| 90354 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ہم پانچ بھائی اور پانچ بہنیں ہیں، 2008ء میں بندہ سید محمدحسن باہمی رضامندی سے والدین اور دیگر بھائیوں سے علیحدہ ہوا، اس وقت مجھے مشترک جائیداد میں سے حصہ دیا گیا، پھر 2009ء دوسرے بھائی سید محمد حسین باہمی رضامندی سے والدین اور دیگر بھائیوں سے علیحدہ ہوا، جس کے دوران جائیداد باہمی رضامندی سے پانچ حصوں میں تقسیم کی گئی، یاد رہے کہ والدین کو ایک بھائی کے برابر حصہ دیا گیا، 2014ء والدہ مرحومہ کا انتقال ہوا، جبکہ والد صاحب 2019ء میں فوت ہوئے، والدین تین چھوٹے بھائیوں کے ساتھ رہے، اس لیے والدین کا حصہ بھی ان تین بھائیوں کے ساتھ رہا، ہماری پنجاب میں کینو کی ایک فیکٹری ہے، جس میں والدین اور تین بھائیوں کا حصہ 14فیصد ہے، الگ ہونے والے بھائی سید محمد حسین کا حصہ 10فیصد رکھا گیا، اب فیکٹری کی جائیداد میں موجود والدین کی میراث کو پانچ بھائی اور پانچ بہنوں میں تقسیم کرنا ہے، برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ اس میراث میں سے ہر بھائی اور ہر بہن کو شرعاً حصہ ملے گا؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ کہ باپ سمیت ہم سب بھائی مزدوری کرتے تھے، اس فیکٹری میں ہم سب کی مشترکہ کمائی شامل تھی، اس فیکٹری میں تین شرکاء اور بھی تھے، ان کا اس فیکٹری میں زیادہ حصہ تھا، اسی کاروبار سے پہلے ایک بھائی کو حصہ دیا گیا اور پھر دوسرے بھائی کو علیحدہ کرتے وقت بقیہ کاروبار کو پانچ حصوں میں تقسیم کر لیا گیا، والدین تین بھائیوں کے ساتھ فیکٹری میں شریک ہو گئے، اس وقت بہنوں کو کوئی حصہ نہیں دیا گیا تھا، البتہ ان کوعید وغیرہ کے موقع پر ہدایا وغیرہ دے دیے جاتے تھے، اب والدین کے انتقال کے بعد ان کا حصہ سب بہن بھائی تقسیم کرنا چاہتے ہیں، یہ بھی یاد رہے کہ ایک بہن کا انتقال والدہ کی وفات کے بعد والد صاحب کی زندگی میں ہو گیا تھا، اس کے بچے حیات ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر والد سمیت آپ سب بھائیوں نے مزدوری کر کے یہ کاروبار اور فیکٹری بنائی تھی، جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو اس صورت میں آپ سب باپ بیٹوں کے یہ کاروبار مشترکہ تھا، بہنوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں تھا، اس کے بعد جب آپ حضرات نے آپس میں تقسیم کر کے باہمی رضامندی سے فیکٹری کا ایک حصہ اپنے والدین کو دیا تو واالد کے ساتھ والدہ کو ملنے والا نصف حصہ گویا آپ سب نے ان کو ہبہ یعنی ہدیہ کےطور پر دیا اور ناقابلِ تقسیم چیزوں میں ہبة المشاع (مشترکہ) درست ہے، اس لیے آپ کی والدہ اس حصہ کی مالک تھیں، لہذا آپ کی والدہ نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاور مرحومہ کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے،اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کےذمہ واجب الاداء قرض ادا کیا جائے،پھر اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ میں سے ایک تہائی(3/1) تک اس پر عمل کیا جائے۔اس کے بعد پانچ لاکھ روپیہ سمیت جو ترکہ باقی بچے اس کو بیس(20) حصوں میں تقسیم کرکے مرحومہ کے شوہر کو پانچ حصے،ہربیٹے کو دو (2) حصے اور ہر بیٹی کو ایک(1) حصہ دے دیا جائے، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
شوہر |
5 |
25% |
|
2 |
بیٹا |
2 |
%10 |
|
3 |
بیٹا |
2 |
%10 |
|
4 |
بیٹا |
2 |
%10 |
|
5 |
بیٹا |
2 |
%10 |
|
6 |
بیٹا |
2 |
%10 |
|
7 |
بیٹی |
1 |
%5 |
|
8 |
بیٹی |
1 |
%5 |
|
9 |
بیٹی |
1 |
%5 |
|
10 |
بیٹی |
1 |
%5 |
|
11 |
بیٹی |
1 |
%5 |
یاد رہے کہ آپ کی والدہ کی وفات کے بعد فوت ہونے والی بیٹی بھی آپ کی والدہ کے ورثاء میں شامل تھی، اس لیے اس کا حصہ اس کی اولاد کو دیا جائے گا، اس کے بعد جب آپ کے والد صاحب کا انتقال ہوا تو یہ بیٹی چونکہ اپنے والد کی زندگی میں وفات پا چکی تھی اس لیے وہ اوراب اس کی اولاد آپ کے والد کے ترکہ میں شرعاً کسی حصہ کی حق دار نہیں ہو گی، لہذا آپ کے والد صاحب کو اپنی مرحوم بیوی کی طرف سے ملنے والے حصے سمیت انہوں نے اپنی وفات کے وقت جو بھی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد چھوڑی ہے، اس میں سے کفن ودفن کے متوسط اخراجات نکالنے، ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے، ان کی طرف سے کی گئی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد بقیہ ترکہ کو پانچ بھائی اور چار بہنوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے کہ ہر بھائی کو بہن کی بنسبت دوگنا حصہ دیا جائے، تقسیمِ میراث کا نقشہ درج ذیل ہے:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیٹا |
2 |
14.285% |
|
2 |
بیٹا |
2 |
14.285% |
|
3 |
بیٹا |
2 |
14.285% |
|
4 |
بیٹا |
2 |
14.285% |
|
5 |
بیٹا |
2 |
14.285% |
|
6 |
بیٹی |
1 |
7.142% |
|
7 |
بیٹی |
1 |
7.142% |
|
8 |
بیٹی |
1 |
7.142% |
|
9 |
بیٹی |
1 |
7.142% |
حوالہ جات
القرآن الکریم : [النساء:11]:
يُوْصيْكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ.
القرآن الکریم : [النساء: 12]:
{وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ}.
السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 223) دار احياء التراث العربي – بيروت:
قال: "ولا تجوز الهبة فيما يقسم إلا محوزة مقسومة، وهبة المشاع فيما لا يقسم جائزة" وقال الشافعي: تجوز في الوجهين؛ لأنه عقد تمليك فيصح في المشاع وغيره كالبيع بأنواعه، وهذا؛ لأن المشاع قابل لحكمه، وهو الملك فيكون محلا له، وكونه تبرعا لا يبطله الشيوع كالقرض والوصية. ولنا أن القبض منصوص عليه في الهبة فيشترط كماله والمشاع لا يقبله إلا بضم غيره إليه، وذلك غير موهوب، ولأن في تجويزه إلزامه شيئا لم يلتزمه وهو مؤنة القسمة، ولهذا امتنع جوازه قبل القبض لئلا يلزمه التسليم، بخلاف ما لا يقسم؛ لأن القبض القاصر هو الممكن فيكتفى به؛ ولأنه لا تلزمه مؤنة القسمة.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
23/ذوالقعدة1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


