| 88533 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
سن 2019 میں میرے والد حاجی عید محمد نے میری والدہ ناز بی بی کو ایک زمین (جس پر مکان بھی تعمیر ہے) بطور حقِ مہر کے عوض دی۔اب والد صاحب وفات پا چکے ہیں۔میرے والد نے دو شادیاں کی تھیں۔پہلی بیوی (میری والدہ ناز بی بی) سے 6 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں۔دوسری بیوی (سوتیلی ماں) سے 2 بیٹے ہیں۔اب سوتیلی ماں اور اس کے دونوں بیٹے اس زمین کے بارے میں، جو حقِ مہر میں میری والدہ ناز بی بی کو دی گئی تھی، دعویٰ کر رہے ہیں۔براہ کرم اس معاملے میں شرعی فتویٰ دے کر ہمیں مطمئن فرمایا جائے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مہر زوجہ کا حق ہے،لہٰذا نکاح کے وقت مہر کے طور پر جو کچھ طے کیا گیا ہو،شوہر کی جانب سے اس کی ادائیگی کےبعد وہ زوجہ کی ملکیت شمار ہوتا ہے۔
چنانچہ سؤال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق جب آپ کے والد نے مہر کے طور پر طے کی جانے والی زمین، اپنی زوجہ یعنی آپ کی والدہ کو دے دی تھی تو وہ زمین، صرف آپ کی والدہ کی ملکیت شمار ہوگی اور آپ کے والد کے کسی دوسرے وارث کا حق اس زمین میں، بطور وراثت نہیں ہوگا،لہٰذا آپ کی سوتیلی والدہ یا ان کی اولاد کے لیے آپ کی سگی والدہ سے مذکورہ زمین میں سے کسی حق کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 313)
ولأبي حنيفة أن المرأة تملك المهر قبل القبض ملكا تاما إذ الملك نوعان: ملك رقبة، وملك يد، وهو ملك التصرف، ولا شك أن ملك الرقبة ثابت لها قبل القبض، وكذلك ملك التصرف؛ لأنها تملك التصرف في المهر قبل القبض من كل وجه، فلم يبق إلا صورة القبض.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 282)
وجملة الكلام فيه أن المهر في الأصل لا يخلو إما أن يكون معينا مشارا إليه، وإما أن يكون مسمى غير معين مشارا إليه، فإن كان معينا مشارا إليه صحت تسميته، سواء كان مما يتعين بالتعيين في عقود المعاوضات من العروض والعقار والحيوان وسائر المكيلات والموزونات سوى الدراهم والدنانير أو كان مما لا يتعين بالتعيين في عقود المعاوضات كالدراهم؛ لأنه مال لا جهالة فيه إلا أنه إن كان مما يتعين بالتعيين ليس للزوج أن يحبس العين ويدفع غيرها من غير رضا المرأة؛ لأن المشار إليه قد تعين للعقد فتعلق حقها بالعين فوجب عليه تسليم عينه وإن كان مما لا يتعين له أن يحبسه ويدفع مثله جنسا ونوعا وقدرا وصفة؛ لأن التعيين إذا لم يصح صار مجازا عوضا من الجنس والنوع والقدر والصفة…
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
09. ربیع الاول1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


