| 88548 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میں سنی العقیدۃ مسلمان ہوں ، میں نے قاسم العلوم ملتان کی ایک معلمہ صاحبہ سے حفظ کی تعلیم حاصل کی ہے اور عصری تعلیم ایم اے اسلامیات ہے، میں صوم و صلوۃ کے پابند اور باپردہ و باشرع دینی و دنیاوی طور پر تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئی ہوں ، ہمارے گھر کایعنی میکے کا ماحول حد درجہ اسلامی ہے،جہاں گفتگو بھی اچھے سے اچھے پیرائے میں کی جاتی ہے ۔
میری رخصتی کے بعد معلوم ہوا کہ میں ایک ایسے خاندان میں ہوں جو بظاہر دین دار اور اس کا معترف بھی تھا، جب کہ یہاں بے حیائی و بے پردگی و دین سے دوری اور شرعی احکام کی کوئی پابندی و آگہی نہ تھی۔ میں نے جہاں تک ہوسکا گزر اوقات کی۔ مصلحت و اصلاح اور درگزر سے اور چشم پوشی سے کام لیتی رہی اور تین سال تک حالات سے سمجھوتا کرتی رہی ۔
جب میرے زوج نے انتہا کی تو میری ہمت ختم ہوگئی کہ آخر میں گوشت پوست کی انسان ہی تو ہوں اور اللہ سے کیوں شکوہ کیا جائے، جب کہ اس نے راستہ کھلا چھوڑا ہے۔میں اپنے گھر کے حالات جتنے بھی بتانے لگی ہوں، یقینا وہ اختصار کے ساتھ ہیں اور الفاظ احساسات کی غمازی ہرگز نہیں کر سکتے ، یعنی جس پر گزرتی ہے، وہی بہتر جانتا ہے۔یہ حالات و واقعات کسی نہ کسی گناہ کبیرہ سے ضرور جڑتے ہیں اور اللہ کے احکامات کی نافرمانی ہی کہلاتے ہیں، نیز آپ بہتر جانتے ہیں کہ بندوں کے حقوق اور حسن معاملات کی اسلام میں کیا اہمیت ہے؟ زندگی اس قدر ارزاں نہیں کہ اسے ایک ذہنی پسماندہ آدمی پر قربان کردیا جائے، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ دو اور نئی زندگیوں کے لیے بھی یہ غیرشرعی ماحول،اخلاقی بگاڑ کا باعث ہوگااورالحمدللہ علیٰ احسانہ وبفضلہ اللہ نے راستہ بھی کھلا چھوڑا اور اسوۂ حسنہ بلا شبہ اعلیٰ ترین تفسیر ہے۔
اس سے پہلے کہ زندگی میں کوئی بڑا حادثہ ہواورپھر اس کی ذمہ داری ہمارے معاشرے میں نصیب و قسمت کے لکھے پر ڈال دی جائے، اس حادثے سے صرف خود کو ہی نہیں بلکہ دو معصوم جانوں کو بچانے کے لیے،نیز خود کو کسی دست درازی سے بچانے کے لیے ۔۔۔۔۔۔ اللہ جل جلالہ کے حکم پاک ؛
{وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229)} [البقرة: 229]
ترجمہ:
"(اے شوہرو)تمہارے لیے یہ حلال نہیں کہ تم نے (ان بیویوں ) کو جو کچھ دیا ہو، وہ (طلاق کے بدلے) واپس لو، الا یہ کہ ان دونوں کواس بات کا اندیشہ ہوکہ (نکاح باقی رکھنے کی صورت میں)اللہ کی مقرر کردہ حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے،تو ان دونوں کے لئے کوئی گناہ نہیں کہ عورت مالی معاوضہ دے کر علیحدگی اختیار کرلے ، یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں، لہٰذا ان سے تجاوز نہ کرنا ، اور جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں وہ بہت ظالم ہیں "۔
پر عمل کرتے ہوئے اپنے مالک و خالق کے دیے حق کو استعمال کرتے ہوئے ، کنارہ کرلوں ۔ حالات و واقعات اختصار واحساسات سے عاری الفاظ کے ساتھ زوج کے وائس نوٹس بھی گوش گزار کیے جائیں گے ۔میرا زوج اپنی ماں وغیرہ کے ساتھ جا لیٹنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا ، محرم خواتین سے گلے ملتا ہے۔اصلاح کے جواب میں بارہا کہہ چکا ہے کہ (طلاق کے) کاغذ لے آؤ ، میں نے تو صرف دستخط کرنے ہیں ۔وہ اشارے کنائے میں ایک طلاق دے بھی چکا ہے۔اس کی توہم پرستی کا اندازہ اس واقعے سے لگائیے،جو اس نے خود سنایا، گویا اپنی بد سلوکی کی وجہ بتائی کہ جب مجھے رخصت کرا کے اپنے گھر تک لےآئےتو میرے زوج کو سامنے ایک گدھا نظر آیا ، زوج بتاتے ہیں کہ میں نے اسی وقت ارادہ کرلیا کہ تمہارے ساتھ گدھے والا سلوک ہی کروں گا۔ (موصوف کی مجھ سے دوسری شادی تھی ، پہلی بیوی رشتہ دار تھی اور طلاق لے کرجا چکی تھی)۔
12000حق مہر معجل طے پایا،جو چند دنوں میں زوج نے واپس لے لیے کہ ماں کا قرض اتارنا ہے۔سنت کے مطابق میری رخصتی سادگی کے ساتھ مسجد میں ہونے والے نکاح پر مشتمل تھی یعنی جس میں بارات یا جہیز کا تصور نہیں تھا، البتہ گھر والوں کی طرف سے گنتی کے تحائف ضرور تھے ۔موصوف کی والدہ اور بہن نے مجھے قریبی اسکول میں ملازمت کروائی ،جس میں یقیناً موصوف کی رضامندی شامل تھی ، جس کا مقصد یہ تھا کہ اپنی ضرورت کا سامان خود کما کر بناؤں ، اور ایسا میں نے کیا بھی۔ میری والدہ نے میرے گھر سے نکلنے یعنی ملازمت کی ہمیشہ مخالفت کی اور اصلاح کی کوشش موقع بموقع کرتی رہیں اور جواب میں وہ ہم سب کے میرے اور میری والدہ کے دشمن ہو گئے، صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ آخری ایام میں انہوں نے یہ دھمکی دی کہ وہ میرے دونوں بھائیوں کو کاٹ کر ایسی جگہ دفن کریں گے کہ ہمیں اس جگہ کا علم ہی نہ ہوگا ۔
میرا میکے جانا یا والدہ کا مجھ سے ملنے کے لیے آنے پر پابندی لگ گئی ، نافرمانی کی صورت میں شوہر کی ماں اور بہن مجھے اپنے رشتہ دارغنڈوں سے مروانے کی نہ صرف دھمکی دیا کرتیں بلکہ انہوں نے بلا ئےبھی تا کہ میری اصلاح ہو سکے۔کل پانچ بارمیں جھگڑے اور غنڈوں سے خوف زدہ ہوکر میکے آئی ،مگر میری والدہ نے مجھے پانچ بارجلد از جلد واپس پہنچایا،اس کے جواب میں مجھے ذلت آمیز سلوک اور گالم گلوچ کا سامنا کئی دنوں بلکہ ہفتوں تک بھی رہتا ۔ایک بار میں پریشان حال میکے جانا چاہتی تھی،مگر میری والدہ خود آگئیں اور مجھے سسرال میں ہی روک لیا تو موصوف نے گالم گلوچ کے ساتھ میری والدہ سے بار بار کہا کہ" اپنی بیٹی کو لے جائیں"،مزید واضح کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں باور کروایا : "میرا خاندان میری (طلاق یافتہ) ماں اور(طلاق یافتہ) بہن ہیں" ۔
یہ لڑائی ڈیڑھ گھنٹا جاری رہی، میری والدہ صلح صفائی کی بات کرتیں، مگر زیادہ وقت مصلحت کے پیش نظر خاموشی سے سننے پر ہی اکتفاء کرتی رہیں تاکہ موصوف کے ساتھ ان کی والدہ کی بھی باڈی لینگویج اور بد سلوکی کا جائزہ خوب موقع دے کر باریک بینی سے لے سکیں۔آخر کار موصوف کا تقاضا میری والدہ رد کرکے چلی گئیں ۔پھر جو بعد میں ہوا اس کا کچھ نہ کچھ اندازہ ہر ایک شخص بخوبی لگا سکتا ہے۔ بیٹے کی خواہش سے مرعوب ہوکرسال بھر کی بچی کو قریبی ندی میں جا پھینکنے کی نیت کی ،مگر اس کے خالق و مالک نے بچا لیا، پھر دوسری بیٹی جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھی جب اس کی جنس ان کے علم میں آئی تو چھری اٹھا کر اسے قتل کرنے کو دوڑے،مگر میں شکرگزار ہوں اس خالق و مالک کی جو مارنے والے سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے۔اندازہ لگائیے شیطان کے تسلط میں آیا ہوا اس وقت کا ماحول، کس قدر وحشت ناک ہوگا؟مجھے اپنے بھائیوں کے ساتھ آنے جانے پر مجبور کیا جاتا، صبح کی نماز سال بھر کی چند ایک پڑھی ہوں گی ، اگر چار بار پڑھی ہو تو تین بار گھر میں قضا پڑھی ہوگی۔ مجھے اپنی بہنوں کا گروپ فوٹو لانے کا مطالبہ بھی کرتے اور سالیوں کو بہنیں، اس قدر سمجھتے کہ ان کے پردہ کرنے پر برہم رہتے اور ان سے بات چیت کرنے اور الزامات لگانے کے بہانے تلاش کرتے۔
وہ اپنے چھوٹے بھائی کا رشتہ میری والدہ سے مانگتے رہے، مگر وہ بھائی ان سے بھی گیا گزرا ہے،اس لیے والدہ نے ہمیشہ سختی سے انکار کیا تو مجھے بھی ان الفاظ کے ساتھ دھمکاتے رہے کہ یہاں رہیں گی توتم دونوں بہنیں رہو گی ورنہ تم بھی نہیں رہوگی۔ایک سے زائد بار مجھے ، دونوں بچیوں کواور آخر میں خود کو گولی مار دینے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔
انتہائی نامساعد حالات میں بہت دعاؤں کے ذریعے میں بہن کی رخصتی کے سلسلےمیں میکے آ گئی تو انہوں نےیہ الزام لگایا کہ میں گھر سے 50000 نقدی اور دو تولہ سونا چرا کر آئی ہوں۔تین چار ماہ میں میکے میں بیٹھی ،والدین نے انہیں بلانے کے پیغامات بھیجے کہ تھوڑی صلح صفائی کے ساتھ لے جائیں ،مگر وہ نہ آئے ،جب ان کے رشتہ دار بھی انہیں سمجھا کر بیٹھ گئےاور کوئی راستہ نہ رہا تو ہم نے عدالت کا رخ کیا اور خرچے کا کیس کر دیا، دوڈھائی سال کیس چلا اور انہیں خرچے کے کیس میں بری طرح سے نااہل قرار دیتے ہوئے کیس خارج کر دیا گیا۔ان حالات میں میرا اللہ کے حکم سے یہ سوال ہے کہ کیا میں اپنی جان ،عزت و آبرو اور دو معصوم بچیوں کو بچانے کے لئے اپنے مالک و خالق جو رحیم و کریم ہے کے دیے گئے حق خلع کو استعمال کر سکتی ہوں ؟
واقعات و حالات کے گواہان:
(۱)محمد احمد عبداللہ (بھائی) (۲)محمد رمضان(والد صاحب)
تنقیح:
سوال میں مذکور جملہ کہ "وہ اشارے کنائے میں ایک طلاق دے بھی چکا ہے"،اس کی وضاحت فرمائیں؟
جواب:"تم میری زوجیت میں نہیں رہیں"۔ یہ جملہ استعمال کیا تھا۔
صرف پاس کھڑی اپنی ماں کو خوش کرنے کے لیے اور مجھے تھوڑے وقت کے لیے میری امی کے ساتھ میکے بھیجنا چاہتے تھے ، جب کہ امی مجھے نہ لے گئیں ۔یہ گاہے بگاہے یہ بھی کہا کرتے:"میں نے تمہارا معاملہ تم پر چھوڑ دیا ، تم نے رہنا ہے تو تم اپنی مرضی سے رہو ،یاد رکھنا !آگے تمہارے ساتھ اس سے بھی برا ہوگا"۔
"تم میری زوجیت میں نہیں رہیں"،اس جملے کو میں نے تو یاد رکھ لیا مگر اور کسی نے کوئی نوٹس نہیں لیا ،مطلب ان کی والدہ یا بہن نہیں چونکیں، خود انہوں نے بھی کبھی نہیں سوچا کہ وہ کیا کہہ گئےاور میں نے یہ بات چند ماہ بعد اپنی امی کو بتائی۔
- میں عرصہ تین سال سے میکے میں ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1)"تم میری زوجیت میں نہیں رہی" یا (لڑائی کے وقت کہنا کہ) "اپنی بیٹی کو لے جائیں"یہ ایسے الفاظ ہیں کہ ان سے نیت کے بغیر طلاق نہیں ہوتی،لہٰذا اگر یہ الفاظ کہتے وقت شوہر کی نیت طلاق دینےکی نہیں تھی تو ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور نکاح برقرار ہے۔
(2)مذکورہ جملوں میں سے پہلے جملےیعنی" تم میری زوجیت میں نہیں رہی" سے شوہر کی نیت اگر طلاق کی تھی تو ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی تھی،طلاق رجعی کے بعد اگر لڑکے نےدوران عدت رجوع کیا تھا تو نکاح برقرار رہا اور اگر دوران عدت رجوع نہیں کیا تھا تو عدت گزر جانے سے نکاح ختم ہوچکا،نکاح ختم ہوجانے کی وجہ سےبعد میں کہے گئے جملے کہ "اپنی بیٹی کو لے جائیں" وغیرہ سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
(3)البتہ اگر دوران عدت یا رجوع کے بعد (دوبارہ لڑائی کے وقت) یہ جملہ کہا تھاکہ "اپنی بیٹی کو لے جائیں" اور نیت طلاق کی تھی تو ان الفاظ سے دوسری طلاق بائن واقع ہوچکی تھی،اور نکاح برقرار نہیں رہا۔
(4)سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق،درج بالا جواب میں مذکورشق نمبردومیں ذکر کردہ صورت پیش آنے کی صورت میں اگرطلاق ہوچکی تھی اور کسی بھی طرح رجوع نہیں ہوا تھا تو نکاح ختم ہوچکا ، خلع کی ضرورت نہیں۔اسی طرح اگر پہلی طلاق کے بعد رجوع ہوچکا تھا لیکن شق نمبر تین میں مذکور صورت کے مطابق طلاق بائن ہوچکی تھی اور دوبارہ نکاح نہیں ہوا تھا تو بھی خلع کی ضرورت نہیں۔بصورت دیگر نکاح برقرار ہے،شوہر کے طلاق یا خلع دیے بغیر یہ نکاح از خود ختم نہیں ہوگا۔
(5)یاد رہے کہ بلا وجہ یا معمولی رنجشوں پر طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنے والی عورتوں پر حدیث میں سخت وعید آئی ہے،ایک حدیث کے مطابق ایسی عورت پر جنت کی خوشبو حرام ہے،یعنی جنت میں داخل ہونا تو دور کی بات ہے،جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گی۔
(6)البتہ اگرمیاں بیوی کے درمیان باہم ایسی ناچاقیاں ہوں جن کی وجہ سے اکٹھے رہنا مشکل ہواور باہم اتفاق کی کوئی صورت نہ ہو ، یا ایک ساتھ رہنے میں اللہ جل شانہ کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل ممکن نظر نہ آئےتواس بنیاد پر عورت طلاق یا خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے،لیکن طلاق یا خلع دینے کااختیار عورت کے پاس نہیں ہے، بلکہ یہ اختیار مرد کا ہے کہ وہ طلاق یا خلع دے یا نہ دے۔
چند اسباب ایسے ہیں جیسے شوہر کا نامرد ہونا یا مجنون ہونا یا ضروری نان نفقہ نہ دینا یا شوہر کا ایسا گم ہوجانا کہ اس کی زندگی اور موت کا علم نہ ہوسکے یا شوہر کا بے جاظلم وستم اور مارپیٹ کرتے رہنا کہ اس کے ساتھ رہنا انتہائی مشکل ہوجائے وغیرہ، جن کے ثابت ہونے کے بعد شرعاً عدالت یا جج کو بھی یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ شوہر کی رضا مندی کے بغیر اس کی غیر موجودگی میں اس کے قائم مقام ہوکر میاں بیوی کے درمیان تفریق کردے ،جسے فسخ نکاح کہا جاتا ہے،بشرطیکہ مذکورہ اسباب، شرعی طور پر ثابت ہوجائیں۔جس کا طریقہ یہ ہے کہ عورت ان وجوہات کی بنیاد پر عدالت میں فسخ نکاح کا دعوی دائر کرے اور اپنے دعوی کو شرعی گواہوں یعنی دو مرد، یا ایک مرد اور دو عورتوں کی زبانی یا تحریری گواہی کے ذریعے عدالت میں ثابت کردے یا ایک گواہی کے ساتھ عورت سے حلفیہ بیان لیا گیا ہواور عدالت نے اس ثبوت کی بنیاد پرفریقین کے درمیان فسخِ نکاح (خلع کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ بھی فسخ کے حکم میں ہو گا) کا فیصلہ کیا ہوتو اس صورت میں عدالت کا یہ فیصلہ شرعاً معتبر اور نافذ ہے اور فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو جائے گا، اگرچہ شوہر اس پر راضی نہ ہو یا عدالت میں موجود نہ ہو۔
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں، چونکہ سوال میں ایسا کوئی الزام آپ کی طرف سے واضح نہیں ہے،جس کی بنیاد پر شوہر کی رضا مندی کے بغیرعدالت کی طرف سےدی جانے والی خلع معتبر ہوسکے،لہٰذا اگر زوجین کے مابین نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو اور نباہ انتہائی مشکل ہوچکا ہو تو شوہر کو واضح طور پرطلاق دینے یا خلع دینے پر راضی کرنے کی کوشش کی جائے۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (9/ 375)
( قوله : وتطلق بلست لي بامرأة أو لست لك بزوج إن نوى طلاقا ) يعني وكان النكاح ظاهرا وهذا عند أبي حنيفة لأنها تصلح لإنشاء الطلاق كما تصلح لإنكاره فيتعين الأول بالنية وقالا لا تطلق ، وإن نوى لكذبه……والأصل أن نفي النكاح أصلا لا يكون طلاقا بل يكون جحودا ونفي النكاح في الحال يكون طلاقا إذا نوى وما عداه فالصحيح أنه على هذا الخلاف قيد بالنية لأنه لا يقع بدون النية اتفاقا لكونه من الكنايات ولا يخفى أن دلالة الحال تقوم مقامها حيث لم يصلح للرد ، والشتم ويصلح للجواب فقط وقدمنا أن الصالح للجواب فقط ثلاثة ألفاظ ليس هذا منها فلذا شرط النية للإشارة إلى أن دلالة الحال هنا لا تكفي وأشار بقوله : تطلق، إلى أن الواقع بهذه الكناية رجعي.
الاختيار لتعليل المختار (3/ 139)
وكذا قوله: لست لي بامرأة، أو ما أنت لي بامرأة، أو لست لك بزوج، أو ما أنا لك بزوج ونوى الطلاق يقع، وقالا: لا يقع لأنه إخبار كذب فلا يقع وإن نوى. وله أنه يحتمل الطلاق بالإضمار تقديره: لست لي بامرأة لأني طلقتك، وإذا احتمل ذلك ونواه صحت نيته فيقع الطلاق.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 282)
لست لك بزوج أو لست لي بامرأةأو قالت له لست لي بزوج فقال صدقت طلاق إن نواه خلافا لهما.
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 283)
(قوله طلاق إن نواه) لأن الجملة تصلح لإنشاء الطلاق كما تصلح لإنكاره فيتعين الأول بالنية وقيد بالنية لأنه لا يقع بدونها اتفاقا لكونه من الكنايات، وأشار إلى أنه لا يقوم مقامها دلالة الحال لأن ذلك فيما يصلح جوابا فقط وهو ألفاظ ليس هذا منها.وأشار بقوله طلاق إلى أن الواقع بهذه الكناية رجعي، كذا في البحر من باب الكنايات.
الفتاوى الهندية (1/ 375)
ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى، ولو قالت المرأة لزوجها لست لي بزوج فقال الزوج صدقت ونوى به الطلاق يقع في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في فتاوى قاضي خان.
[البقرة: 229]
فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229)
تفسیر القرطبی:(139/3):
فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به تلك حدود الله فلا تعتدوها ومن يتعد حدود الله فأولئك هم الظالمون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قوله تعالى: (فإن خفتم ألا يقيما) أي على أن لا يقيما. (حدود الله) أي فيما يجب عليهما من حسن الصحبة وجمل العشرة.
السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي (7/ 316)
عن ثوبان عن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال :" أيما امرأة سألت زوجها طلاقا فى غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة".
الدر المختار (3/ 441)
(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر)…
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 441)
(قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ. ط، وهذا هو الحكم المذكور في الآية، وقد أوضح الكلام عليه في الفتح آخر الباب.
أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص: 165)
وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.
حاشية ابن عابدين (3/ 498)
قوله ( وإلا بانت بالتفريق ) لأنها فرقة قبل الدخول حقيقة فكانت بائنة ولها كمال المهر وعليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة ,بحر , قوله ( من القاضي إن أبى طلاقها ) أي إن أبى الزوج لأنه وجب عليه التسريح بالإحسان حين عجز عن الإمساك بالمعروف فإذا امتنع كان ظالما فناب عنه وأضيف فعله إليه.
المبسوط للسرخسي (6/ 173)
(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 440):
في التتارخانية وغيرها: مطلق لفظ الخلع محمول على الطلاق بعوض؛ حتى لو قال لغيره اخلع امرأتي فخلعها بلا عوض لا يصح (قوله: أو اختلعي إلخ) إذا قال لها اخلعي نفسك فهو على أربعة أوجه: إما أن يقول بكذا فخلعت يصح وإن لم يقل الزوج بعده: أجزت، أو قبلت على المختار؛ وإما أن يقول بمال ولم يقدره، أو بما شئت فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده.
بداية المجتهد ونهاية المقتصد (3/ 90):
المسألة الثالثة: وأما ما يرجع إلى الحال التي يجوز فيها الخلع من التي لا يجوز: فإن الجمهور على أن الخلع جائز مع التراضي إذا لم يكن سبب رضاها بما تعطيه إضراره بها.والأصل في ذلك قوله تعالى: {ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [النساء: 19] وقوله تعالى: {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229]۔
بداية المجتهد ونهاية المقتصد (4/ 252) دار الحديث – القاهرة:
وأما ثبوت الحق على المدعى عليه بنكوله فإن الفقهاء أيضا اختلفوا في ذلك، فقال مالك، والشافعي وفقهاء أهل الحجاز وطائفة من العراقيين: إذا نكل المدعى عليه لم يجب للمدعي شيء بنفس النكول، إلا أن يحلف المدعي أو يكون له شاهد واحد........... ومن حجة مالك أن الحقوق عنده إنما تثبت بشيئين: إما بيمين وشاهد، وإما بنكول وشاهد، وإما بنكول ويمين.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 414) دار الفكر-بيروت:
(قوله: ولو قضى على غائب إلخ) أي قضى من يرى جوازه كشافعي لإجماع الحنفية على أنه لا يقضى على غائب كما ذكره الصدر الشهيد في شرح أدب القضاء، كذا حققه في البحر. والحاصل: أنه لا خلاف عندنا في عدم جواز القضاء على الغائب. وإنما الخلاف في أنه لو قضى به من يرى جوازه هل ينفذ بدون تنفيذ أو لا بد من إمضاء قاض آخر.
منح الجليل شرح على مختصر سيد خليل (8/ 371) دار الفكر،بيروت:
ولما أفاد أن القاضي يحكم على الغائب وكانت الغيبة ثلاثة أقسام قريبة وبعيدة ومتوسطة ذكرها على هذا الترتيب فقال و الغائب القريب الغيبة كثلاثة أيام مع أمن الطريق كالحاضر في سماع الدعوى عليه والبينة ۔ ابن الماجشون العمل عندنا أن تسمع الدعوى والبينة حضر الخصم أو لم يحضرفإن كان له مدفع وإلا قضى عليه في كل شيء بعد الإرسال إليه وإعلامه بمن قام عليه دعواه وما ثبت عليه وتسمية الشهود.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
18.صفر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


