03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کا بیٹوں کے مال میں استحقاق
89975ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

ایک شخص نے اپنی پوری جائیداد اپنی زندگی ہی میں اپنے چھ بیٹوں کے درمیان تقسیم کر دی، حتیٰ کہ رہائشی مکان بھی فروخت کر کے اس کی مالیت  سب بیٹوں میں برابر تقسیم کر دی۔ اس تقسیم کے بعد اس نے اپنے لیے اور اپنی اہلیہ کے لیے کوئی مال محفوظ نہیں رکھا۔ اب وہ اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کے ساتھ رہائش پذیر ہے، جبکہ باقی تمام بیٹے الگ الگ اپنے کاروبار میں مصروف ہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ وضاحت مطلوب ہے کہ کیا والدین کا اپنیے بیٹوں کے مال میں شرعی طور پر کوئی حق بنتا ہے یا نہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

           اسلام میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔ اگر والدین تنگ دست ہوں تو ان کا نفقہ اولاد کے ذمے شرعا لازم ہوتا ہے، اور اگر وہ مالدار ہوں تو اولاد پر ان کا نفقہ واجب نہیں۔                          مذکورہ صورت میں والد نے جب اپنی جائیداد اپنی زندگی میں بیٹوں کو دے دی، تو وہ جائیداد بیٹوں کی ملکیت بن گئی، لہذا اب والد اس میں رجوع نہیں کر سکتا۔ تاہم اگر والدین ضرورت مند ہوں تو وہ بقدرحاجت اپنی اولاد کے مال میں سے لے سکتے ہیں۔

حوالہ جات

كتاب اللآثار للإمام محمد  766:

إذا كان محتاجاً أن يأكل من مال ابنه”'بالمعروف» فإن كان غنیا فأخذ منه شيئا فهو      دين عليه؛ وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالی.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 30):

وروي عن جابر بن عبد الله - رضي الله عنه - أن «رجلًا جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه أبوه، فقال: يا رسول الله إن لي مالًا، وإن لي أبًا وله مال، وإن أبي يريد أن يأخذ مالي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أنت ومالك لأبيك»، أضاف مال الابن إلى الأب؛ فاللام للتمليك، وظاهره يقتضي أن يكون للأب في مال ابنه حقيقة الملك، فإن لم تثبت الحقيقة فلاأقل من أن يثبت له حق التمليك عند الحاجة.

أعلاء السنن_321:11/

 عن قیس بن أبی حازم جاء رجل إلی أبی بکر الصدیقؓ فقال: إن أبی یرید أن یأخذ مالی کله لحاجة، فقال لأبیه: إنما لك من ماله مایکفیك، فقال: یا خلیفة رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم ألیس قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم: أنت ومالك لأبیك؟ فقال نعم وإنما یعنی بذلك النفقة ارض بما رضی اللہ عزوجل رواہ الطبرانی فی الاوسط والبیهقی قلت: قولهﷺ ’’أنت ومالك لأبیك‘‘ معنه ما فی الحدیث عائشةؓ أی إذا احتاج الأب إلی ماله فله أن یأخذ منه بقدر الحاجة من غیر اسراف وھٰذا ھو مذھب الحنفیة فی الباب، وقد فسره بذلك ابوبکر رضی اللہ عنه وکفیٰ به مفسراً . واللہ تعالی اعلم.

المحيط البرهاني (3/ 577):

قال: ويجبر الرجل الموسر على نفقة أبيه وعلى نفقة أمه. وإذا كانا محتاجين لقوله تعالى: {ووصينا الإنسان بوالديه حسنا} . (العنكبوت: 8) فقد أوجب على الولد الإحسان لوالديه، ورأس الإحسان بوالديه إحيائهما، وذلك بالإنفاق عليهما، وقال عليه السلام: «إن أطيب ما يأكل الرجل من كسبه وإن ولده لمن (315ب1) كسبه، كلوا من كسب أولادكم إذا احتجتم إليه بالمعروف» ولأن للأب في مال الابن حق الملك، قال عليه السلام: «أنت ومالك لأبيك» وله كان له فيه حقيقة الملك كانت نفقته في ماله، فكذا إذا كان له حق الملك، إلا أنه إنما يجب عليه إنفاقهما إذا كان موسرا؛ لأن نفقة الأقارب صلة محضة.

اسفندیارخان بن عابد الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

22/ شعبان المعظم /1447ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسفندیار خان بن عابد الرحمان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب