03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ناجائز فیچرز پر مشتمل ایپس(Apps)بنانے اور اس سے ملنے والی آمدن و اجرت کا حکم
89553اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

میں ایک ایپس (Apps)انجینئر ہوں جو ایک ایپس (Apps)کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ کمپنی میں ایک درجہ بندی(Hierarchy) ہوتی ہےچیف ایگزیکٹو آفیسر،چیف آپریٹنگ آفیسر، پروجیکٹ مینیجر، چیف ٹیکنالوجی آفیسر، پروجیکٹ مینیجرز، ٹیم لیڈز اور ڈویلپرز۔ ہماری کمپنی میں زیادہ تر کام موبائل ایپس پر ہوتا ہے اور زیادہ تر آرڈر بیرون ممالک کے کلائنٹس سے آتے ہیں، یعنی ان ہی کے لیے ایپس بنائی جاتی ہیں۔

ایپس کے حوالے سے میرے کچھ سوالات ہیں، جیسے کہ ہمارے پاس ہر طرح کے آرڈر آتے ہیں۔ کچھ ایپس ایسی ہوتی ہیں جنہیں کمپنی فوراً ہی ریجیکٹ کر دیتی ہے، جیسے کہ ٹریڈنگ ایپس یا وہ ایپس جن میں فحش مواد (پورن) شامل ہو۔ لیکن کچھ ایپس ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے میں وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے:

ڈیٹنگ ایپ:

یہ وہ ایپس ہوتی ہیں جن میں لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں، آڈیو ویڈیو کال کر سکتے ہیں، دوستیاں اور تعلقات بنا سکتے ہیں، بوائے فرینڈ/گرل فرینڈ بنا سکتے ہیں یا زندگی کے ساتھی کی تلاش کر سکتے ہیں۔ یہ ایپس زیادہ تر غیر مسلم ممالک کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ ایپ جِم کے لیے بنائی گئی ہو لیکن اس میں لوگوں کو ایک دوسرے سے تعلق بنانے کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہو۔

ہاتھوں کی لکیروں کو پڑھنے والی ایپس (Hand Reading App):

یہ ایپس وہ ہوتی ہیں جو ہاتھوں کی لکیروں کو پڑھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

علمِ نجوم (Astrology) والی ایپس:

یہ ایپس وہ ہوتی ہیں جو علمِ نجوم پر مبنی ہوتی ہیں اور مستقبل کے حوالے سے پیش گوئیاں کرتی ہیں۔

مذہبی ایپس (دوسرے مذاہب سے متعلق)

کچھ ایپس ایسی ہوتی ہیں جو دوسرے مذاہب کے لیے خاص ہوتی ہیں، جیسے کہ:

کرسچن حضرات کے لیے ایپ جو بائبل کے ذریعے عبادات کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔

ہندو حضرات کے لیے ایپ جو مندر کی پوجا کے لیے راستہ بتاتی ہے، قریب ترین ہوٹل یا ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرتی ہے، اور عبادات کے شیڈول کی مدد کرتی ہے۔

مکس فیچرز والی ایپس:

کچھ ایپس ایسی ہوتی ہیں جن میں دونوں قسم کے فیچرز موجود ہوتے ہیں، یعنی ایک طرف تو وہ ایپ کسی خاص کاروبار یا کمپنی کے لیے ہوتی ہے، لیکن اس میں میوزک یا دیگر تفریحی فیچرز بھی ہوتے ہیں۔ اسی طرح کچھ ایپس ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں فلمیں، ڈرامے وغیرہ سرچ کیے جا سکتے ہیں جو کہ ٹی وی یا کسی اور جگہ پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔

میرا سوال یہ ہے:

  1. اگر انسان کی کمائی میں کچھ حصہ حرام ہو اور باقی حصہ حلال ہو، تو کیا پوری کمائی حرام ہو جاتی ہے؟
  2. مثلاً اگر ایک ڈویلپر ایک جائز ایپ پر کام کر رہا ہو اور دوسری ایپ جو حرام مواد پر مبنی ہے، تو کیا اس کا سارا پیسہ حرام ہو گا؟
  3. یا پھر کیا صرف وہ حصہ حرام ہو گا جو حرام ایپ پر کام کرنے سے آیا ہے؟
  4. یہ سوال اس بات پر بھی ہے کہ اگر ایک ڈویلپر کئی ایپس پر کام کرتا ہے، جن میں کچھ جائز ہیں اور کچھ حرام مواد پر مبنی ہیں، تو کیا اس کی ساری کمائی حرام ہو جائے گی یا صرف حرام کام سے جڑی کمائی حرام ہو گی؟

ذمہ داری:

  1. جب کمپنی یا ٹاپ مینجمنٹ ایسی ایپ کو منظور کرتی ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ساری ذمہ داری ان پر آتی ہے؟
  2. یا پھر اس کا مطلب یہ کہ صرف وہ لوگ ذمہ دار ہیں جو ایپ پر کام کر رہے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پہلے اصولی جواب ملاحظہ ہو؛

  1. اگرکمپنی صرف جائز کام میں استعمال کے قابل ایپس (Apps)بناتی ہے تو ایسی کمپنی میں ملازمت جائز ہے۔
  2. اگر کمپنی صرف ناجائز کام میں استعمال کے قابل ایپس (Apps)بناتی ہے تو ایسی کمپنی میں ملازمت ناجائز ہے۔
  3. اگر کمپنی دونوں طرح (جائز وناجائزکاموں میں استعمال کے قابل) ایپس (Apps)بنائے تو ایسی صورت میں اس شرط کے ساتھ ملازمت جائز ہے کہ مسلمان ملازم،صرف جائز کاموں میں استعمال کے قابل ایپس (Apps)تیار کرے گا،اس صورت میں بالفرض اگر کمپنی یہ(جائز کاموں میں استعمال ہونے والی) ایپس (Apps)کسی ایسے ادارے کو فروخت کرتی ہے، جن کا کام ناجائز ہےتو یہ کمپنی کی مینجمنٹ کا ذاتی عمل ہے، اس کا ملازم کے کام یا اجرت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا،لہٰذاملازم کی اجرت بلاشبہ جائز ہوگی۔

البتہ اگر مجبوراً ناجائز کاموں کے لیے بننے والے سافٹ ویئرز میں خدمات دینی پڑیں تو ایسی صورت میں توبہ استغفار کے ساتھ ساتھ اس کام میں خرچ ہونے والے وقت کے بقدر اپنی تنخواہ میں سےصدقہ کرنا لازم ہوگا۔

  1. اگر ایپس (Apps)بنانے والی کمپنی صرف ایسی ایپس (Apps)بناتی ہو جو ناجائز کام کرنے والی کمپنی میں،صرف ناجائز کاموں کے لیےہی استعمال ہوتی ہوں یا ان ایپس (Apps)کا استعمال جائز اور ناجائز دونوں طرح کے معاملات میں ہوتا ہو لیکن ایپس (Apps)بنانے والی کمپنی ناجائز معاملات میں معاونت کی نیت سے معاملہ کرتی ہو ،اپنی ایپس (Apps)بیچتی ہو اور دیگرخدمات فراہم کرتی ہو یا عقد کرتے وقت مذکورہ ایپس (Apps)کے ناجائز معاملات میں استعمال کی صراحت کردی گئی ہو تو ایسی صورت میں ایسی ایپس (Apps) بنانے والی کمپنی میں ملازمت جائز نہیں،البتہ اگر وہ ایپس (Apps)جائز معاملات میں بھی استعمال ہوتی ہوں اور عقد کرتے وقت، ناجائز معاملات میں استعمال کی صراحت نہ کی گئی ہواورنہ ایپس (Apps)ناجائز معاملات مین تعاون کی نیت سے بیچی گئی ہوں اور نہ بیچتے وقت یہ معلوم ہو کہ ناجائز کام کرنے والی کمپنی ان ایپس (Apps)کو لازماً ناجائز معاملات میں استعمال کرے گی تو ایسی صورت میں ایسی ایپس (Apps)بنانے والی کمپنی میں ملازمت کی گنجائش ہے ۔
  2. اگر کمپنی کابنیادی کام شق نمبر چار کے مطابق ہے  اور آپ کو معلوم ہے کہ آپ ناجائز سرگرمیوں کا حصہ بنیں گے تو ایسی ملازمت اختیار کرنے سے اجتناب ضروری ہے،البتہ اگر ملازمت اختیار کرچکے ہیں تو شق نمبرتین کے مطابق جائز کاموں کے بقدر اجرت جائز ہوگی اور بقیہ اجرت صدقہ کرنا لازم ہوگا۔نیزاس صورت میں دوسری جائزملازمت کی تلاش بھی ضروری ہے،البتہ جب تک دوسری جائز ملازمت نہ ملے اس وقت تک عارضی طور پراس شرط کے ساتھ مذکورہ ملازمت جاری رکھ سکتے ہیں کہ کل اجرت میں سے جتنی اجرت حرام ہو اسے بلا نیت ثواب صدقہ کرتے رہیں۔

سوال میں جن ایپس کا آپ نے ذکر کیا،ان میں سے ڈیٹنگ ایپس(Dating Apps)،ہاتھوں کی لکیروں کو پڑھنے والی ایپس (Hand Reading App)اور علمِ نجوم (Astrology) والی ایپس تیار کرنا جائز نہیں ہے،اس لیے کہ جن کاموں کے لیے یہ ایپس تیار کی جاتی ہیں،شرعاً وہ کام ناجائز ہیں تو ان ایپس کا بنانا بھی ناجائز ہےاور ان سے حاصل ہونے والی آمدن یا اجرت بھی حلال نہیں ہے۔

            اسی طرح سوال میں مذکور مذہبی ایپس کی جو تفصیلات آپ نے ذکر کی ہیں ،بظاہر وہ جائز و ناجائز دونوں کاموں کا مجموعہ ہیں،اس لیے کہ اس میں ٹرانسپورٹ یا ہوٹل وغیرہ کی تفصیلات کا تعلق جائز کام سے ہے،البتہ باطل خداؤں کی عبادت وغیرہ کا تعلق ناجائز کاموں سے ہے،اور یہ ایپس ان دونوں کاموں کا مجموعہ ہے،لہٰذا ایسی ایپس بنانامسلمان کے لیے ابتداءً ناجائز ہے ،البتہ دیگر جائز کاموں کے ضمن میں اگر مسلمان ملازم کو مجبوراً یہ ایپس بنانی پڑیں تو ایسی صورت میں جتنا وقت ناجائز فیچرز بنانے اور ایڈ کرنے میں لگا ہے ،اس کے بقدر اپنی اجرت میں سے صدقہ کرنا ضروری ہے،مکس فیچرز والی ایپس کا بھی یہی حکم ہے۔

            رہی بات آمدن کے حرام ہونے نہ ہونے کی تو اس حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ جس شخص کی کمائی حلال اور حرام دونوں ذرائع سے ہو تو ساری آمدن حلال یا حرام نہیں ہوجاتی بلکہ حرام کے بقدر حرام رہتی ہے اور حلال کے بقدر حلال رہتی ہے۔

                        اسی طرح ذمہ داری کے حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ کمپنی کے ایسے بااختیار افراد جنہیں آرڈر وصول کرنے کی پالیسی بنانے یا اسے نافذ کرنے کا اختیار ہے،اگر وہ ایسے آرڈر لیتے ہیں جو شرعاً ناجائز ہیں تو اس کے ذمہ دار وہی ہوں گے،البتہ ایسی صورت میں ملازمین اور ان کے کام سے متعلق حلال و حرام کی اجرت کا کیا حکم ہوگا؟تو اس حوالے سے  تفصیل پہلے ذکر کی جاچکی ہے۔

حوالہ جات

المحيط البرهانى (20/ 81)

وفي «العيون»: لو استأجر رجلاً ينحت له أصناماً أو يزخرف له بيتاً بتماثيل والأصباغ من رب البيت فلا أجر؛ لأن فعله معصية، وكذلك لو استأجر نائحة أو مغنية فلا أجر لها؛ لأن فعلها معصية.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 482)

قال: وإذا استأجر رجل من أهل الذمة مسلماً يضرب لهم الناقوس فإنه لا يجوز لما ذكرنا، وإذا استأجر مسلماً ليحمل له خمراً ولم يقل ليشرب، أو قال ليشرب جازت الإجارة في قول أبي حنيفة خلافاً لهما، وكذلك إذا استأجر الذمي بيتاً من مسلم ليبيع فيه الخمر، جازت الإجارة في قول أبي حنيفة خلافاً لهما.

والوجه لأبي حنيفة فيما إذا نص على الشرب، إن هذه إجارة وقعت لأمر مباح؛ لأنها وقعت على حمل الخمر ليشربها الذمي، أو وقعت على الدار ليبيع الذميّ وشرب الخمر مباح؛ لأن خطاب التحريم كان غير نازل في حقه.وهذا بخلاف ما إذا استأجر الذمي من المسلم بيتاً يصلي فيه حيث لا يجوز؛ لأن ثمة صفة المعصية، إذا أمنت في حقه لديانته تبقى صفة الطاعة والاستئجار على الطاعة لا يجوز ومعنى صفة المعصية متى انتفت عن الشرب لديانته بقي فعلاً مباحاً في نفسه ليس بطاعة فتجوز الإجارة، وفيما إذا لم ينص على الشرب، فالوجه له أن الخمر كما يكون للشرب وإنه معصية في حق المسلم يكون للتخليل، وإنه مباح للكل فإذا لم ينص على الشرب يجب أن يجعل التنقل للتخليل حملاً لهذا العقد على الصحة.وهو نظير ما لو استأجر الذميّ من المسلم بيتاً ولم يقل ليصلى فيه، فإنه يجوز، وإن كان له أن يصلي فيه ويتخذه بيعة وكنيسة.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 391)

(و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية ونقل المصنف عن السراج والمشكلات أن قوله ممن أي من كافر أما بيعه من المسلم فيكره ومثله في الجوهرة والباقاني وغيرهما زاد القهستاني معزيا للخانية أنه يكره بالاتفاق.

 (قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل.

الفتاوى الهندية (5/ 141)

وعن محمد - رحمه الله تعالى - غصب عشرة دنانير فألقى فيها دينارا، ثم أعطى منه رجلا دينارا جاز، ثم دينارا آخر لا كذا في التتارخانية ناقلا عن جامع الجوامع.

(فقہ البیوع:۲/۱۰۳۱)

وقد اشتھر علی الألسُن أن  حکم التعامل مع من کان مالُہ مخلوطا بالحلال والحرام أنہ اؔن کان الحلال فیھا أکثر،جاز التعامل معہ بقبول ھدیتہ وتعاقد البیع والشراء معہ،وبذٰلک صدرت بعض الفتاوی،ولکن مایتحقق بعد سبر کلام الفقہاء الحنفیۃ فی ھذا الموضوع أن اعتبار الغلبۃ انما ھو فیما اذا کان الحلال متمیزا عن الحرام عند صاحبہ،ولا یعلم المتعامل معہ أن مایعطیہ من الحلال أو من الحرام ،فحینئذ تعتبر الغلبۃ،بمعنی انہ ان کان اکثر مالہ حلالا،یفرض أن مایعطیہ من الحلال،والعکس بالعکس،کما قدمنا نصوصہ فی الصورۃ الاولی.أما اذا کان مخلوطا بالحرام دون تمییز أحدھما بالآخر،فانہ لا عبرۃ بالغلبۃ فی ھذہ الحالۃ فی مذھب الحنفیۃ، بل یحل الانتفاع من المخلوط بقدر الحلال، سواء اکان الحلال قلیلا ام کثیرا.

(الاختیار لتعلیل المختار:۳/۶۱)

والملک الخبیث ،سبیلہ التصدق بہ

(فقہ البیوع:۱/۱۹۴)

قال الشیخ المفتی محمد تقی العثمانی حفظہ اللہ :ویتلخص منہ، أن الانسان اذا قصد  الاعانۃ  علی المعصیۃ  باحدی الوجوہ الثلاثۃ المذکورۃ(أن یقصد الاعانۃ  علی المعصیہ،بتصریح المعصیۃ فی صلب العقد،بیع اشیاء لیس لھا مصرف الا فی المعصیۃ)، فان العقد حرام لا ینعقد والبائع آثم۔اما اذا لم یقصد ذٰلک، وکان  البیع سببا للمعصیۃ، فلا یحرم العقد ،ولکن اذا کان سببا محرکا، فالبیع حرام ،وان لم یکن محرکا ، وکان سببا قریبا  بحیث یستخدم فی المعصیۃ  فی حالتھا الراھنۃ ، ولا یحتاج الی صنعۃ جدیدۃ من الفاعل  کرہ تحریما والا فتنزیھاوکذٰلک الحکم فی برمجۃ الحاسب الآلی (الکمبیوتر)لبنک ربوی، فان قصد  بذٰلک الاعانۃ، او کان البرنامج مشتملا علی مالا یصلح الا فی الاعمال الربویۃ،أو الأعمال المحرمۃ الأخری،فان العقد حرام باطل.أما اذا لم یقصد الاعانۃ ،ولیس فی البرنامج  ما یتمحض للأعمال المحرمۃ ،صح العقد وکرہ تنزیھا.

مجموع فتاوى ابن تيمية (/ 274)

وإذا كان في ماله حلال وحرام واختلط لم يحرم الحلال، بل له أن يأخذ قدر الحلال، كما لو كان المال لشريكين فاختلط مال أحدهما بمال الآخر، فإنه يقسم بين الشريكين .وكذلك من اختلط بماله الحلال والحرام، أخرج قدر الحرام، والباقي حلال له . والله أعلم .

مجلة مجمع الفقه الإسلامي (7/ 59)

والثاني: الحرام لكسبه: كالمأخوذ غصبًا، أو بعقد فاسد فهذا إذا اختلط بالحلال لم يحرمه، فلو غصب الرجل دراهم، أو دنانير أو دقيقًا، أو حنطة أو خبزًا، وخلط ذلك بماله لم يحرم الجميع لا على هذا، ولا على هذا، بل إن كانا متماثلين أمكن أن يقسموه ويأخذ هذا قدر حقه، وهذا قدر حقه. فهذا أصل نافع، فإن كثيرًا من الناس يتوهم أن الدراهم المحرمة إذا اختلطت بالدرهم الحلال حرم الجميع، فهذا خطأ، وإنما تورع الناس فيما إذا كانت - أي الدراهم الحلال - قليلة، أما مع الكثرة فما أعلم فيه نزاعًا...

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

07.رجب1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب