| 88600 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
میں ایک دینی مدرسے کا طالبِ علم ہوں۔ میرے والد صاحب زمیندار ہیں، اور ان پر کافی قرض ہے۔ قرض اتارنے کی غرض سے وہ بھنگ کی کاشت کرپتے ہیں، کیونکہ ہمارے علاقے میں عموماً بھنگ کی کھیتی ہوتی ہے اور اس سے جلد نفع حاصل ہوتا ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ اس صورت میں قرض کی ادائیگی کے لیے بھنگ کی کاشت کرنا شرعاً کیسا ہے؟جب میں چھٹیوں میں گھر جاتا ہوں تو والد صاحب اس کام میں مشغول ہوتے ہیں۔ کیا میرے لیے ان کے ساتھ بھنگ کی کھیتی میں ہاتھ بٹانا جائز ہے؟ جبکہ وہاں میں نمازیں بھی پڑھاتا ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خیبر پختون خواہ ،مارچ 2025عیسوی، ترمیم شدہ قانون کے مطابق ؛
(The Khyber Pakhtunkhwa Control of Narcotic Substances (Amendment) Act, 2025.)
(c) for clause (aa), the following shall be substituted, namely:
"(aa) "narcotic substance" means and includes the narcotic drugs and recreational drugs;";
"recreational drug" means the drug, used to induce an
; intoxicating effect, which creates hallucination for
pleasure, by modifying the perception, feelings and
emotions of the user, such as bhang, siddhi or ganja
and other such drugs known by different names;".
"ری کری ایشنل منشیات" سے مراد وہ نشہ آور شے ہے، جو نشہ پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جائے، جس کا اثر خوشی یا سکون حاصل کرنے کے طور پر بطور فریب (hallucination) ہو (مصنوعی اور غیر حقیقی سکون)، اور جو صارف کے احساسات، جذبات اور ادراک میں تبدیلی پیدا کرے، جیسے بھنگ، سدھی یا گانجا اور اسی نوعیت کی دیگر اشیاء جو مختلف ناموں سے جانی جاتی ہیں۔
"llA. Prohibition of controlled substances.---No one shall produce,
manufacture, extract, prepare, possess, offer for sale, sell, purchase,
distribute, deliver, on any terms whatsoever, transport, dispatch controlled
substance, . except for medical, scientific or industrial purposes, in the
manner and subject to such conditions as may be prescribed.
11 A۔ کنٹرول شدہ مادّوں (نشہ آور) کی ممانعت۔
"کوئی بھی شخص کسی کنٹرول شدہ مادّہ کی پیداوار، تیاری، استخراج، تیاری (preparation)، قبضہ، فروخت کی پیشکش، فروخت، خرید، تقسیم، ترسیل یا کسی بھی طریقے سے نقل و حمل یا بھیجنے (dispatch) کا عمل نہیں کرے گا، سوائے طبی، سائنسی یا صنعتی مقاصد کے لیے، اور وہ بھی اسی طریقے اور انہی شرائط کے تحت جو حکومت کی طرف سے مقرر کیے جائیں گے"۔
مذکورہ قانون کی درج بالا شقوں سے چند باتیں واضح ہوئیں؛
1۔بھنگ، نشہ آور اشیاء(Narcotic substances) میں شامل ہے۔
2۔عام شہری کو عام حالات میں بھنگ کی کاشت وغیرہ کی اجازت قانوناً نہیں ہے۔
3۔حکومت کی طرف سے صرف اس صورت میں اس کے اگانے یا دیگر سرگرمیوں کی اجازت ہے جبکہ (i)مقصد طبی (medical)،سائنسی (scientific) یا صنعتی (industrial) ہو۔
(ii)حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ضوابط اور اجازت نامے(license/permit) کے تحت کیا جائے۔
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ؛
- حکومت کی اجازت اور حکومت کی طرف سے طے کیے جانے والے قواعد وضوابط کی پابندی کے ساتھ،بھنگ کی کاشت جائز ہے اور اس کی آمدن بھی حرام نہیں ہے۔
- البتہ اگر حکومت کی اجازت یا قواعد وضوابط کی پابندی کا لحاظ کیے بغیر کاشت کی یا اس کی خرید وفروخت کی تو ایسی صورت میں حکومت کے ایک جائز اور مصلحت عامہ پر مبنی قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا،البتہ آمدن حرام نہیں ہوگی ،بشرطیکہ جانتے بوجھتے کسی ناجائزمقصد میں استعمال کرنے والے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کیا ہو۔
- درج بالا تفصیل کے مطابق چونکہ بھنگ کی آمدنی بہر حال حرام نہیں، اس لیے اگر کاشت کرلی اور ناجائز مقصد کے لیے فروخت نہ کی ہو تو اس کی آمدن سے قرض کی ادائیگی کی جاسکتی ہے،نیز آپ کے لیے والد صاحب کے ساتھ مذکورہ تفصیل کی رعایت رکھتے ہوئے بھنگ کی کاشت میں ہاتھ بٹانا بھی جائز ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار (6/ 454)
(وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون.
قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب لا يجوز، فيحمل على أن مراده بعدم الجواز عدم الحل. قاله المصنف.
رد المحتار (6/ 454)
قوله (وصح بيع غير الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع……… ثم إن البيع وإن صح، لكنه يكره، كما في الغاية….. قوله (مما مر) أي من الأشربة السبعة. قوله ( ومفاده الخ ) أي مفاد التقييد بغير الخمر، ولا شك في ذلك؛ لأنهما دون الخمر وليسا فوق الأشربة المحرمة، فصحة بيعها يفيد صحة بيعها، فافهم. قوله ( عدم الحل ) أي لقيام المعصية بعينها. وذكر ابن الشحنة أنه يؤدب بائعها، وسيأتي.
المجلة (ص: 20)
مادة 42: العبرة للغالب الشائع لا للنادر.
فتح القدير (8/ 1)
وعدم الوقوع بالبنج والأفيون لعدم المعصية فإنه يكون للتداوي غالبا فلا يكون زوال العقل بسبب هو معصية حتى لو لم يكن للتداوي بل للهو وإدخال الآفة قصدا ينبغي أن نقول يقع . قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ :وقد قيد ابن الملك في (شرح المنار) إباحة البنج والأفيون بما إذا كان للتداوي.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 454)
(وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون.
قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب لا يجوز، فيحمل على أن مراده بعدم الجواز عدم الحل.
الدر المختار (4/ 268)
قلت: وأفاد كلامهم أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها نهر.
(القرآن:المائدہ، الآیۃ: 2)
"وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ" .
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
29.ربیع الاول1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


