| 89154 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ؛
میری سوچ کے مطابق کاروبار کسی چیز سے نفع اٹھانے یا نقصان برداشت کرنے کو کہتے ہیں۔ایک آدمی کے پاس ایک دوکان ہے جس کو وہ 15 لاکھ روپے سالانہ کرائے پر دیتا ہے،اس کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتا ہے اور اگر کوئی اس سے پوچھتا ہے کہ آپ کا کاروبار کیا ہے تووہ کہتا ہے کہ میں دوکانیں کرائے پر دیتا ہوں،یہی میرا کاروبار ہے،(1)کیا اس شخص کا یہ کہنا شریعت کے مطابق درست ہے؟(2)کیا کرایہ داری کے کام کو کاروبار کہا جاسکتا ہے کہ نہیں؟ مثلا کوئی ذاتی دکانیں، ہوٹل وغیرہ لوگوں کو کرایہ پر دیتا ہے۔(3)اگر مالک کی ذاتی دوکانیں حکومت کی جانب سے مسمار کر دی جائیں، جبکہ کرایہ دار اپنا مکمل سامان پہلے ہی دکان سے نکال چکا ہو، تو حکومت کی طرف سے جو رقم کاروباری نقصان کے عنوان سے دی جاتی ہے ، اس رقم کا حق دار کون ہے ؟(4)کیا یہ رقم دکان کے مالک کی ہو گی کیونکہ اصل نقصان اس کا ہوا ہے ؟یا کرایہ دار اس رقم کا حق دار ہو سکتا ہے، جبکہ اس کا کوئی مالی نقصان نہیں ہوا؟(5)بر اہ کرم شریعت کی رو سے اس معاملے کو حل فرمائیں کہ حکومت کی طرف سے دی جانے والی کاروباری نقصان کے نام سے یہ رقم کس کو ملنی چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کاروبار کی مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں،اس کا تعلق عرف سے ہے کہ عرفاً جس سرگرمی کو کاروبار کہا جاتا ہو،وہ کاروبار ہے،اس کے تحت مختلف سرگرمیاں ہوسکتی ہیں،مثلاً بطور دوکاندار(ہول سیلر یا ریٹیلر) کوئی چیز خرید کر نفع کے ساتھ کسی اور کوبیچنا،کوئی چیز تیار کرکے بیچنا وغیرہ۔یعنی عرفاً جب کسی سرگرمی کو کاروبار کہا جاتا ہے تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی تجارتی یا آمدنی سے متعلق سرگرمی۔
اسی طرح آمدنی کے لیے یہ ذریعہ اختیار کرنا بھی جائز ہے کہ کوئی شخص مکان یا دوکان وغیرہ کرایہ پر دے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی استعمال کرے۔
(1)درست ہے۔
(2) اس کا تعلق عرف سے ہے،بظاہر کوئی حرج نہیں،کہہ سکتا ہے۔
(3)دوکان کا مالک حقدار ہے،کیوں کہ اس کی ملکیت میں موجود دوکان حکومت کی جانب سے مسمار کیے جانے کی وجہ سے جو نقصان بحیثیت مالک اس کا ہوا ہے،اسی نقصان کی تلافی کے لیے حکومت نے رقم ادا کی ہے۔
(4)دوکان کا مالک حقدار ہوگا۔
(5)دوکان کے مالک کو ملے گی۔
حوالہ جات
الدر المختار للحصفكي (5/ 309)
(تصح إجارة حانوت) أي دكان (ودار بلا بيان ما يعمل فيها) لصرفه للمتعارف (و) بلا بيان (من يسكنها) فله أن يسكنها غيره بإجارة وغيرها.
الموسوعة الفقهية الكويتية (1/ 277، بترقيم الشاملة آليا)
فيصحّ استئجار الدّار أو الحانوت مع عدم بيان ما يستأجرها له ، لأنّ الدّور إنّما تكون للسّكن عادةً ، والحانوت للتّجارة أو الصّناعة .
الموسوعة الفقهية الكويتية (20/ 314، بترقيم الشاملة آليا)
29 - فرّق الحنفيّة بين الوقف والملك في ثبوت حقّ القرار فأثبتوه للمستأجر في عقارات الأوقاف على الوجه الّذي تقدّم بيانه ، ونفوه في الأملاك الخاصّة المؤجّرة ، وبيّنوا أنّ الفرق في ذلك هو أنّ المالك أحقّ بملكه إذا انتهى عقد الإجارة ، ثمّ هو قد يرغب في تجديد إيجاره للمستأجر الأوّل بنفس الأجر ، أو أقلّ ، أو أكثر ، وقد لا يرغب في ذلك ، وقد يريد أن يسكنه بنفسه ، أو يبيعه ، أو يعطّله ، بخلاف الموقوف المعدّ للإيجار ، فإنّه ليس للنّاظر إلاّ أن يؤجّره ، فإيجاره من ذي اليد بأجرة مثله أولى من إيجاره لأجنبيّ ، لما فيه من النّظر للوقف ولذي اليد . ولمالك الحانوت أن يكلّف المستأجر رفع جدكة وإفراغ المحلّ لمالكه . ومقتضى ذلك أن لا يثبت حقّ القرار في الأملاك الخاصّة حتّى عند من سمّاه في عقارات الوقف خلوًّا ; ولأنّه يلزم من عدم إخراج صاحب الحانوت لصاحب الخلوّ حجر الحرّ المكلّف عن ملكه وإتلاف ماله . وهي مسألة إجماعيّة كما نقله صاحب الفتاوى الخيريّة وكما هو معلوم من أحكام الإجارة فإن كان للمستأجر عند انتهاء الإجارة في الأرض بناء أو أشجار ، أو في الحانوت بناء ، يلزمه رفعه على خلاف وتفصيل يرجع إليه في أحكام الإجارة .
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
08.جمادی الآخرۃ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


