| 88683 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
السلام علیکم مفتی صاحب! میرے والد صاحب جب ملازمت سے ریٹائر ہوئے تو انہیں پینشن کے علاوہ یکمشت رقم بھی ملی۔ اس رقم پر ایک سال گزر گیا۔ اس دوران ہم نے اس رقم کا کچھ حصہ قرضوں کی ادائیگی میں اور کچھ حصہ گھر کی ضروریات پوری کرنے میں استعمال کیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اب زکوٰۃ اس کل رقم کے حساب سے ادا کی جائے گی جو ریٹائرمنٹ کے وقت ملی تھی، یا موجودہ بچی ہوئی رقم کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے والد صاحب اس رقم ملنے کے بعد صاحب نصاب بنے ہیں،لہذا قمری سال پورا ہونے کے بعد قرضہ و غیرہ منہا کر نے کے بعد اگر باقی ماندہ رقم نصاب کو پہنچے تو اس پر زکاۃ فرض ہوگی ۔یاد رہے کہ زکا ۃکے سال کے اختتام پر جو مال موجود ہوتاہے ،اس پر زکاۃ ادا کرنی ہوتی ہے۔
حوالہ جات
في الدر المختار(3/233)دارالكتب العلمية:(وشرط كمال النصاب)ولوسائمة(في طرفي الحول)في الابتداء للانعقاد و في الانتهاء للوجوب(فلايضر نقصانه بينهما)فلو هلك كله بطل الحول.
وفی الهندية(193/1)دارالكتب العلمية:و من كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله و زكاه ،سواء كان المستفاد من نمائه أو لا،وبأي وجه استفاد ضمّه.
وفي القدوري(57/1):إذا كان النصاب كاملا في طرفي الحول،فنقصانه فيما بين ذلك لايسقط الزكاة
احسان اللہ گل محمد
دار الافتاء جامعۃ الرشید
19ربیع الثانی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


