| 89063 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
عرض ہے کہ الکفالہ کے نام سے یہ ترتیب صرف علماء قراء،عالمات،قاریات،حفاظ،طلبہ وطالبات کے لیے ہے۔الحمد للہ 3 قرعہ اندازیاں ہوچکی ہیں،ہرماہ 240 روپے بنیت صدقہ وصول کیےجاتے ہیں اور ہرماہ قرعہ اندازی کی ترتیب ہوتی ہے،یہ ترتیب سدابہار ہے،1000 سے زائد علماء قراء میں سے ایک نام نکالاجاتاہے۔ایک مولانا صاحب عمرہ کرکے بھی آچکے ہیں،الحمدللہ۔
اپنی حفظ یا عالمیہ کی سند اورشناختی کارڈ کی تصویر بھیج دیں اور 240 روپے بھی صدقہ کی نیت سے بھیج کر اس کی رسید بھی بھیج دیں تاکہ آپ کو حتمی گروپ میں شامل کردیا جائے اور عمرہ قرعہ اندازی میں آپ کا نام ڈال دیا جائے۔گزشتہ قرعہ اندازیوں کا احوال دیکھنے اور سسٹم کی شرعی حیثیت کے حوالے سے الکفالہ کا فیس بک پیج وزٹ فرمالیں اور پیج کو لائیک اور فالو بھی فرمالیں:
https://www.facebook.com/share/1QCd8PQrKC/
الکفالہ کا واٹس ایپ گروپ لنک:
https://chat.whatsapp.com/LXguheSY0Xe4iFYgvgiorr?mode=ems_copy_t
کیا الکفالہ کا یہ پروگرام جائز ہے؟
تنقیح:ہم نے مذکورہ لنک پر موجود واٹساپ نمبر پر رابطہ کیا،ان کی طرف سے دو فتوے ہمیں موصول ہوئے ہیں،لیکن ان دونوں فتاویٰ میں الکفالہ کے مروجہ ماڈل کی مکمل وضاحت اور اس ماڈل کے جائز ہونے کاحکم نہیں لکھا ہوا، بلکہ صرف تجاویز کی صورت میں جواب لکھا ہوا ہے۔پھر ہم نے خود ان کے ماڈل کی مکمل تفصیل جانچنے کی کوشش کی تو ابتدائی ماڈل جو انہوں نے بیان کیا اس کے مطابق وہ وقف پر مبنی کفالہ پول ہے ،جو تکافل کمپنی میں بھی رائج ہے،یعنی پہلےکچھ پیسوں کو وقف کیا گیا ،پھر اس وقف کے لیے لوگوں کو چندہ (نفلی صدقہ) دینے کی ترغیب دی گئی اور قرعہ اندازی کے مطابق معطین میں سے جس کا نام نکلے گا اسے عمرہ کروایا جائے گا ،یہ قرعہ اندازی ہر ماہ ہوگی، وغیرہ۔
ہم نے ان سے قانونی رجسٹریشن ،شریعہ سرٹیفیکٹ یا شریعہ بورڈ اور اسی طرح آڈٹ وغیرہ کے نظام سے متعلق پوچھا تو اس حوالے سے انہوں نے کوئی واضح تفصیل نہیں بتا ئی، بلکہ کچھ رکارڈڈ وائس کلپ ہمیں بھیجے ہیں،جن سے سوائے اس کے کہ کسی شریعہ ایڈوائزری کمپنی سے وہ اپنا ماڈل بنوا رہے ہیں، مزید کوئی بات واضح نہیں ہوئی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں مذکور معلومات اور تنقیح کی روشنی میں فی الحال دارالافتاء جامعۃ الرشید کی طرف سے درج ذیل اصولی جواب دیا جارہا ہے اور یہ جواب مذکورہ الکفالہ پروگرام کے جواز یا عدم جواز پر مبنی نہیں ہے بلکہ صرف اصولی ہدایات ہیں؛
واضح رہے کہ لوگوں سے انویسٹمنٹ یا اس جیسے کسی نام پر رقوم لے کر انہیں نفع کا جھانسہ دینے اور رقوم لے کر فرار ہونے کا سلسلہ ہمارے یہاں قدیم ہے،اگر چہ الکفالہ پروجیکٹ چلانے والے صاحب اپناتعارف ایک عالم دین ہونے کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں اور یقیناً وہ ہوں گے بھی اور ان کا یہ پروجیکٹ بھی اخلاص پر مبنی ہوگا،لیکن جب کام بڑھتا ہے تو ٹیم بڑھتی چلی جاتی ہے اور مختلف افراد اس کا حصہ بن جاتے ہیں، چنانچہ اگر ابتداء سے کوئی منظم،مستند اور مضبوط نگرانی پر مبنی نظام نہ ہو تو شرارتی لوگ اخلاص پر مبنی پروجیکٹ کو بھی ہائی جیک کرکے نقصان پہنچادیتے ہیں،اگرچہ بانی خود کتنا ہی مخلص کیوں نہ ہو،لہٰذا انویسٹر /قرعہ اندازی میں حصہ لینے والےاور انویسمنٹ/صدقہ کے طور پر لوگوں سے رقوم لینے والے،دونوں کی خیر خواہی کے لیے حالاتِ حاضرہ کی معلومات اور مسلسل تجربات کے نتیجے میں کچھ شرائط مقرر کی گئی ہیں، جو مذکورہ پروجیکٹ کی طرح کی کمپنی یا پروجیکٹ سے متعلق فتوی جاری کرنے کے لیے ضروری ہیں:
- کمپنی قانونی ہو اور باقاعدہ متعلقہ ریگلولیٹر کے ہاں رجسٹرڈ ہو، اس کے پاس اس رجسٹریشن کا سرٹیفکیٹ موجود ہو،اس کی رجسٹریشن "نان بینکنگ فنانشل انسٹی ٹیوشن"، "ایسٹ مینجمنٹ کمپنی" یا "فنڈ" کے طور پر ہویا اس کے علاوہ کسی قانونی حیثیت کی حامل ہو اور اسے لوگوں سے انویسٹمنٹ لینے یا کسی بھی صورت میں پیسے لینےاور نفع یا کوئی بھی سہولت دینے کا قانوناً اختیار ہو، اگر اس کے لیے کسی قسم کے مزیدلائسنس کی ضرورت ہو تو وہ اس کے پاس ہو، نیز وہ پیسے اسی طریقے سے لے جو قانوناً درست ہو۔
- کمپنی /پروجیکٹ اگر شریعہ کمپلائنٹ ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کی نگرانی مستند علماء کرام کر رہے ہوں جو اس میدان میں مہارت و تجربہ بھی رکھتے ہوں۔
- یہ علماء کرام کمپنی /پروجیکٹ کے افعال ،آمدنی اور خرچ وغیرہ کی نگرانی اور ان کے درست ہونے کا واضح تحریری سرٹیفکیٹ دیں۔
مندرجہ بالا تینوں شرائط بالترتیب دیکھی جائیں، یعنی اگر پہلی نہ پائی جائے تو دوسری اور تیسری کے پائے جانے کا اعتبار نہ ہوگا اور کمپنی کے جواز کا فتوی نہیں دیا جا سکے گا اور اگر دوسری نہ پائی جائے تو تیسری کا اعتبار نہیں ہوگا،لہذا اگر مذکورہ کمپنی یا پروجیکٹ یہ تینوں شرائط بالترتیب پوری کرتے ہوں تو اس کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، لائسنس اور شریعہ سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپیاں ،جس میں لوگوں سے رقوم حاصل کرنے کا،سرمایہ کاری کرنے کا اورنفع نقصان یا دیگر سہولیات وغیرہ تقسیم کرنے کا مکمل طریقہ کاردرج ہو،اور نگرانی کرنے والے علماء کرام کے نام، سوال کے ساتھ ارسال کر دیں تاکہ ہم تحقیق کر کے جواب دے سکیں۔
حوالہ جات
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
23.جمادی الاولیٰ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


