| 89354 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میرے شوہر نے غصے میں مجھے تین طلاقیں دی تھیں، گھر والوں نے یہ کہہ کر مجھے اسی کے ساتھ ٹہرایا کہ غصے میں طلاق نہیں ہوتی، چنانچہ میں شوہر کے ساتھ میاں بیوی کی طرح رہتی رہی اور اس دوران تین حیض گزرے تو میں نے حلالہ کے لیے دوسرا نکاح کیا اور وہاں سے ہم بستری کے بعد طلاق ہوئی تو میں نے عدت پوری کی یعنی تین حیض تک سابقہ شوہر سے نکاح وہمبستری سے پرہیز کیا۔اس کے بعد میں نے سابقہ شوہر سے نکاح کرلیا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا میرا نکاح سابقہ شوہر سے صحیح ہوگیا؟میرا تعلق اپنے شوہر سے حلال ہے یا نہیں ؟اگر نہیں تو مجھے اب کیا کرنا ہوگا؟
تنقیحات:
تین طلاقوں کے بعد چونکہ سابق شوہر کے ساتھ رہ رہی تھی تو دوران عدت بھی میاں بیوی والے تعلقات قائم ہوتے رہے،کیا اس کی وجہ سے عدت از سر نو شروع کرنی ہوگی یا اگر تین ماہواریاں گزر چکی ہیں تو عدت مکمل ہوچکی اب از سر نوعدت گزارنے کی ضرورت نہیں؟ابھی دوسرا نکاح نہیں کیا،حلالہ کی جائز صورت کیاہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یاد رہے کہ طلاق عموماً غصہ کی حالت میں ہی دی جاتی ہے اور غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق شرعاً واقع بھی ہوجاتی ہے، لہذا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے تو تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں ،اگرچہ غصے میں دی ہوں،جس عورت کو طلاق مغلظہ یعنی تین طلاقیں واقع ہوجائیں تو قرآن کریم اور احادیث کی رو سےوہ اپنے خاوند پر حرام ہوجاتی ہے، لہذامذکورہ بالا تفصیل کے مطابق اگر واقعتاً آپ کے شوہر نے آپ کو تین طلاقیں دی تھیں تو تینوں طلاقیں واقع ہوگئی تھیں اور آپ اپنے شوہر پر حرام ہوچکی تھیں۔
دوران عدت ہمبستری کی وجہ سے عدت کا حکم
پہلے اصولی بات ملاحظہ ہو؛
(1)اگر زوجین میں سے ہر ایک کو معلوم ہوکہ ہمارا آپس میں نکاح ختم ہوچکا ہے اور ہمارے لیے آپس میں ہمبستری حلال نہیں رہی پھر بھی ہمبستری کرتے رہے تو ایسا کرنازنا شمار ہوگا،لیکن عورت پر ایسی صورت میں از سر نو عدت گزارنا لازم نہیں بلکہ اگر تین طلاقوں کے بعد تین ماہواریاں گزر چکی ہیں تو عدت مکمل ہوچکی۔
(2)اگر زوجین میں سے ایک کو معلوم ہوکہ نکاح ختم ہوچکا اور آپس میں ہمبستری حلال نہیں رہی لیکن دوسرے کو معلوم نہیں اور پھر آپس میں ہمبستری کی تو یہ ہمبستری،وطی بالشبہہ کے حکم میں ہے،لہٰذاایسی صورت میں عورت پر ازسر نو عدت گزارنا ضروری ہے ،چنانچہ آخری بار جب ہمبستری ہوئی ہے،اس کے بعد سے عدت شمار ہوگی،بشرطیکہ عورت دوبارہ ہمبستری کی قدرت نہ دے۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیلات سےیہ معلوم ہورہا ہے کہ آپ اس خیال سے میاں بیوی کے طور پر ساتھ رہتے رہے کہ طلاق نہیں ہوئی،اور اسی وجہ سے ہمبستری کا تعلق بھی برقرار رکھا،لیکن چونکہ حقیقت میں طلاق واقع ہوچکی تھی اور میاں بیوی کے طور پر ساتھ رہنا جائز نہیں تھا،لہٰذا ایسی صورت میں از سر نو عدت گزارنا عورت پر ضروری ہے،چنانچہ آخری بار جب ہمبستری ہوئی ہے،اس کے بعد سے عدت شمار ہوگی،بشرطیکہ عورت دوبارہ ہمبستری کی قدرت نہ دے،لیکن واضح رہے کہ دونوں کو یہ معلوم ہوتے ہوئے کہ ہمارا نکاح آپس میں ختم ہوچکا ہے اور ہمارے لیے آپس میں ہمبستری حلال نہیں رہی،پھر بھی ہمبستری کرتے رہے تو ایسی صورت میں یہ عمل زنا کے حکم میں ہے،زنا کے حکم میں ہونے کی وجہ سے از سر نو عدت گزارنا ضروری نہیں بلکہ اگر تین طلاقوں کے بعد تین ماہواریاں گزر چکی ہیں تو عدت مکمل ہوچکی۔
سابق شوہر کے پاس واپس آنے کی صورت
سابق شوہر کے پاس واپس آنے کی فقط یہ صورت بن سکتی ہےکہ ایسی عورت عدت گزرنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ اس کے ساتھ تعلقِ زوجیت بھی قائم کرے، پھر کبھی اتفاقاً (پہلے سے طے شدہ نہ ہو کہ مرد ہمبستری کے بعد طلاق دے گا) دوسرا شوہر طلاق دیدےیا اس کی وفات ہوجائے ،نیز بہرصورت عدت بھی گذرجائے، تب عورت کے لیے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ اپنے سابق شوہر سےجدید نکاح جائز ہوجاتا ہے، اسی کو شرعی اصطلاح میں حلالہ کہا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ حلالہ کے لیے طلاق کی شرط لگانا ناجائز اور گناہ ہے، ایسی صورت میں حلالہ کروانے والے اور کرنے والے (دوسرے شوہر) شخص پر حدیثِ پاک میں لعنت کے الفاظ وارد ہوئے ہیں، البتہ اگر بغیر کسی شرط کے نکاح کے وقت صرف دِل میں طلاق کی نیت ہو تو ایسی صورت میں نکاح درست ہو جائے گا اورطلاق وعدت گزرنے کے بعد عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی۔
غصے میں طلاق نہیں ہوتی،شبہ کی حقیقت
آپ کے گھر والوں کا یہ کہنا کہ غصے میں طلاق نہیں ہوتی یہ بات بالکل غلط ہے،نیز آپ کو تین طلاقیں ہوجانے کے باوجود اپنے سابق شوہر کے ساتھ میاں بیوی کی طرح ٹہرانا اور آپ کا ٹہرنا انتہائی سنگین گناہ اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینا تھا،اس گناہ پر گھر والوں کو اور مرد وعورت دونوں کو چاہیے کہ کثرت سے توبہ واستغفار کریں۔
حوالہ جات
﴿ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ [البقرة: 230]
ترجمہ:اگر بیوی کو (تیسری) طلاق دے دی تو جب تک وہ عورت دوسرے سے نکاح نہ کرلے اس وقت تک وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی۔ (بیان القرآن)
الفتاوى الهندية (1/ 473)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 187)
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
الفتاوى الهندية (1/526(
إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 518)
ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالما بحرمتها لا تجب عدة أخرى لأنه زنا، وفي البزازية: طلقها ثلاثا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لا تستأنف العدة بثلاث حيض، ويرجمان إذا علما بالحرمة ووجد شرائط الإحصان، ولو كان منكرا طلاقها لا تنقضي العدة، ولو ادعى الشبهة تستقبل.
الفتاوى الهندية (1/ 475)
سئل شيخ الإسلام يوسف بن إسحاق الخطي عمن طلق امرأته ثلاثا وكتم عنها وجعل يطؤها فمضت ثلاث حيض ثم أخبرها بذلك هل يجوز لها أن تتزوج بزوج آخر قال: لا لأن الوطء جرى بينهما بشبهة النكاح وأنه موجب للعدة إلا إذا كان من آخر وطئها جرت ثلاث حيض قيل له فإن كانا عالمين بالحرمة مقرين بوقوع الحرمة الغليظة ولكن يطؤها فحاضت ثلاث حيض ثم أرادت أن تتزوج بزوج آخر قال: يجوز نكاحها لأنهما إذا كان مقرين بالحرمة كان الوطء زنا والزنا لا يوجب العدة ولا يمنع من أن تتزوج وبه نأخذ إلا إذا كانت حبلى على قول أبي يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - حتى تضع حملها وعلى قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - يجوز كذا في التتارخانية.
الفتاوى الهندية (1/ 532)
وأما المطلقة ثلاثا إذا جامعها زوجها في العدة مع علمه أنها حرام عليه ومع إقراره بالحرمة لا تستأنف العدة ولكن يرجم الزوج والمرأة كذلك إذا قالت: علمت بالحرمة، ووجدت شرائط الإحصان، ولو ادعى الشبهة بأن قال: ظننت أنها تحل لي تستأنف العدة بكل وطأة وتتداخل مع الأولى إلا أن تنقضي الأولى فإذا انقضت الأولى وبقيت الثانية والثالثة كانت هذه عدة لوطء لا تستحق النفقة في هذه الحالة وهذا الذي ذكرنا إذا جامعها مقرا بطلاقها، وأما إذا جامعها منكرا لطلاقها فإنها تستقبل العدة كذا في الذخيرة.
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم:أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264) دار طوق النجاة:
وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.
سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (3/ 117، رقم الحدیث: 1936) دار الرسالة العالمية:
حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح المصري، حدثنا أبي، سمعت الليث بن سعد يقول: قال لي أبو مصعب مشرح بن هاعان: قال عقبة بن عامر: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "ألا أخبركم بالتيس المستعار؟ " قالوا: بلى، يا رسول الله، قال: "هو المحلل، لعن الله المحلل والمحلل له".
ترجمہ:عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم کو مستعار ( مانگے ہوئے)نرکے بارے میں نہ بتاؤں“؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ضرور بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ حلالہ کرنے والا ہے، اللہ نے حلالہ کرنے اور کرانے والے دونوں پر لعنت کی ہے“ ۔
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
23.جمادی الآخرۃ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


