| 66680 | زکوة کابیان | معدنیات اور دفینوں میں زکوة کے احکام |
سوال
کرومائیٹ جو معدنیات میں سے ہے، یہ بھی بظاہر عشر کی طرح ہی ہے، کیونکہ جیسے اس کی زمین ٹھیکہ پر دے دی جاتی ہے (اورزمین سے نکلنے والے کرومائیٹ کے چار حصے ٹھیکیدار اور ایک حصہ مالک کو ملتا ہے) اسی طرح اجارہ کی زمین میں ہوتا ہے اور مستاجرہ زمین کا عشر مستاجر پر واجب کیا گیا ہے، اسی طرح مستاجرہ زمین کا خمس بھی ٹھیکہ دار کے ذمہ ہونا چاہیے،سوال یہ ہے کہ کرومائیٹ کا خمس کس کے ذمہ واجب ہو گا؟ مالک زمین پر یا ٹھیکیدار پر؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ٹھیکہ پر دی گئی کان (کرومائیٹ نکلنے کی جگہ) سے نکلنے والے کرومائیٹ کو مستاجرہ زمین کی پیداوار پر قیاس کرنا درست نہیں، کیونکہ مستاجرہ زمین کی پیداوار صرف مستاجر یعنی ٹھیکیدار کو حاصل ہوتی ہے، مالکِ زمین صرف نقد رقم وصول کرتا ہے اور عشر کا تعلق چونکہ پیداوار سے ہوتا ہے، اس لیے عام حالات میں عشر مستاجر کے ذمہ واجب ہو گا۔ جبکہ کان سے نکلنے والی کرومائیٹ ٹھیکہ دار اور مالک دونوں حاصل کرتے ہیں، لہذا کرومائیٹ کی مذکورہ صورت کو مستاجرہ زمین کی بجائے مزارعت پر قیاس کرنا چاہیے، کیونکہ جس طرح مزارعت میں دونوں فریق پیداوار حاصل کرتے ہیں اور اس میں عشر بھی دونوں پر اپنے اپنے حصے کے مطابق واجب ہوتا ہے، خواہ دونوں کو برابر پیداوار حاصل ہو یا کمی بیشی کے ساتھ۔ اسی طرح صورتِ مسئولہ میں بھی کرومائیٹ دونوں فریق (مالکِ زمین اور ٹھیکیدار) حاصل کرتے ہیں اور خمس پیداوار میں واجب ہوتا ہے، اس لیے خمس بھی ہر فریق پر اپنے حصہ کے تناسب سے واجب ہو گا، حصوں کے تناسب میں کمی بیشی سے حکم میں فرق نہیں آئے گا۔
حوالہ جات
النتف في الفتاوى للسغدي (1/ 179):
وجود المعدن على ثلاثة أوجه: احدها ان يجده في داره والثاني في دار غيره والثالث ان يجده في أرض لا ملك لاحد فيها فأما اذا وجده في داره ففي قول ابي حنيفة لا شيء فيه وما يجده فهو له لانه ملكه ولان الامام لا حق له في داره ولا للمسلمين.
الفتاوى الهندية (1/ 185) دارالفکر، بیروت:
وأما المائع كالقير والنفط والملح، وما ليس بمنطبع، ولا مائع كالنورة والجص والجواهر واليواقيت فلا شيء فيها كذا في التهذيب. ويجب الخمس في الزئبق كذا في محيط السرخسي، ولا يجب فيما وجد في داره، وأرضه من المعدن عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وقالا يجب كذا في التبيين. ومن وجد كنزا في دار الإسلام في أرض غير مملوكة كالفلاة فإن كان على ضرب أهل الإسلام كالمكتوب عليه كلمة الشهادة فهو بمنزلة اللقطة، وإن كان على ضرب أهل الجاهلية كالدراهم المنقوش عليها الصليب والصنم ففيه الخمس، وأربعة أخماسه للواجد كذا في محيط السرخسي ولو اشتبه الضرب بأن لم يكن فيه شيء من العلامات يجعل جاهليا في ظاهر المذهب كذا في الكافي. ويستوي أن يكون الواجد صغيرا
أو كبيرا حرا أو عبدا مسلما أو ذميا، وإن كان حربيا مستأمنا لا يعطى له شيء إلا أن يكون الحربي عمل بإذن الإمام وشرطه، ومقاطعته فعليه أن يفي بالشرط كذا في المحيط. وإن وجد في أرض مملوكة اتفقوا جميعا على وجوب الخمس فيه واختلفوا في أربعة أخماسه قال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - هي لصاحب الخطة كذا في شرح الطحاوي.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 335):
ي البدائع من أن المزارعة جائزة عندهما والعشر يجب في الخارج والخارج بينهما فيجب العشر عليهما اهـ
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
23/ذوالقعده 1440ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


