03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سوئمنگ پول میں امتیازی اجازت کا شرعی حکم
90164جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ایک دینی ادارے میں ایک سہولت مثلاً: سوئمنگ پول وقتی طور پر عام طلبہ کے لیے بند کر دی جاتی ہے اور انہیں اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی جاتی،لیکن اسی دوران بعض مخصوص افراد (مثلاً: کسی ذمہ دار کے قریبی لوگ یا اس کے بیٹے وغیرہ) اس سہولت کو ذمہ دار کی سفارش یا اثر و رسوخ کے ذریعے استعمال کر لیتے ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ: 1. کیا اس طرح مخصوص لوگوں کو اجازت دینا جبکہ باقیوں کو منع کرنا شرعاً جائز ہے؟ 2. کیا اپنے عہدے یا اثر و رسوخ کو ذاتی یا قریبی لوگوں کے فائدے کے لیے استعمال کرنا درست ہے؟ 3. ایسے معاملے میں عام طلبہ کا کیا طرزِ عمل ہونا چاہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی ادارے میں دستیاب سہولیات کی عمومی یا خصوصی  اجازت ایک انتظامی معاملہ ہے ۔ایسے معاملے میں انتظامیہ اپنے قواعد و ضوابط اور ادارتی عرف کے تحت فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔اگر کسی کو لگتا ہے کہ اس کا کوئی لازمی حق اسے نہیں دیا جا رہا ،تو اس کی تفصیل ثبوت کے ساتھ متعلقہ انتظامیہ کو پیش کردی جائے وہ اس پر غور کر کے جواب دے دیں گے  ۔تاہم انتظامیہ کے صوابدید ی اختیارات کے معاملے میں محض  کسی کی  منفی رائے کی بنیاد پرحتمی فتوی نہیں دیا جاسکتا۔      

حوالہ جات

حنبل اکرم

  دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

08 / ذو القعدہ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب