03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازمین کے لیےمرتب شدہ رولز اینڈریگولیشنزکی شرعی حیثیت
89951اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

سوال نمبر:

Rules & Regulation for STAFF

  1. تمام اسٹاف سے گزارش ہے نیچے دی گئی ٹائمنگ کا خیال رکھیں - 2 Allow Late ہیں۔ تیسری Late ہونے کی صورت میں ایک دن کی Deduction ہو گی ۔ 10 بجے کے بعد آنے کی صورت میں Late کے ساتھ ساتھ  Over Time سے Deduction ہوگی،نہ ہونے کی صورت میں salary سےDeduction ہوگی۔

مثال کے طور پر 11 بجے آنے کی صورت میں Count Late ہونے کے ساتھ ساتھ Official Timing 9 بجے سے 11 بجے تک (2گھنٹے) آپ کے Over Time سے Deduct ہونگے اور Over Time نہ ہونے کی صورت میں Salary Per Hour سے Deductionہوگی۔

  1. کوئی بھی اسٹاف ممبر مہینے کے شروع یا درمیان میں جاب ختم کرے گا یا کسی وجہ سے نکالا جائے تو اس کو Net working Days کی سیلری دی جائے گی۔
  2. کوئی بھی شخص اگر بغیربتائے آفس چھوڑ کر جائے گا تو اسے کسی قسم کے Dues نہیں ملیں گے۔
  3. کم از کم 2 ہفتے قبل Resign کی اطلاع دینا ضروری ہے، ورنہ بقایا جات اور Experience Letter نہیں دیا جائے گا۔
  4. اگر کمپنی کسی شخص کو Terminate کرتی ہے تو کم از کم دو ہفتے قبل کمپنی کی طرف سے نوٹس دیا جائے گا۔
  5. بد اخلاقی، غیر مناسب رویه ، انتظامیہ سے عدم تعاون کی صورت میں بلاکسی Dues یا Warning کے Terminate کیا جا سکتا ہے۔
  6. Leave Encashment: ہر سال 2 ہفتے کی چھٹی رکھی گئی ہے، Jan to Dec. OR July to June
  7. : Leave Encashment & Annual Bonusجاب start ہونے کے 6 ماہ بعد start کیا جائیگا۔
  8. : Annual Bonus جاب کے شروع کے 6 سے 18 مہینے کے درمیان Annual Bonus. ہرملازم کی سیلری کا50%اداکیا جائے گا۔
  9. Rs 250 Over Time پر گھنٹہ: کم از کم ایک، ڈیڑھ یا دو گھنٹے۔
  10. Experience Letterکؤ Working Letter یاExperience Letter کسی بھی شخص کی joining Dateسے لے کر ایک سال کا عرصہ پورا ہونے کے بعد دیا جائیگا۔
  11. : Medical Leaveسالانہ 6 دن ہوگی۔
  12. شروع کے 6 ماہ میں کسی قسم کا Allowance نہیں دیا جائے گا۔
  13. نئے آنے والے اسٹاف  کا Probationer Period تین ماہ ہے۔

Half Day

Late Timing

Attendance Timing

 

After-11:00

08:16 to  09:00

08:00 to 08:15

  1.  

After-12:00

09 16 to 10:00

. 09:00 to 09:15

  1.  

After-13:00

10:16 to 11:00

10:00 to 10:15

  1.  

After-14.00

11.16 to 12:00

11:30 to 11:15

  1.  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱۔تیسری دفعہ لیٹ ہونےکی صورت میں ایک مکمل دن کی تنخواہ کی کٹوتی کاضابطہ بنانامالی جرمانہ ہونےکی وجہ سےشرعادرست نہیں، شرعاملازم نےجتناوقت دیاہے،اس کامعاوضہ اس کودینالازم ہے،صرف اتنےوقت کی کٹوتی شرعاکی جاسکتی ہے،جتنےوقت  ملازم تاخیر سےآیاہے۔

البتہ  اوورٹائم سےکٹوتی کاضابطہ(ملازم تاخیر سےآکر اوورٹائم لگاتاہےتوکٹوتی اس اوورٹائم  کی کی جائے)بنایاجاسکتاہے،تاکہ ملازمین اوورٹائم کےبجائےاصل وقت کی پابندی کی کوشش کریں۔

یہ اصول شروع سےملازمین کو بتادیاجائےتو اس تفصیل کےساتھ کٹوتی کی شرعااجازت ہوگی،کیونکہ اجارہ میں تردیدالاجرۃ کی شرعااجازت ہے۔

۲۔یہ اصول شرعادرست ہے،ملازم نےجتناوقت دیاہے،اسی وقت کی سیلری اس کودی جائے۔

۳۔یہ اصول شرعادرست نہیں،ملازم کےجتنےبقایاجات ہیں وہ ادارےپران کادینالازم ہے،ایسی صورت میں بقایاجات واپس نہ کرنا یہ مالی جرمانہ ہوگا،شرعااس کی اجازت نہیں ۔

۴۔دوہفتےقبل اطلاع کا پابند کیاجاسکتاہے،اوراس کےنتیجےمیں ایکسپرینس لیٹر نہ دینےکی شرط بھی لگائی جاسکتی ہے،البتہ اطلاع نہ دینےکی صورت میں بقایاجات نہ دینا مالی جرمانہ ہونےکی وجہ سےشرعاجائزنہیں ہوگا۔

۵۔کمپنی کی طرف سےاپنےذمہ یہ شرط لگانا درست ہے۔شرعااس میں کوئی قباحت نہیں ۔

۶۔اس صورت میں بغیر وارننگ کےٹرمنیٹ کرنےکی توشرعااجازت ہوگی،البتہ بقایاجات کی واپسی شرعالازم ہوگی،جتناوقت ملازم نےکام کیاہے،اس کامعاوضہ ملازم کودینا لازم ہوگا۔

مذکورہ بالا صورتوں میں ملازم کو پابند کرناکہ وہ  چھوڑنےسےپہلےاطلاع دے،اس کی  شرعاجائز صورت یہ ہے کہ معاہدہ کے وقت کمپنی یہ شرط لگائے کہ ملازم کےمتعین وقت (دوہفتےقبل ) پیشگی اطلاع نہ دینے کی صورت میں ملازم کو ایک ماہ اضافی کام کرنا ہوگا، خواہ وہ خود کرے یا کسی کے ذریعہ کروائے،اس صورت میں گزشتہ ملازم کو اس مہینے کی پوری تنخواہ دینا لازم ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ اجارہ کاعقد کرتے وقت  یہ بات طے کی جائے کہ اگرملازم ادارہ چھوڑنے کی صورت میں دوہفتےقبل اطلاع دے گا تو اس کی سالانہ اجرت اتنی (تنخواہ کی جو سالانہ مقدار بنتی ہو) ہوگی،اور اگر معاہدے کے مطابق ادارہ چھوڑنے سےدوہفتے پہلے اطلاع نہیں دے گا تو اس کی سالانہ اجرت اتنی (ادارہ اصل اجرت میں جتنی کمی کرنا چاہتا ہے، وہ) ہوگی تو یہ تردید اجرت ہے  اور اجارہ میں اجرت کی تردید جائز ہے،بشرطیکہ اس کی کوئی معقول وجہ ہو۔ اس طرح اجرت کی تردید کے بعد معاہدے کے مطابق کام کرنے کی صورت میں بننے والی سالانہ اجرت کو مہینوں پر تقسیم کر کے ملازم کو اس میں سے ہر ماہ اتنی اجرت دی جائے جو معاہدے کے مطابق کام نہ کرنے کے نتیجے میں بنتی ہو، باقی کو روک لیا جائے۔

مثلا ملازم کی تنخواہ تیس ہزار ماہانہ ہو ،جبکہ پیشگی اطلاع نہ دینے کی وجہ سے ادارہ ایک مہینے کی تنخواہ کاٹنا چاہتا ہو ،تو ادارہ ملازم کو 27500روپے دیا کرے ۔ پھر اگر ملازم سال کے درمیان میں ادارہ چھوڑنے کی صورت میں معاہدے کے مطابق پہلے سے اطلاع دیتا ہے تو اس کی پوری رقم اس کو واپس کی جائے؛ کیونکہ اس صورت میں وہ پہلی تنخواہ کا مستحق ہوگا، لیکن اگر وہ معاہدے کی خلاف ورزی کر کے عذرِ شرعی کے بغیر سال کے درمیان میں جاتا ہے اور جانے سے پہلے بر وقت اطلاع نہیں دیتا تو وہ رقم اس کو دینا ادارہ کے ذمہ لازم نہیں؛ کیونکہ اس صورت میں وہ دوسری تنخواہ کا مستحق ہوگا جو اس کو مکمل دی جاچکی ہوگی۔(مستفادمن تبویب بتغییر: 81330)

۷،تا۱۴:یہ قوانین بنانا شرعادرست ہے،کمپنی اپنی طرف سےملازمین کو جتنےدن چھٹی دینا چاہے،اس کو اختیار ہے،اسی طرح سالانہ بونس،اوورٹائم ،ایکسپیرنس لیٹر،میڈیکل کی چھٹی ،دیگرالاونس ،پروبیشن پیریڈ،ان تمام چیزوں کا کمپنی کواختیار ہے،اورایک دفعہ طےکرنےکےبعد تمام ملازمین کو اطلاع اور اس کےمطابق  عمل درآمدکرنا کمپنی اور ملازمین دونوں پر معاہدہ کی وجہ سےشرعا لازم ہوگا۔

حاضری کاوقت ،تاخیر سےحاضری اور آدھادن  شمار کرنےکےلیےمذکورہ ضابطہ بھی شرعا درست ہے،بشرطیکہ ملازمین سےمعاہدہ کےوقت یہ بات واضح کی گئی ہو۔

حوالہ جات

"حاشية رد المحتار" 4 /  229:

 التعزير بالمال كان في ابتداء الاسلام ثم نسخ والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال۔

"رد المحتار" 15 / 202:

( لا بأخذ مال في المذهب ) بحر وفيه عن البزازية : وقيل يجوز ، ومعناه أن يمسكه مدة لينزجر ثم يعيده له۔

"الفتاوى الهندية" 15 /  395:

وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال وعندهما وباقي الأئمة الثلاثة لا يجوز كذا في فتح القدير .ومعنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنده مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق ۔

" البيهقي  فی شعب الایمان " 4 /  387:

عن أبي حرة الرقاشي عن عمه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :  لا يحل مال امرىء مسلم إلا بطيب نفس منه۔

قال اللہ تعالی فی سورۃ النساء آیت 29:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (29)

"تفسير ابن كثير "2 / 268:

نهى تبارك وتعالى عباده المؤمنين عن أن يأكلوا أموال بعضهم بعضا بالباطل، أي: بأنواع المكاسب التي هي غير شرعية، كأنواع الربا والقمار، وما جرى مجرى ذلك من سائر صنوف الحيل۔

"وقال اللہ تعالی فی سورۃ البقرہ آیت 188:ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها إلى الحكام لتأكلوا فريقا من أموال الناس بالإثم وأنتم تعلمون (188)

"تفسير ابن كثير" 1 / 521:

{ من أموال الناس بالإثم وأنتم تعلمون } أي: تعلمون بطلان ما تدعونه وتروجون في كلامكم۔

"سنن ابن ماجه"2/ 817 :

عن عبد الله بن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌أعطوا ‌الأجير ‌أجره، ‌قبل ‌أن ‌يجف ‌عرقه».

"مجلة الأحكام العدلية "ص: 81):

(المادة 425) : الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشرط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة.

"الأشباه والنظائر ابن نجيم "ص72):القاعدة الخامسة: الضرر يزال .

"المجلة " 95):

المادة 506 : يصح ترديد الأجرة على صورتين أو ثلاث في العمل والعامل والحمل والمسافة والزمان والمكان ويلزم إعطاء الأجرة على موجب الصورة التي تظهر فعلا... ولو استؤجر حانوت بشرط أنه إن أجرى فيه عمل العطارة فأجرته كذا وإن أجرى فيه عمل الحدادة فكذا، فأي العملين أجرى فيه يعطي أجرته التي شرطت.... وكذلك لو ساوم أحد الخياط على أن يخيط له جبة بشرط إن خاطها اليوم فله كذا، وإن خاطها غدا فله كذا، تعتبر الشروط.

"درر الحكام شرح مجلة الأحكام" (1/ 492):

يجوز الترديد في العمل اتفاقا؛ لأنه خيره بين عقدين صحيحين مختلفين، والأجر قد يجب بالعمل، وعند  العمل يرتفع الجهل ( مجمع الأنهر )۔

"الدر المختار للحصفكي" 6 /  330:

(تفسد الاجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكلما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة ومرمة الدار أو مغارمها وعشر أو خراج أو مؤنة رد۔

"البحر الرائق شرح كنز الدقائق "20 /  285:

قال رحمه الله ( يفسد الإجارة الشرط ) قال في المحيط كل جهالة تفسد البيع تفسد الإجارة ؛ لأن الجهالة المتمكنة في البدل أو المبدل تفضي إلى المنازعة ، وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين يفضي إلى المنازعة فيفسد الإجارة۔

قال اللہ تعالی فی  سورۃ المائدہ :آیت 01:

 یاایہاالذین آمنواوفوبالعقود۔

وقال اللہ تعالی فی سورۃ  بنی اسرائیل: آیت نمبر 34 :

واوفوبالعہدان العہدکان مسئولا۔

"تفسير ابن كثير " 5 /  74:

وقوله [تعالى] (3) : { وأوفوا بالعهد } أي الذي تعاهدون عليه الناس والعقود التي تعاملونهم بها، فإن العهد والعقد كل منهما يسأل صاحبه عنه { إن العهد كان مسئولا } أي: عنه۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

15/شعبان 1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب