03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مغرب کی اذان اورجماعت کے درمیان وقفے کا حکم
88667نماز کا بیاننماز کے فرائض و واجبات کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

مغرب کی اذان اورنمازکے درمیان اب دیوبندمسلک کی مساجد میں بھی دو سے پانچ منٹ تک وقفہ کیاجاتاہے،یہ تاخیرکرنا کیساہے؟نیزافضل صورت کونسی ہے،وفقہ کرنایابلا وقفہ نماز ادا کرنا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اذانِ مغرب اورجماعت کے درمیان وقفہ کرنے میں یہ تفصیل ہے کہ اذانِ مغرب کے بعد جماعت میں تأخیر کرنے کے تین درجات ہیں ۔

(الف):ایک درجہ یہ ہے کہ اذان واقامت کے درمیان دور کعت سے کم تأخیر ہو،یہ بلاکراہت جائز ہے ۔

(ب):دوسرا یہ کہ دورکعتوں کے برابر یا اس سے زیادہ مگر ستاروں کے ظاہرہونے  سے پہلے تک تأخیرہو،یہ مکروہِ تنزیہی ہے ۔

(ج): تیسرا درجہ یہ ہے کہ اس قدرتأخیر کی جائے کہ ستارے ظاہر ہوجائیں ،ایسی تأخیر مکروہ ِتحریمی یعنی ناجائز ہے۔

 انسان اگراطمینان اورسکونِ قلب کےساتھ نمازپڑھےگاتودو رکعتوں کےلئے کم وبیش تین منٹ درکار ہوں گے؛لہذااذانِ مغرب کےبعد چارسے پانچ منٹ کا وقفہ دوسرے درجہ میں داخل ہونے کی وجہ سے مکروہِ تنزیہی ہوگا،لیکن تین منٹ تک وقفہ دینے کی گنجائش ہوگی،خاص طور پر جبکہ اس سے مقصود تکثیر جماعت ہوکیونکہ تکثیرِ جماعت میں نمازیوں کی کثرت بذاتِ خود مقصود ِشرعی ہے جیسےکہ اسی مقصد کےلیے رمضان المبارک میں فجرکی نماز غلس(اندھیرے) میں نماز ادا کی جاتی ہے۔

اگرکہیں سارے لوگ چست ہوں،اوربروقت مغرب کی جماعت میں پہنچنے کا اہتمام کرتے ہوں تو بلاشبہ ان کے حق میں تو وفقہ نہ کرنا افضل ہوگا،لیکن اگرلوگوں میں سستی ہوجیسےکہ آج عام ہے تو پھر تکثیرِجماعت کی خاطر وقفہ کرلینا بہترمعلوم ہوتاہے۔

حوالہ جات

وفی الدر المختار و رد المحتار) (1/ 369)

 تعجيل (مغرب مطلقا) وتأخيره قدر ركعتين يكره تنزيها.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 369)

قوله: يكره تنزيها) أفاد أن المراد بالتعجيل أن لا يفصل بين الأذان والإقامة بغير جلسة أو سكتة على

الخلاف. وأن ما في القنية من استثناء التأخير القليل محمول على ما دون الركعتين، وأن الزائد على القليل إلى اشتباك النجوم مكروه تنزيها، وما بعده تحريما إلا بعذر كما مر.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

20/ربیع الثانی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب