| 88547 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی فوت ہوتا ہے، جس کے ورثاء میں تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ایک بھائی کا کہنا یہ ہے کہ مرحوم باپ کی زندگی میں جو زمین خریدی گئی ،وہ میں نے اپنی ذاتی رقم سے لی اور اپنے باپ کے نام اس وجہ سے کرائی تاکہ دوسرے بہن بھائی محروم نہ ہوں،لیکن والد صاحب کی وفات کے بعد وہ بھائی کہتا ہے کہ میری خریدی ہوئی زمین میں دوسرے بھائی شریک نہیں ہیں، کیوں کہ میں ہی ملازم تھا اور آمدن میری ہی تھی، لہٰذا میری خریدی ہوئی چیز میری ہی ملکیت ہو گی۔چھوٹے بھائی کے متعلق اس کا کہنا یہ ہے کہ وہ تو اپنی پڑھائی کر رہا تھا ،اگر اس نے گھر میں کوئی کام کاج کیا بھی ہے ( ٹریکٹر چلانا کھیتی باڑی کرنا وغیرہ) تو چند سال کیا ہے جبکہ علاقے میں رواج یہی ہے کہ لوگ اکٹھے رہتے ہیں، خرچ وآمدن اکٹھی ہوتی ہے ،کسی کی آمدن زیادہ اور کسی کی کم ،کوئی ملازم ہوتا ہے اور کوئی گھر میں ہوتا ہے دیکھ بھال کے لیے، گھر کے کام کاج ، والدین کی خدمت، غمی اور خوشی میں شرکت کے لیے وغیرہ وغیرہ ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا بہن بھائی سب وراثت میں برابر کے شریک ہیں ؟کیا ایک بھائی کی خریدی ہوئی زمین وغیرہ باپ کی موجودگی میں اس کی ہوگی ؟اس میں دوسرے بھائی شریک نہیں ہوں گے ؟براہ کرم تفصیلی جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصولی بات یہ ہے کہ ہر انسان اپنی کمائی ہوئی دولت کا خود مالک ہوتا ہے، لہٰذا وہ اپنے ذاتی مال سے جو کچھ خریدے،وہ اسی کا ہوتا ہے۔
البتہ بعض علاقوں کے عرف میں طرزِ زندگی کی نوعیت کچھ اس طرح کی ہوتی ہے کہ بھائیوں میں سے بعض بھائی،گھر سے دور کسی دوسرے شہر یا دوسرے ملک میں کما رہے ہوتے ہیں اور باقی بھائی گھر کے پاس ہی کسی کام کاج میں مصروف ہوتے ہیں،نیز بعض بھائی باقاعدہ کچھ کما نہیں رہے ہوتے،لیکن جو بھائی گھر سے دور ہوتے ہیں،ان کے گھر والوں کی خدمت اور دیگر خاندانی ضروریات وغیرہ میں ان کی طرف سے بھی مصروف ہوتے ہیں،اگرچہ باقاعدہ کسی معاہدے کے تحت تو کاموں کی یہ تقسیم نہیں ہوتی لیکن عرفاً ایک طرح کی مفاہمت ضرور ہوتی ہے۔پھر جو بھائی کما رہے ہوتے ہیں وہ اپنی کمائی والد کے پاس بھیجتے رہتے ہیں اور والد اپنی صوابدید پر گھر کے اخراجات وغیرہ سب کر رہے ہوتے ہیں،جیسا کہ اس کی کچھ تفصیل سؤال میں بھی مذکور ہے۔
ایسی صورتحال میں جو کچھ کما کر والد کو دیا جارہا ہوتا ہے،وہ سب والد کی ملکیت ہی شمار ہوتا ہے الا یہ کہ اس کے خلاف کوئی صراحت یا عرف ہو۔
چنانچہ صورت مسؤولہ میں جس زمین سے متعلق بھائی کا دعوی ہے کہ وہ انہوں نے اپنی ذاتی رقم سے خریدی تھی اور والد صاحب کے نام ویسے ہی کروائی تھی تو اس بارے میں حکم یہ ہے کہ واقعتاًاگر اس بھائی نے والد صاحب کے نام مذکورہ زمین کروا کر،ہبہ کرتے ہوئے ان کے قبضے اور تصرف میں دے دی تھی تو وہ والد صاحب کی ملکیت شمار ہوگی اور تمام ورثاء اس کے حقدار ہوں گے۔البتہ اگر بھائی کے پاس اس بات کے کم از کم دوگواہ ہوں کہ یہ زمین والد صاحب کے نام ، فقط برائے نام کروائی تھی،ان کو ہبہ نہیں کی تھی اور قبضے و تصرف میں بھی نہیں دی تھی تو ایسی صورت میں بھائی کی بات معتبر ہوگی،بشرطیکہ مذکورہ زمین ان پیسوں سے خریدی گئی ہو جن کا تعلق والد صاحب کے کسی قسم کے کاروبار وغیرہ سے نہ ہو بلکہ خالصتاً اس بھائی کی علیحدہ سے ذاتی کمائی ہو،ورنہ بہرحال یہ زمین والد صاحب کی ملکیت شمار ہوگی اور وراثت میں تقسیم ہوگی۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 325)
وفي الخانية: زوج بنيه الخمسة في داره وكلهم في عياله واختلفوا في المتاع فهو للأب وللبنين الثياب التي عليهم لا غير، فإن قالوا هم أو امرأته بعد موته: إن هذا استفدناه بعد موته فالقول لهم، وإن أقروا أنه كان يوم موته فهو ميراث من الأب.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
09. ربیع الاول1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


