کے بعد وہ حلال نہیں ہوا تھا ۔اسے جدہ سے دوست لینے آئے ہوئے تھے۔اس کے دوستوں نے کہا کہ ابھی جلدی ہے تو گاڑی میں بیٹھ جاؤ،ہم مکہ سے باہر کہیں گاڑی روک لیں گے تو تم وہیں کپڑے بدل لینا ۔وہ ان کی بات مان کر ان کے ساتھ بیٹھ گیا اور موٹروے کی ایک مسجد میں رک کر اس نے حلق کروالیا ۔اسے کسی نے بتایا کہ اس طرح دم لازم ہوجاتا ہے۔ آپ سے پوچھنا ہے کہ کیا سچ میں اس شخص پر دم لازم ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگر اس شخص نے حلال ہوئے بغیر حدود ِحرم سے نکل کر حلق کروایا تو اس پر دم یعنی ایک بکری لازم ہوگی اور اگر حدود حرم کے اندر حلق کروایا تو دم نہیں ہے۔
حوالہ جات
(أو حلق في حل بحج) في أيام النحر، فلو بعدها فدمان (أو عمرة) لاختصاص الحلق بالحرم (لا) دم (في معتمر) خرج (ثم رجع من حل) إلى الحرم... (قوله أو حلق في حل بحج أو عمرة) أي يجب دم لو حلق للحج أو العمرة في الحل لتوقته بالمكان...(قوله لاختصاص الحلق) أي لهما بالحرم وللحج في أيام النحر ط (قوله خرج) أي من الحرم (قوله ثم رجع من حل) أي قبل أن يحلق أو يقصر في الحل. (الدر المختار مع رد المحتار:2/ 554)
(قوله: أو حلق في الحل) أي تجب شاة بتأخير النسك عن مكانه كما إذا خرج من الحرم وحلق رأسه سواء كان الحلق للحج أو للعمرة عند أبي حنيفة ومحمد.(البحر الرائق :3/ 26)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
12/محرم الحرام1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


