| 88513 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
میری ایک ماہ کی بیٹی ہے،اور میری بیوی اپنے والدین کے گھر رکی ہے۔اس کے گھر والےنہ مجھے بچی دیکھنے دیتے ہیں اور نہ ہی ملنے دیتے ہیں۔اس کے باوجود مجھ سے بیوی اور بچی کا خرچہ مانگ رہے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
باپ کو اپنی بیٹی سے ملاقات کرنے کا حق حاصل ہے ، اس سےروکنا شرعا ظلم اورناجائز ہے،تاہم بچی کا خرچہ بہر حال باپ کے ذمہ ہے۔بیوی اگر شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیراپنے میکے یا دوسری جگہ جائےتو اس کا خرچہ شوہر کے ذمہ نہیں۔
حوالہ جات
وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه بخلاف ما لو امتنعت عن التمكن في بيت الزوج لأن الاحتباس قائم حتى، ولو كان المنزل ملكها فمنعته من الدخول عليها لا نفقة لها إلا أن تكون سألته أن يحولها إلى منزله أو يكتري لها منزلا، وإذا تركت النشوز فلها النفقة.(الفتاوى الهندية:545/1)
(وتفرض) النفقة بأنواعها الثلاثة (لزوجة الغائب) مدة سفر صيرفية واستحسنه في البحر ولو مفقودا (وطفله) ومثله كبير زمن وأنثى مطلقا (قوله وطفله) أي الفقير الحر (قوله ومثله كبير زمن) المراد به الابن العاجز عن الكسب لمرض أو غيره كما سيأتي بيانه (قوله وأنثى مطلقا) أي ولو غير مريضة؛ لأن مجرد الأنوثة عجز.(الدر مع الرد:604/3)
إذا كان الولد عند الحاضنة، فلأبيه حق رؤيته، بأن تخرج الصغير إلى مكان يمكن الأب أن يراه فيه كل يوم.(الفقه الإسلامي: 7320/10)
انس رشید ولد ہارون رشید
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
08/ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | انس رشید ولد ہارون رشید | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


