03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گرووے گلوبل (Grow Way Global) ملٹی لیول یا نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنی کا حکم
89750جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میں Grow way global کے ساتھ آن لائن کام کر رہی ہوں۔ اس کام میں سب سے پہلے ہماری دو ماسٹرکلاس ہوئیں، ٹیسٹ وغیرہ ہوا اور پھر کمپنی کے ساتھ منسلک ہونے کے لیے میں نے آئی ڈی خرید ی۔ آئی ڈی خریدنے کے لیے مختلف بنڈل ہوتے ہیں جیسے 12,500، 25,000، 50,000 اور 100,000 روپے۔ اگر کوئی 25,000 یا 50,000 روپے سے جوائننگ کرتا ہے تو وہ ڈائریکٹ منیجر کے ساتھ بزنس شروع کرتا ہے اور اگر 100,000 روپے سے جوائننگ کرے تو سینیئر منیجر کے ساتھ شروع کرتا ہے۔

میں نے 12,500 روپے کمپنی کو ادا کیے، جس کے بعد کمپنی نے مجھے ویب سائٹ دی جس میں میں نے اپنی آئی ڈی بنائی اور 12,000 روپے کے مصنوعات کا آرڈر کیا اور 500 روپے ڈیلیوری چارجز لیے۔ کمپنی میں سکن کئیر، فیس واش، شیمپو، باڈی واش، کریمز کی مصنوعات ہیں جن کی ہمیں تشہیر کرنی ہے۔ میرا جو آرڈر تھا وہ مجھے جمعہ (26 دسمبر 2015) کو مل گیا۔ کمپنی ہمیں کام کرنا بھی سکھائے گی، جیسے لیڈ جنریشن، سیلز ٹیم بنانا وغیرہ۔ کمپنی میں ہم اپنی سیلز ٹیم بھی بنا سکتے ہیں جس سے میں اور میری ٹیم سیلز کریں گی۔ کمپنی میں پیسو انکم کا بھی تصور ہے۔ اب اگر میں اپنی کمپنی کی مصنوعات اور سروسز کی تشہیر کروں تو اگر کوئی شخص میرے لنک کے ذریعے کمپنی سے مصنوعات خریدتا ہے تو مجھے اس پر 40 فیصد کمیشن ملے گااور اگر کوئی شخص مجھ سے میرے کام کے بارے میں پوچھتا ہے یا کہتا ہے کہ مجھے بھی اس کمپنی میں آن لائن کام کرنا ہے تو میں وقت طے کر کے اسے کال کروں گی اور کمپنی کے بارے میں بتاؤں گی، پھر اس کا ٹیسٹ وغیرہ بھی ہوگا اور اگر وہ منتخب ہو جاتا ہے اور میرے لنک کے ذریعے کمپنی سے جوائن ہو کر آئی ڈی خریدتا ہے تو مجھے اس کا 40 فیصد کمیشن ملے گا۔ سوشل میڈیا پر میں مصنوعات کی تشہیر کروں گی۔ وہ مصنوعات میرے پاس موجود نہیں ہیں، انہیں کسٹمر کو ویب سائٹ سے خریدنا ہوگا۔ پیکجنگ، ڈیلیوری سب کمپنی کرے گی، مجھے صرف تشہیر کرنی ہے۔ 12,500 اور 25,000 روپے سے ہم کنسلٹنٹ سے بزنس شروع کر سکتے ہیں۔ کوئی بھی نیا جوائنر آتا ہے تو اس کے لیے ویب سائٹ ہے، جس پر اسے آئی ڈی خریدنا ضروری ہے تب جا کر اسے مصنوعات ملیں گی۔پوچھنا یہ تھا کہ کیا یہ کام حلال ہے یا حرام؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکرکردہ تفصیلات کے مطابق مذکورہ صورت ملٹی لیول یا نیٹ ورک مارکیٹنگ کی ایک شکل ہے،اور یہ چار وجوہ سے ناجائز ہے۔

۱۔پہلی وجہ یہ ہے کہ شرعاًایک معاملے کو دوسرے معاملے کے ساتھ مشروط کرنا جائز نہیں ہے اور اس سے معاملہ فاسد ہو جاتا ہے، ملٹی لیول مارکیٹنگ میں  لوگوں کو چیز فروخت کروا کر کمیشن لینا، اجارے (ملازمت) کے تحت آتا ہے، جسے پراڈکٹس کی خریداری کے ساتھ مشروط کر دیا جاتا ہے۔ اگر پراڈکٹس نہیں خریدی گئیں تو دوسروں کو خریداری کروا کر کمیشن کا حق بھی نہیں ہوگا۔  یوں ایک عقد (معاملے) میں دوسرا عقد جمع کیا جاتا ہے جو شرعاً ناجائز ہے۔

۲۔دوسری وجہ یہ ہے کہ بغیر عمل کے اجرت کا ملنا یاایک ہی مرتبہ کے عمل کے نتیجے میں بار بار اجرت کا ملنا جائز نہیں ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ  مذکورہ کاروبار میں جب کوئی شخص پہلا ممبر بناتا ہے اور وہ ممبر مزید آگے ممبرز بناتا ہے تو ان آگے والے ممبران کی لین دین میں اس شخص کا کوئی ایسا عمل نہیں ہوتا ،جس کا تعلق براہ راست کمپنی اور خریدار کے لین دین سے ہو، ایسی صورت میں یہ شخص جو اجرت لیتا ہے، وہ بغیر کسی عمل کے ہوتی ہےیا ابتدا میں بنائے گئے ممبر کے عمل کے نتیجے میں بار بار اجرت ملتی ہے اور ان دونوں صورتوں میں اجرت جائز نہیں ہے۔

۳۔تیسری وجہ قمار یعنی جوے کا ہونا ہے اور جوا،ناجائز ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ مذکورہ کاروبار میں شامل ہونے والے لوگ نیٹ ورک بنانے کے مقصد سے شامل ہوتے ہیں اور پراڈکٹ خریدنے سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ آگے چل کر زیادہ سے زیادہ ممبران بنائیں تو ان کا کمیشن حاصل ہو، لہٰذا یہ رقم پراڈکٹ خریدنے کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے کام کے لیے لگائی جاتی ہے، جس کام کا ہونا یا نہ ہونا ، دونوں ممکن ہوتے ہیں، اگر کام ہو گیا (یعنی ممبر بن گئے) تو کمیشن کی صورت میں نفع ہو جائے گا اور ممبر نہ بن سکے تو یہ رقم بھی ڈوب جائے گی،چونکہ معاملات میں مقاصد کا اعتبار ہوتا ہے،تو مقصد کو دیکھتے ہوئے یہ معاملہ شرعاً قمار (جوے) کے تحت آتا ہے،جوکہ ناجائز ہے۔

۴۔عدم جواز کی چوتھی وجہ حق مجرد کی بیع ہونا ہے،جس کی تفصیل یہ ہےکہ مذکورہ کاروبار میں پراڈکٹس کی خریداری کا مقصد پراڈکٹس نہیں ہوتیں بلکہ نیٹ ورکنگ کا حق حاصل کرنا ہوتا ہے، لہٰذا یہ نیٹ ورکنگ کے حق کی خرید وفروخت ہوتی ہے، نیٹ ورکنگ کا عمل اجارہ کے تحت آتا ہے ، اس کی بیع حق اجارہ کی بیع ہے جو ایک  حق مجرد ہے اور حق مجرد کی بیع جائز نہیں ہے۔

جواب کا خلاصہ یہ ہوا کہ نیٹ ورک مارکیٹنگ یا ملٹی لیول مارکیٹنگ کے نام سے رائج کاروبار کی مختلف اسکیمیں یا کسی اور نام سے مذکورہ کاروبار  کی طرح کی رائج اسکیمیں مذکورہ خرابیوں کی وجہ سے ناجائز ہے،لہٰذا اس طرح کی کاروباری اسکیمیں شروع کرنا یا اس کاحصہ بننا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

(وكذلك لو باع عبدا على أن يستخدمه البائع شهرا، أو دارا على أن يسكنها شهرا، أو على أن يقرضه المشتري دراهم، أو على أن يهدي له هدية) فالبيع فاسد۔۔۔ وقد نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن صفقتين في صفقة ونهى عن بيع وشرط عن شرطين في بيع وعن بيع وسلف وعن ربح ما لم يضمن وعن بيع ما لم يقبض وعن بيع ما ليس عند الإنسان ، أما بيع وشرط فهو أن يبيع بشرط فيه منفعة لأحد المتعاقدين وأما نهيه عن شرطين في بيع فهو أن يبيع عبدا بألف إلى سنة، أو بألف وخمسمائة إلى سنتين ولم يثبت العقد على أحدهما، أو يقول: على إن أعطيتني الثمن حالا فبألف، وإن أخرته إلى شهر فبألفين، أو أبيعك بقفيز حنطة، أو بقفيزي شعير فهذا لا يجوز. لأن الثمن مجهول عند العقد ولا يدري البائع أي الثمنين يلزم المشتري، وأما صفقتان في صفقة أن يقول: أبيعك هذا العبد بألف على أن تبيعني هذا الفرس بألف وقيل هو أن يبيع ثوبا بشرط الخياطة، أو حنطة بشرط الحمل إلى منزله فقد جعل المشتري الثمن بدلا للعين والعمل فما حاذى العين يكون بيعا وما حاذى العمل يكون إجارة فقد جمع صفقتين في صفقة۔۔۔.

(الجوهرة النيرة، 1/203، ط: المطبعة الخيرية)

وإن اشترى ثوبا على أن يخيطه البائع بعشرة فهو فاسد؛ لأنه بيع شرط فيه إجارة؛ فإنه إن كان بعض البدل بمقابلة الخياطة فهي إجارة مشروطة في بيع، وإن لم يكن بمقابلتها شيء من البدل فهي إعانة مشروطة في البيع، وذلك مفسد للعقد۔۔۔.

(المبسوط للسرخسي، 15/102، ط: دار المعرفة)

وإن سلم غلاما إلى معلم ليعلمه عملا وشرط عليه أن يحذقه فهذا فاسد؛ لأن التحذيق مجهول إذ ليس لذلك غاية معلومة وهذه جهالة تفضي إلى المنازعة بينهما، وكذلك لو شرط في ذلك أشهرا مسماة؛ لأنه يلتزم إيفاء ما لا يقدر عليه فالتحذيق ليس في وسع المعلم بل ذلك باعتبار شيء في خلقة المتعلم، ثم فيما سمي من المدة لا يدري أنه هل يقدر على أن يحذقه كما شرط أم لا والتزام تسليم ما لا يقدر عليه بعقد المعاوضة لا يجوز.

(المبسوط للسرخسي، 16/41، ط: دار المعرفة)

العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني۔۔۔ والمراد بالمقاصد والمعاني: ما يشمل المقاصد التي تعينها القرائن اللفظية التي توجد في عقد فتكسبه حكم عقد آخر كما سيأتي قريبا في انعقاد الكفالة بلفظ الحوالة، وانعقاد الحوالة بلفظ الكفالة، إذا اشترط فيها براءة المديون عن المطالبة، أو عدم براءته.

وما يشمل المقاصد العرفية المرادة للناس في اصطلاح تخاطبهم، فإنها معتبرة في تعيين جهة العقود، فقد صرح الفقهاء بأنه يحمل كلام كل إنسان على لغته وعرفه وإن خالفت لغة الشرع وعرفه: (ر: رد المحتار، من الوقف عند الكلام على قولهم: وشرط الواقف كنص الشارع) .

(شرح القواعد الفقهية، 1/55، دار القلم)

لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض).

(الدر المختار و حاشية ابن عابدين، 6/4، ط: دار الفكر)

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

20.رجب1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب