03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایمازون اکاؤنٹ کا عوض لینے کا حکم
88487خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں میں (محمد طلحہ) سکنٰی ملتان ایک انسٹیٹیوٹ میں کام کر رہا تھا،وہاں کے مالک نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کا ایمازون اکاؤنٹ (آن لائن شاپ ، جو کہ ایک شناختی کارڈ پر ایک بار ہی بنایا جاسکتا ہے )بنادوں ؟خرچہ سب میں کروں گا۔کمپنی کو اکاؤنٹ کی بندہ نے( اس لالچ میں کہ مالک (ابوبکر) نے پہلے  یہ بتایا ہوا تھا کہ جو ہمیں صرف اکاؤنٹ دے تو ہم اس کو 10٪ منافع کا شئیر دیتے ہیں ) اجازت دیدی ، اور اپنی ذاتی معلومات جیسے کے شناختی کارڈ کی تفصیل ، تصویر ، وغیرہ مہیا کردی ،لیکن کوئی معاہدہ یا مکالمہ نہیں ہواکہ کچھ لین دین ہوگا یا نہیں۔بعد ازاں ، جب میں نے وہ ادارہ چھوڑا تو میں نے دس فیصد منافع کا ذکر کیاتو انہوں نے کہا کہ ہم اس کو منافع دیتے ہیں، جو اکاؤنٹ بنا کر ہمارے حوالہ کردے۔آپ کے اکاؤنٹ پر خرچہ سب میرا ہوا ہے،آپ کو کچھ نہیں ملے گا،ہاں آپ مجھے پیمنٹ دےدو جو خرچ ہوا ہے، آپ اپنا اکاؤنٹ واپس لے لینا،میں نے کہا کہ آپ استعمال نہ کرو۔ جب میرے پاس پیسے ہوں گے میں واپس لے لوں گا،ابوبکر کی کنڈیشن یہ ہے کہ اپنے پورے گھرانے کے نام پر اکاؤنٹ بنا کر ضائع کر چکا ہے اور کچھ کلائنٹس کے اکاؤنٹ بھی ضائع ہوئے (ڈراپ شپنگ کی وجہ سے)اب سوال یہ ہے کہ(1) میرا شرعی کچھ حصہ منافع بنتا ہے یا نہیں ؟(2)کیا ابوبکر میری ذاتی معلومات بنا کسی معاوضے کے  استعمال کر سکتا ہے؟(3)کیا میں اس کو اکاؤنٹ کے استعمال سے منع کرسکتا ہوں؟ اگر میرا کوئی حصہ نہیں (4)اگر اکاؤنٹ ضائع ہوجاتا ہے تو پھر کیا ہوگا ؟ (کیونکہ ایک موقع ہی ملتا ہے،جبکہ پانچ سال کے تجربے کے باوجود وہ ایک اناڑی ہی ہے،(5)کیا اس طرح ایمازون اکاؤنٹ ابوبکر کو استعمال کے لیے دے کر اس پر منافع  لینا جائز ہے؟ جبکہ کام  ابوبکر  کرتا ہے ،آپ نے صرف اکاؤنٹ بنا کر دینا ہوتا ہے یا اکاؤنٹ کے لیے ذاتی معلومات دینی ہوتی ہیں ؟تفصیل سے بتادیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی کو اپنی ذاتی شناخت کی معلومات استعمال کرنے کی اجازت دینا کہ وہ اِن معلومات کی بنیاد پر ایک اکاؤنٹ بنائے اور اسے اپنے مقاصد میں استعمال کرے،یہ قانوناً،اخلاقاً اور شرعاً درست نہیں، نیزیہ کوئی ایسی منفعت نہیں جو اصلاً مقصود ہو اور شرعاً اس کا عوض لیاجا سکے۔اس کے علاوہ یہ کام جعل سازی کے لیے اکثر استعمال ہوتا ہے۔مثلاً یہ کام اس لیے کیا جاتا ہے کہ ایمازون کو یا ایمازون وزٹ کرنے والے کسٹمرز کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ اس اکاؤنٹ کے پیچھے وہی اصل شخص ہے، جس کی معلومات کی بنیاد پر یہ اکاؤنٹ کھلوایا گیا ہے،جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔

اسی طرح اس میں حق مجرد کی بیع ہونے کی خرابی بھی ہے،کیوں کہ ہر رجسٹرڈ شہری کو اپنے استعمال کے لیےمختلف قسم کے اکاؤنٹ بنانے کا حق ہوتا ہے،لیکن یہ حق کسی اور کو بالعوض یا بلا عوض دینے کا حق نہیں ہوتا،اس سے بہت سے مفاسد لازم آتے ہیں ،لوگوں کے کئی حقوق ضائع ہوتے ہیں۔

لہٰذاکسی اور کو اپنے نام سے اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دینا،مقصودی منفعت نہ ہونے،دھوکہ دہی میں استعمال ہونے اور حق مجرد کی بیع ہونے کی وجہ سے جائز نہیں،اوراس کا عوض لینا بھی جائز نہیں ہے۔

تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں؛

(1)نہیں۔

(2)بالعوض اور بلا عوض دونوں طرح کسی اور کی معلومات استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

(3)جی بالکل منع کرسکتے ہیں،بلکہ لازمی منع کریں،نیز اگر آپ کا کوئی حصہ ہوتا، تب بھی ان کے لیے آپ کا اکاؤنٹ استعمال کرنا درست نہ ہوتا نہ آپ کے لیے اس کا عوض لینا درست ہوتا۔

(4)کیوں کہ اس نے آپ کی اجازت سے آپ کے نام پر اکاؤنٹ بنایا ہے لہٰذا اگر کوئی حقیقی نقصان ہو، تو بھی آپ کے لیے اس نقصان کے بقدر کچھ لینے کی اجازت نہیں ہے،البتہ اگر وہ آپ کی اجازت کے بغیر بناتا تو پھر آپ کے لیے حقیقی نقصان کے بقدر عوض لینے کی اجازت ہوتی (بشرطیکہ نقصان حقیقی[Actual loss] ہو، نا کہ فرضی[Opportunity loss])

(5) نہیں۔

حوالہ جات

ومقتضى هذين التعريفين أن المال مقصور على الأعيان المادية، فلا يشمل المنافع والحقوق المجردة، ولذلك صرح الفقهاء الحنفية بعدم جواز بيع المنافع والحقوق المجردة، وقد صرحوا بأن بيع حق التعلي لا يجوز.

(مجلة مجمع الفقه الإسلامي، مقالة الشيخ محمد تقي العثماني، 5/1931)

قال الحصكفي ؒ: "وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية."

علق عليه ابن عابدين ؒ: "(قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل."(الدر المختار و حاشية ابن عابدين، 6/4، ط: دار الفكر)

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

05.ربیع الاول1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب