| 90120 | نان نفقہ کے مسائل | بیوی کا نان نفقہ اور سکنہ ) رہائش (کے مسائل |
سوال
واجب نان نفقہ السلام علیکم ۔اگر شوہر بیوی کو بار بار کمانے کا کہے جبکہ حیثیت ہو نے کے باوجود بیوی کے مکان میں رہے ۔کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟ ۔کیا عورت کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی۔؟ اج کےدورمیں واجب نام نفقہ میں کیا کیا شامل ہے۔ نیزبیوی اور شوہر کی مالی حیثیت ایک جیسی ہے اور دونوں درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسلام میں بیوی کا نان نفقہ شوہر کے ذمہ واجب ہے ،نان نفقہ میں کھانا ،کپڑے اور رہائش شامل ہے نان نفقہ میاں بیوی دونوں کی مالی حیثیت اور عرف کے مطابق دینا لازم ہوتا ہے ۔لہذا شوہر کا عورت کو کمانے پر مجبور کرنا جائزنہیں۔ ہاں اگر بیوی مکمل پردے کے ساتھ خواتین کے لیے کوئی مناسب ملازمت اپنی خوشی سے کرے تو جائز ہوگا اور جائز کام کی آمدنی بھی بابرکت ہوگی ۔یاد رہے کہ بیوی کی آمدنی اس کی ذاتی ملکیت ہوگی اور اس کے شوہر کا اس میں کوئی حصہ نہ ہوگا ۔ہاں اگر وہ خوشی سے شوہر پر خرچ کرے تو حرج نہیں ۔ یہی مسئلہ گھر کا بھی ہے بیوی کی رضامندی کے بغیر اس کے گھر میں رہنا درست نہیں ہاں وہ خوشی سے اجازت دے تو شوہر رہ سکتا ہے ۔
حوالہ جات
الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ [النساء: 34]
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (3/ 574):
فتستحق النفقة (بقدر حالهما) به يفتى، -
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (4/ 379):
(ويعتبر في ذلك حالهما جميعا) قال العبد الضعيف: وهذا اختيار الخصاف وعليه الفتوى، وتفسيره أنهما إذا كانا موسرين تجب نفقة اليسار، وإن كانا معسرين فنفقة الإعسار، وإن كانت معسرة والزوج موسرا فنفقتها دون نفقة الموسرات وفوق نفقة المعسرات.
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (3/ 571):
باب النفقة
هي لغة: ما ينفقه الإنسان على عيالهوشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (4/ 15):
أما وجوبها فقد دل عليه الكتاب والسنة والإجماع والمعقول أما الكتاب العزيز فقوله عز وجل {أسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم} [الطلاق: 6] أي: على قدر ما يجده أحدكم من السعة والمقدرة والأمر بالإسكان أمر بالإنفاق؛ لأنها لا تصل إلى النفقة إلا بالخروج والاكتساب وفي حرف عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أسكنوهن من حيث سكنتم وأنفقوا عليهن من وجدكم وهو نص ………………………………………وقوله عز وجل {ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف} [البقرة: 228] قيل: هو المهر والنفقة.»
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (4/ 23):
«أما الأول فقد اختلف العلماء فيه قال أصحابنا: هذه النفقة غير مقدرة بنفسها بل بكفايتها،.........................................وروي أن هند امرأة أبي سفيان قالت يا رسول الله إن أبا سفيان رجل شحيح وإنه لا يعطيني ما يكفيني وولدي فقال صلى الله عليه وسلم «خذي من مال أبي سفيان ما يكفيك وولدك بالمعروف» نص عليه أفضل الصلاة والسلام على الكفاية فدل أن نفقة الزوجة مقدرة بالكفاية ولأنها وجبت بكونها محبوسة بحق الزوج ممنوعة عن الكسب لحقه فكان وجوبها بطريق الكفاية كنفقة القاضي والمضارب.
«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (4/ 378):
قال (النفقة واجبة للزوجة على زوجها مسلمة كانت أو كافرة إذا سلمت نفسها إلى منزله فعليه نفقتها وكسوتها وسكناها) والأصل في ذلك قوله تعالى {لينفق ذو سعة من سعته} وقوله تعالى {وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف} وقوله عليه الصلاة والسلام في حديث حجة الوداع «ولهن عليكم رزقهن وكسوتهن بالمعروف» ولأن النفقة جزاء الاحتباس
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
01/ذوالقعدہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


