03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح نامہ میں مہر کے علاوہ لکھے گئےمکان کے حصے کا حکم
88444میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک شخص عزیز ........  نے اپنے ورثاء میں پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑیں، انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹے محمد ارشد جاوید کی شادی کے موقع پر اُس کی ہونے والی بیوی سعدیہ عنبر کے نکاح نامے میں اپنے بیس (20) مرلہ تیار مکان میں سے سولہ (16) مرلہ کے پانچویں حصے کو بطور قطعی ملکیت درج کروایا، یہ تحفہ نکاح کے موقع پر ازدواجی زندگی کے تحفظ کے طور پر دیا گیا تھا اور حق مہر الگ سے پانچ ہزار روپے مقرر کیا گیا تھا،یہ حصہ مہر کا حصہ نہیں ،بلکہ ایک گفٹ (ہبہ) تھا،مکان کی مشرقی سمت میں شمال سے جنوب کی طرف دو دکانیں ،غسل خانہ، مرکزی (مین) گیٹ اور ایک چھوٹا گیٹ موجود ہے، جنہیں گھر کے تمام افراد استعمال کرتے ہیں، شمالی جانب تمام کمرے ہیں جن کے سامنے برآمدہ اور پھر صحن واقع ہے۔

 سعدیہ عنبر کو دکانوں اور باتھ روم سے متصل ایک کمرہ، اس کے سامنے برآمدہ اور پھر صحن دیا گیا،نکاح نامے میں سعدیہ کو دیئے گئے حصے کی تعیین کے لیے "مین گیٹ والا" نہیں، بلکہ "مین گیٹ کے ساتھ والا" لکھوایا گیاجو والد صاحب نے اپنی طرف سے درج کروایا تھا، سعدیہ اب اس کمرے، برآمدے اور سامنے کی جگہ کو اپنا حصہ قرار دیتی ہیں اور آگے موجود خالی جگہ (جو مین اور چھوٹے گیٹ کے سامنے ہے) کو "صحن" شمار کرتی ہیں، ازروئے شریعت  اس صورت حال کا فیصلہ درکار ہے۔

تنقیح:سائل نے وضاحت کی ہے کہ سولہ مرلے میں سے پانچویں حصےکی لمبائی اور چوڑائی میں  اس طور پر باقاعدہ حد بندی نہیں کی گئی کہ سولہ مرلے میں تمہارا حصہ یہاں سے یہاں تک ہے،البتہ اس حصے میں اسے ایک کمرہ اور واش روم دیا گیاجو صرف اس کے اور اس بچوں کے استعمال میں تھا،البتہ جوائنٹ فیملی کی وجہ سےبوقتِ ضرورت گھر کے دیگر افرادواش روم  استعمال کرلیتے تھے،اسی طرح کمرے کے سامنے اپنے لئے کچن بھی سسر کی اجازت سے بنادیا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مفتی غیب کا علم نہیں جانتا،وہ سوال کے مطابق جواب دیتا ہے،اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیل واقع کے مطابق نہ ہو تو دیا گیا جواب صورت مسئولہ پر منطبق نہیں ہوگا  اورمحض مفتی کے بتانے سے حلال چیزحرام اور حرام چیز حلال نہیں بنے گی،لہذا اگر  کوئی بھی سائل غلط بیانی سے کام لے کر اپنے فائدے کے مطابق جواب حاصل کرے گا تو اس کا وبال اسی کے سر ہوگا،اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

سوال کے ساتھ آپ نے دو مختلف اداروں کے دارالافتاء کے جوابات بھی لف کئے ہیں،جن میں سے جامعہ خیرالمدارس کے فتوی میں مکان اس حصے کو مہر قرار دیا گیا ہے،جبکہ جامعہ عربیہ کے فتوی میں اسے ہبہ قرار دیا گیا ہے،لیکن وہاں جو استفتاء بھیجاگیا ہےاس میں قبضے کی بھی تصریح کی گئی ہے،جس کی وجہ سے وہاں سے ہبہ تام ہونے کی بنیاد پر متعلقہ جگہ کو سعدیہ عنبر کی ملکیت قرار دیا گیا ہے۔

ہماری رائے کے مطابق مکان کا مذکورہ حصہ مہر کے حکم میں نہیں،کیونکہ ورثا کے بیان کے مطابق یہ حصہ مہر کے علاوہ ازدواجی زندگی کے تحفظ کے طور پر لکھوایا گیا تھا،ورثا کے اس بیان کی تائید نکاح نامے سے بھی ہوتی ہے،اس طور پر کہ مکان کے اس حصے کوسیریل نمبر 17 میں خاص شرائط کے تحت لکھا گیا ہے اور اس سیریل نمبر کے تحت وہ اشیاء درج کی جاتی ہیں جو مہر کے علاوہ ہوتی ہیں،اس لئے مکان کا یہ حصہ سسر کی جانب سے اپنی بہو کے حق میں ہبہ شمار ہوگااور شرعا ہبہ کی درستگی اور تکمیل کے لئے ہبہ کی جانے والی چیز کو باقاعدہ تقسیم کرکے اس کے حوالے کرنا ضروری جسے چیز ہبہ کی جارہی ہے،بشرطیکہ وہ تقسیم کے قابل ہو،اس کے بغیر ہبہ مکمل نہیں ہوتا۔

لہذا سسر نے نکاح نامے میں مکان کا جو حصہ لکھوایا تھا،اس میں سے جو جگہ انہوں نے  بہو کے قبضے  اور تصرف میں دے دی تھی،وہ جگہ  ہبہ مکمل ہونے کی وجہ سے سعدیہ عنبر کی ملکیت بن گئی تھی اور سسر کے انتقال کے بعد اب ورثا کا اس میں کوئی حق نہیں ہے،جبکہ سولہ مرلے میں سے پانچویں حصے میں داخل وہ جگہ جس کا قبضہ اور تصرف انہوں نے زندگی میں بہو کو نہیں سونپا، ہبہ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے وہ جگہ بدستور انہی کی ملکیت رہی،اس لئے ان کی وفات کے بعد ان کے ترکہ (وہ سونا،چاندی،نقدی،جائیداد یا ان کے علاوہ کوئی بھی چھوٹی بڑی چیز جو وفات کے وقت ان کی ملکیت میں تھی) میں شامل ہوکر ورثا میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية "(4/ 376):

"وتصح في محوز ،مفرغ عن أملاك الواهب وحقوقه ومشاع لا يقسم ولا يبقى منتفعا به بعد القسمة من جنس الانتفاع الذي كان قبل القسمة كالبيت الصغير والحمام الصغير ولا تصح في مشاع، يقسم ويبقى منتفعا به قبل القسمة وبعدها، هكذا في الكافي.

ويشترط أن يكون الموهوب مقسوما ومفرزا وقت القبض لا وقت الهبة بدليل أنه لو وهب له نصف الدار شائعا ولم يسلم حتى وهب النصف الآخر وسلم الكل تجوز، كذا في الظهيرية. ولو وهب نصف الدار لرجل وسلم ثم وهب النصف الباقي وسلم لا تجوز وكلتاهما فاسدتان، هكذا في النهاية.

ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط".

"درر الحكام شرح غرر الأحكام" (2/ 220):

"نقل في الذخيرة عن المنتقى عن أبي يوسف :لا يجوز للرجل أن يهب من امرأته وأن تهب لزوجها أو الأجنبي دارا وهما ساكنان فيها وكذلك الهبة للولد الكبير؛ ‌لأن ‌يد ‌الواهب ‌ثابتة ‌على ‌الدار".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

25/صفر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب