| 88347 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
مسئلہ یہ دریافت کرنا تھا کہ حسین بخش صاحب کا انتقال ہو گیا اور ان کے سات بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں، ان کی کل جائیدا دبارہ کروڑ دس لاکھ (121000000)روپے ہے، یہ جائیداد ان کے بچوں کے درمیان شریعیت کے مطابق کس طرح تقسیم ہو گئی، نیز یہ بھی وضاحت فرمادیں کہ میت کے مرنے کے کتنے دن بعد جائیداد کو شرعی طور پر تقسیم ہو جانا چاہیئے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ میراث کی تقسیم کے حوالے سے بہتر یہ ہے کہ انتقال کے بعد جتنا جلد ہوسکے مرنے والے کا مال اس کے ورثہ میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کردیا جائے،تاکہ ہر وارث کو اس کا شرعی حق مل جائے اور ایک دوسرے کے حقوق کی پامالی کا اندیشہ نہ رہے،البتہ اگر کسی معقول عذر کی وجہ سےتمام ورثہ باہمی رضامندی سے تقسیم کو مؤخر کرنا چاہتے ہوں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں،بشرطیکہ تمام ورثہ عاقل بالغ ہوں،کیونکہ نابالغ کی اجازت شرعاً معتبر نہیں ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق جب کل رقم 12کروڑ 10 لاکھ روپے (121,000,000) ہے تو ان کو سات بیٹوں اور پانچ بیٹیوں میں شرعی طریقے کے مطابق تقسیم کرنے کا اصول یہ ہے کہ بیٹے کا حصہ بیٹی سے دوگنا ہوگا۔ اس حساب سے ہر بیٹے کو 12736842.105 روپے ملیں گے، اور ہر بیٹی کو 6368421.052 روپے ملیں گے۔
ہر وارث کا عددی اور فیصدی حصہ درج ذیل نقشہ کی صورت میں ملاحظہ فرمائیں :
|
نمبرشمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیٹا |
12736842.105 |
10.526% |
|
2 |
بیٹا |
12736842.105 |
10.526% |
|
3 |
بیٹا |
12736842.105 |
10.526% |
|
4 |
بیٹا |
12736842.105 |
10.526% |
|
5 |
بیٹا |
12736842.105 |
10.526% |
|
6 |
بیٹا |
12736842.105 |
10.526% |
|
7 |
بیٹا |
12736842.105 |
10.526% |
|
8 |
بیٹی |
6368421.052 |
5.263% |
|
9 |
بیٹی |
6368421.052 |
5.263% |
|
10 |
بیٹی |
6368421.052 |
5.263% |
|
11 |
بیٹی |
6368421.052 |
5.263% |
|
12 |
بیٹی |
6368421.052 |
5.263% |
حوالہ جات
......
محمد ابراہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
14/صفر المظفر /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


