03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امام مسجدایک ماہ میں کتنی چھٹیاں کرسکتاہے؟
88670وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

امام مسجد ایک ماہ کے دوران کتنی چھٹیاں کرسکتاہے؟ برائے کرم اس بارے میں بھی ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت میں امام کی چھٹیوں کی کوئی خاص تعداد مقرر نہیں ہے،مگر انتظامی لحاظ سے ایسا متوازن نظام بنایا جا سکتا ہے جس میں نہ امام پر زیادتی ہو اور نہ مسجد کی خدمت میں خلل آئے۔

تجربہ کے لحاظ سے مناسب ضابطہ یہ ہے:

١۔ہفتہ وار ایک چھٹی (مثلاً پیر یا منگل) جس دن امام کو آرام یا اپنے ذاتی و خاندانی امور نمٹانے کی اجازت ہو۔ اس دن جماعت کے لیے نائب امام یا مؤذن کو متعین کیا جائے۔

۲۔ماہانہ چھٹیاں: عمومی طور پر چار چھٹیاں ماہانہ مناسب سمجھی جاتی ہیں یعنی ایک ہفتے میں ایک دن کی چھٹی۔

۳۔ اضافی چھٹیاں (عذر کی صورت میں :اگر امام بیمار ہو جائے، سفر پر جانا پڑے، یا کوئی مجبوری  پیش آئے  تو  انتظامیہ کو پیشگی  اطلاع دے کر چند دن (۲ تا ۵ دن) اضافی رخصت  لی جاسکتی ہے۔

۴۔عید یا رمضان جیسے ایام میں کچھ چھٹیاں اگرچہ کم رکھی جائیں،کیونکہ یہ امام کی سب سے اہم مصروفیات کے ایام ہیں۔

یادرہے کہ یہ تعین معاشرے کی عمومی رجحان کو دیکھ کر بطورتجربہ  کیاگیاہے،ورنہ تو امام اورانتظامیہ اس سے ہٹ کر بھی امام کی سہوت کو سامنے رکھتےہوئےچھٹیوں کی تعداد طے کرسکتے ہیں۔

حوالہ جات

وینبغي إلحاقہ ببطالۃ القاضي، واختلفوا فیہا، والأصح أنہ یأخذ؛ لأنہا للاستراحۃ۔ وفي الشامي بحثًا: فحیث کانت البطالۃ معروفۃ في یوم الثلاثاء والجمعۃ وفي رمضان والعیدین یحل الأخذ۔ (شامي، کتاب الوقف / مطلب في استحقاق القاضي والمدرس الوظیفۃ في یوم البطالۃ ۴؍۳۷۲ کراچی، ۶؍۵۶۷-۵۶۸ زکریا)ومنہا البطالۃ في المدارس کأیام الأعیاد ویوم عاشوراء وشہر رمضان في درس الفقہ، لم أرہا صریحۃً في کلامہم، والمسئلۃ علی وجہین: فإن کانت مشروطۃً لم یسقط من المعلوم شيئٌ، وإلا فینبغي أن یلحق ببطالۃ القاضي، وقد اختلفوا في أخذ القاضي ما رُتِّب لہ … في یوم بطالتہ، فقال في المحیط: إنہ یأخذ في یوم البطالۃ۔ (شرح الأشباہ والنظائر، الفن الأول في القواعد / القاعدۃ السادسۃ ۱؍۲۷۲ إدارۃ القرآن کراچی، وکذا في الدر المختار، کتاب الوقف / مطلب في استحقاق القاضي والمدرس

في «فتاوى محمودية» جاء ما نصه:

«قد جعلت الشريعةُ للطرفينِ الاختيارَ في أن يتفقا برضاهما على عددِ الأيّام التي تكون الإجازةُ فيها بلا راتبٍ، وعددِ الأيّام التي تكون فيها مع الراتب، ولم تُلزِمْهما بأمرٍ خاصٍّ».(كتاب الوقف، ج ٢٣، ص ٢٨٨، طبع: دار الفاروقية)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

20/ربیع الثانی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب