| 88724 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
میں چاہتا ہوں کہ میری آمدن پر اصول کے مطابق جوٹیکس بنتا ہے، وہ میں علیحدہ سے خیرات کردوں، کیونکہ مکمل بزنس پارٹنر شپ پر ہے اور باقی ساتھی اس چیز پہ رضامند نہیں، نہ ہی میں ان سے یہ کہہ سکتا ہوں ۔
اب صرف سوال اتنا ہے کہ پاکستان میں بزنس میں مختلف آمدن پر مختلف ٹیکس ریٹ ہیں، کم پر کم اور زیادہ پر زیادہ،اگر مکمل بزنس کی آمدن پر ٹیکس ریٹ دیکھوں تو زیادہ ہے اور اگر سب ٹیکس دیتے تو ٹیکس نکالنے کے بعد مجھے ملنے والی آمدن اس سے کم ہونی تھی جو اگر میں صرف اپنے حصے کی آمدن پر ٹیکس ریٹ لگا کر نکالوں۔
مثال کے طور پر اگر پورے بزنس کی آمدن 100 روپے ہے اور اس میں میرا حصہ 25 روپے ہے تو جب 100 روپے پر ٹیکس لگے گا تو شاید 35 روپے لگے اور باقی 65 روپے میں سے مجھے چوتھا حصہ ملے جو کہ تقریبا 16 روپے بنتے ہیں، لیکن اگر صرف میری آمدن 25 روپے پر ٹیکس لگایا جائے تو شاید 6 روپے بنتے ہیں، اس طرح میری آمدن 19 روپے رہ جائے گی۔
تو سوال یہ ہے کہ پورے بزنس والا ٹیکس ریٹ لگے گا یا صرف اپنے حصے پر ؟کیونکہ اگر سب ادا کرتے ہوتے تو مجھے بھی ٹیکس زیادہ دینا پڑتا،مقصد صرف اپنی کمائی کو جھوٹ سے پاک کرنا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں آپ صرف اپنے حصے میں آنےوالی آمدن کےحساب سے ٹیکس ادا کرنے سے بری الذمہ ہوجائیں گے۔
حوالہ جات
"القواعد الفقهية وتطبيقاتها في المذاهب الأربعة" (1/ 543):
"القاعدة: [97]
الغُرْمُ بالغُنْم (م/87) الألفاظ الأخرى: من له الغنم عليه الغرم. الغنم بالغرم.
التوضيح: الغرم: هو ما يلزم المرء لقاء شيء، من مال أو نفس. والغنم: هو ما يحصل له من مرغوبه من ذلك الشيء.
وأفادت هذه القاعدة عكس القاعدة الأخرى: "الخراج بالضمان، (م/ 85) .
أي أن التكاليف والخسارة التي تحصل من الشيء تكون على من يستفيد منه شرعاً. ولا فرق في الغرم بين أن يكون مشروعاً كما سيرد في التطبيقات.
أو أن يكون غير مشروع، كالتكاليف الأميرية التي تطرح على الأملاك، فإنها على أربابها بمقابلة سلامة أنفسهم".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
20/ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


