03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پرائیویٹ یونیورسٹی کے دیوالیہ ہونے پر اساتذہ کی سابقہ تنخواہوں کاحکم
90073اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

عرض یہ ہے کہ ایک صاحب نے اپنی ذاتی ملکیت سے ایک وسیع رقبہ خرید کر اس پر ایک عمارت تعمیر کی اور وہاں ایک یونیورسٹی قائم کی، جو با قاعد ہ طور پر Higher Education Commission سے منظور شدہ تھی،  بعد ازاں بعض ضروری تقاضے پورے نہ ہونے کی وجہ سے اس کے بعض پروگرامز پر پابندی لگ گئی، جس کے نتیجے میں یونیورسٹی مالی بحران کا شکار ہوگئی اور بتدریج اس کا نظام تقریباً ختم ہو گیا، یہ یونیورسٹی ایک ٹرسٹ کے تحت چل رہی تھی، جس کے بانی اور متولی خود مذکورہ صاحب تھے ، ان کے ساتھ ان کے اہل خانہ (بیٹا اور دو بیٹیاں و غیرہ) بطور ٹرسٹیز شامل تھے،یونیورسٹی کے مالی بحران کے دوران تقریباً تین چار سال تک اساتذہ اور دیگر عملہ اپنی خدمات انجام دیتارہا، لیکن ادار ہ مالی مشکلات کی وجہ سے انہیں تنخواہیں ادانہ کر سکا۔ اس دوران انتظامیہ کی طرف سے انہیں یہ یقین دہانی کروائی جاتی رہی کہ حالات بہتر ہونے پر ان کی بقایا تنخواہیں ادا کر دی جائیں گی،  تاہم حالات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے عملہ بتدریج ادارہ چھوڑتا چلا گیا،بعد ازاں ادارہ  کےبانی کا انتقال ہو گیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ یونیورسٹی تقر یباً بند اور مالی طور پر دیوالیہ ہو چکی ہے، ادارے کے اکاؤنٹس میں کوئی رقم موجود نہیں۔ مرحوم کے ایک بیٹے اور دو بیٹیاں وارث ہیں  اور تینوں شرعی فتوی پر عمل کرنے میں باہم رضامند ہیں،  بیٹا اس وقت ٹرسٹ کا نگران (چیئر مین / متولی) ہے، اب سوالات درج ذیل ہیں:

سوال نمبر 1 : کیا اساتذہ اور عملہ کی وہ تنخواہیں جو مالی مجبوری کی وجہ سے ادانہ ہو سکیں اور ان کے بارے میں مستقبل میں ادائیگی کا وعدہ کیا گیا تھا، كيا شرعاً اب بھی ادارے یا اس کے ذمہ داران کے ذمے یہ تنخواہیں واجب الادا (قرض) شمار ہوں گی، جبکہ ادارہ اس وقت مکمل طور پر مالی طور پر خالی (دیوالیہ ) ہے ؟

سوال نمبر 2: مذکور ہ یو نیورسٹی کی زمین اور عمارت ، جو اصل میں مرحوم بانی کی ملکیت تھی اور ٹرسٹ کے تحت تھی، کیا اب ان کے ور ثاء (ایک بیٹا اورد و بیٹیاں، باہمی رضامندی سے اسے اللہ کے راستے میں وقف کر سکتے ہیں ؟ اگر کر سکتے ہیں تو اس کی شرعی و عملی صورت کیا ہو گی ؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ یونیورسٹی کے شروع میں اکثر اخراجات ٹرسٹی حضرات اپنے گھر سے ہی چلاتے تھے اور وہ خود یونیورسٹی کے چیئرمین تھے، کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یونیورسٹی چل پڑی  تو فیسوں سے اخراجات ادا کیے جانے لگے، پھر کچھ عرصہ کے بعد مالی بحران کا شکار ہو گئی تو تنخواہیں ادا کرنا مشکل ہو گیا۔ اب ان کی وفات کے بعد ان کا بیٹا چیئرمین ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ اب یونیورسٹی کو ختم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کے لیے قانونی کاروائی کرنی پڑتی ہے، اس کے بعد گورنمنٹ یونیورسٹی کو اپنی تحویل میں لے لیتی ہے، اس لیے موجودہ چیئرمین اور ممبران کا ارادہ یہ ہے کہ ایک ڈیپارٹمنٹ باقی رکھ کر باقی کو وقف کر دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔صورتِ مسئولہ میں چونکہ اساتذہ کرام اور دیگرعملہ کے ساتھ اجارہ کا معاملہ کیا گیا تھا اور یونیورسٹی کے مالی بحران کا شکار ہونے پر بھی ان کو یقین دہانی کروائی گئی تھی  کہ حالات درست ہونے پر ان کو سابقہ تنخواہیں ادا کر دی جائیں گی، اس لیے اساتذہ کرام کو ان کے یونیورسٹی چھوڑنے تک کے بقایاجات ادا کرنا شرعاً لازم ہیں، کیونکہ یہ بقایاجات یونیورسٹی کے ذمہ ان کا قرض ہے، باقی ان کی ادائیگی کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ یونیورسٹی کی زمین مرحوم بانی کی ملکیت تھی، جو انہوں نے اپنے ترکہ میں چھوڑی اور ترکہ میں واجب الاداء قرض ادا کرنے کے بعد وراثت جاری ہوتی ہے،  لہذا ان  کے بیٹے کے ذمہ لازم ہیں کہ وہ یونیورسٹی کی زمین میں سے اساتذہ کرام کی تنخواہوں کے برابر زمین بیچ کر ان کے بقایاجات ادا کر دیں۔

صحيح البخاري (3/ 83) الناشر: دار طوق النجاة:

عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " قال الله: ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة: رجل أعطى بي ثم غدر، ورجل باع حرا فأكل ثمنه، ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه ولم يعط أجره .

السراجية في الميراث (1/ 11) مكتبة المدينة، كراتشي – باكستان:

 تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة الأول: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولا تقتير، ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة وإجماع الأمة.

2۔ سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق یونیورسٹی کی زمین سے اساتذہ کرام کے بقایاجات ادا کرنے کے بعد جو زمین باقی بچے اس میں ورثاء کی رضامندی سے یونیورسٹی کے ایک ڈیپارٹمنٹ کی جگہ چھوڑ کر باقی کو شرعی طریقہٴ کار کے مطابق وقف کر سکتے ہیں، یہ وقف زبانی اور تحریری دونوں طرح کیا جا سکتا ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ اسٹامپ پیپر یہ عبارت لکھ دی کہ جائے کہ "ہم یہ زمین مسجد/ہسپتال/مدرسہ وغیرہ کے لیے وقف کرتے ہیں" اس طرح یہ وقف شرعاً مکمل ہو جائے گا۔ البتہ ساتھ یہ بھی لکھ دیا جائے کہ فلاں صاحب اس وقف کے متولی ہوں گےاوراس تحریر پر گواہوں کے دستخط بھی کروا لیے جائیں، تاکہ بعد میں کسی اختلاف کا اندیشہ نہ ہو۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 21) دار احياء التراث العربي – بيروت:

"وعند أبي يوسف يزول ملكه بالقول" كما هو أصله، إذ التسليم عنده ليس بشرط والوقف لازم.

البناية شرح الهداية (7/ 430) دار الكتب العلمية – بيروت:

يزول بالقول عند أبي يوسف - رحمه الله -) ش: أي يزول الملك عن الواقف بمجرد قوله: وقفت. م: (وهو قول الشافعي - رحمه الله -) ش: وبه قال مالك - رحمه الله - وأكثر أهل العلم. وفي " التميمة ": والفتوى على قول أبي يوسف - رحمه الله -، وفي " المحيط "، والسرخسي - رحمه الله -: ومشايخنا أخذوا بقول أبي يوسف - رحمه الله - ترغيبا للناس في الوقف.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

یکم ذوالقعدة 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب