| 88917 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری مسجد، جو کہ سیکٹر ایف-7 مرکز اسلام آباد میں واقع ہے، محکمہ اوقاف اور سی ڈی اے (Capital Development Authority) کے تصرف میں ہے۔ مسجد کے چاروں طرف کچھ خالی زمین موجود ہے جو اگرچہ مسجد کے پلاٹ میں شامل ہے، مگر احاطۂ تعمیر سے باہر ہے۔ اس زمین پر محکمہ کی طرف سے دو مکانات تعمیر کیے گئے ہیں: ایک خطیب صاحب کے لیے اور دوسرا مؤذن صاحب کے لیے۔
مسجد کے اسی پلاٹ پر ایک چھوٹا سا مدرسہ بھی قائم ہے جو کہ باقاعدہ سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہے۔مزید یہ کہ محراب کے آگے، دائیں اور بائیں اطراف میں بھی کچھ خالی جگہ موجود ہے جو فی الحال مسجد کی ضروریات سے زائد ہے۔
اب سوال یہ ہے کیا اس خالی جگہ پر مسجد کے خادم وغیرہ کے لیے ضرورت کے تحت ایک چھوٹا سا مکان تعمیر کرنا بغیر متعلقہ محکمہ (اوقاف یا سی ڈی اے) کی اجازت کے شرعاً درست ہوگا؟ (خصوصاً اس صورت میں کہ مسجد اگرچہ سرکاری ہے، مگر اس کے اخراجات سرکاربرداشت نہیں کرتی۔)اگر اس مکان کی تعمیر میں مسجد کے فنڈ سے رقم استعمال کی جائے، تو اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟ جبکہ یہ اندیشہ بھی ہے کہ اگر سی ڈی اے کو اطلاع ہو جائے تو وہ تعمیر روک دے گا۔
اگر مسجد کی کمیٹی اس مکان کو عارضی طور پر تعمیر کرائے اور طے کرے کہ جب مسجد کو اس جگہ کی ضرورت ہوگی تو اسے منہدم کر دیا جائے گا تو کیا یہ صورت جائز ہوگی؟اور اگر خادمِ مسجد کو یہ اجازت دی جائے کہ وہ اپنے ذاتی خرچ سے وہاں عارضی طور پر مکان بنا لے، اور مسجد کے فنڈ سے کوئی رقم استعمال نہ کرے تو کیا یہ صورت شرعاً درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اگر کسی جگہ کو بطورِ مسجد وقف کر دیا جائے، اور اس کی حدود متعین کر کے اس جگہ کو نماز کے لیے مخصوص کر دیا جائے، تو وہ زمین شرعاً قیامت تک کے لیے مسجد بن جاتی ہے۔ ایسی زمین پر مسجد کے علاوہ کسی اور غرض سے کوئی تعمیر یا تصرف جائز نہیں ہوتا۔البتہ اگر کسی زمین کو مسجد اور مصالحِ مسجد ( مسجد کی ضروریات) کے لیے وقف کیا گیا ہو، اور ابھی تک اس کے کسی حصے کو نماز کے لیے باقاعدہ طور پر متعین نہ کیا گیا ہو، تو ایسی صورت میں متولی یا متعلقہ محکمہ کی اجازت سے اس زمین کے کسی حصے پر باتھ روم، وضوخانہ یا امام صاحب کے لیے رہائش گاہ وغیرہ تعمیر کرنا جائز ہے، کیونکہ یہ امور مصالحِ مسجد میں شمار ہوتے ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکورہ مسجد محکمہ اوقاف کے زیرِ تصرف ہے، اس لیے مسجد کے اطراف میں خالی جگہ پر محکمہ کی اجازت کے بغیر خادم کے لیے مکان بنانا شرعاً جائز نہیں ہے۔اسی طرح اس مکان کی تعمیر میں مسجد کے فنڈ سے پیسے خرچ کرنا بھی جائز نہیں، کیونکہ مسجد کا مال صرف اُن کاموں میں صرف کیا جا سکتا ہے جو براہِ راست مسجد کی ضروریات سے متعلق ہوں۔
اگرمسجد کےخادم کے لئے کسی تعمیر کی ضرورت ہے تو متعلقہ محکمہ سے باقاعدہ اجازت لیکر وہاں تعمیر کی جاسکتی ہے۔
حوالہ جات
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (5/ 271):
«لو بنى بيتا على سطح المسجد لسكنى الإمام فإنه لا يضر في كونه مسجدا لأنه من المصالح فإن قلت: لو جعل مسجدا ثم أراد أن يبني فوقه بيتا للإمام أو غيره هل له ذلك قلت: قال في التتارخانية إذا بنى مسجدا وبنى غرفة وهو في يده فله ذلك وإن كان حين بناه خلى بينه وبين الناس ثم جاء بعد ذلك يبني لا يتركه وفي جامع الفتوى إذا قال عنيت ذلك فإنه لا يصدق. اهـ.»
«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص372):
«نهر (ويبدأ من غلته بعمارته)ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح، وتمامه في البحر (وإن لم يشترط الوقف) لثبوته اقتضاء وتقطع الجهات للعمارة إن لم يخف ضرر بين.
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (2/ 463):
«الفاضل من وقف المسجد هل يصرف إلى الفقراء؟ قيل: لا يصرف وأنه صحيح ولكن يشتري به مستغلا للمسجد، كذا في المحيط سئل القاضي الإمام شمس الإسلام محمود الأوزجندي - رحمه الله تعالى - عن أهل المسجد تصرفوا في أوقاف المسجد يعني آجروا المستغل وله متول، قال: لا يصح تصرفهم ولكن الحاكم يمضي ما فيه مصلحةالمسجد»
محمد ابرہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
05/جمادی الاولی /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


