| 85047 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
زید اگر جائیداد میں صرف بیٹوں کو حصہ دے، اور ایک بیٹی کو اس کے مطالبے پر کچھ حصہ دے، جبکہ دوسری بیٹی کو محروم کردے، تو کیا اس کا شوہر شرعا یا بذریعہ عدالت اپنی بیوی کے حصے کا مطالبہ کر سکتا ہے؟ زید کو سمجھانے کے لیے کیا صورت اختیار کی جائے؟
تنقیح:جس بیٹی کو حصہ دیاگیا ہے وہ بھی باقاعدہ ملکیت نہیں، بلکہ ایک بھائی کی دکان کا نفع بہن کی حیات تک ان کے لیے خاص کیا گیا ہے، بہن کے انتقال کے بعد اس میں میراث جاری نہیں ہوگی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زید اگر اپنی زندگی میں صرف اپنے بیٹوں کو جائیداد میں حصہ دے اور بیٹیوں کو محروم کر دے، یہ ایک والد کی طرف سے غیر منصفانہ تقسیم ہے جو کہ ایک سنگین گناہ ہے،لیکن اگر بیٹوں نے اپنا حصہ قبول کر لیا ،اور انہیں قبضہ بھی دے دیا گیا ہے تو وہ مالک بن جائیں گے ۔ چونکہ والد نے اپنے حصے میں اپنی ملکیت میں تصرف کیا ہے، لہذا اب بیٹی یا اس کے شوہر کو مطالبے کا حق نہیں ہے۔ والد کو چاہیے کہ جائیداد میں سے بیٹیوں کا حق ان کو دے دیں۔اگر وہ از خود ایسا نہیں کر رہے ،یا ان کے پاس اتنی وسعت نہیں کہ بیٹیوں کو ان کا حق ادا کر دیا جائے ،تو والد کو گناہ سے بچانے کے لیے بیٹوں کو چاہئےکہ قبضہ کی ہوئی زمین میں سے اپنی بہنوں کا حصہ الگ کر کے ان کو دے دیں ۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 288):
يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط۔۔۔۔ وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة ۔
محمد سعد ذاكر
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
16/ربیع الثانی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعد ذاکر بن ذاکر حسین | مفتیان | سعید احمد حسن صاحب / مفتی محمد صاحب |


