03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
 غیرشرعی امورپرمشتمل  آن لائن کام  کرنا
89093اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

سوال : ایسی آن لائن نوکریاں جن میں غیر شرعی یا مشکوک نوعیت کا مواد تیار کرنے کو کہا جائے (مثلاً فحش مواد، جوا، سودی ادارے کی ویب سائٹ ڈیزائننگ)، ان سے حاصل شدہ آمدنی کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آن لائن میں غیرشرعی مواد تیارکرناشرعاجائزنہیں ،سوال میں ذکرکردہ  تمام صورتوں میں آن لائن یہ کام کرنابھی جائزنہیں ہوگا،اور ان سےحاصل شدہ آمدنی بھی حلال نہ ہوگی۔

اگر آن لائن میں تمام کام  اسی طرح کےہیں تویہ تمام کام چھوڑکردوسراکوئی کام تلاش کیاجائےاوراگردیگر کاموں کےساتھ ساتھ یہ کام بھی ہیں،اوردیگرزیادہ کام حلا ل ہیں تو ایسی صورت میں ناجائزکاموں کی حاصل شدہ آمدنی کےبقدر رقم بلانیت ثواب صدقہ کرنا ضروری ہوگا،اگرچہ ناجائزکاموں کا چھوڑنا اپنی جگہ لازم ہوگا۔

حوالہ جات

"فقہ البیوع "2 /  1032:

امااذاکان الحلال مخلوطا بالحرام دون تمییز احدھمابالآخر فانہ لاعبرۃ بالغلبۃ فی ھذہ الحالۃ فی مذھب الحنفیۃ ،بل یحل الانتفاع من المخلوط بقدرالحلال سواء أکان الحلال قلیلاام کثیرا۔

"المبسوط لشمس الدين السرسخي" 3 / 389:

(وحجتنا) في ذلك ان الحكم للغالب وإذا كان الغالب هوالحرام كان الكل حراما في وجوب الاجتناب عنها في حالة الاختياروهذا لانه لو تناول شيئا منها انما يتناول بغالب الرأى وجواز العمل بغالب الرأى للضرورة ولا ضرورة في حالة الاختيار بخلاف مااذا كان الغالب الحلال فان حل التناول هناك ليس بغالب الرأى كما قررنا وكذلك ان كانا متساويين لان عند المساواة يغلب الحرام شرعا قال صلى الله عليه وسلم ما اجتمع الحرام والحلال في شئ الاغلب الحرام الحلال۔

محمد بن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

25/جمادی الاولی 1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب