03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
 سی فوڈ کی مصنوعات کوامپورٹ کرتےوقت شرعاکن حدودکےپابندی کرنالازم ہوگی ؟
89749جائز و ناجائزامور کا بیانکھانے پینے کے مسائل

سوال

 سوال نمبر  2.2:اگر انجانے میں ایسی مصنوعات درآمد ہو جائیں یا پوری لاٹ کی خریداری میں شامل ہو جائیں ( اور ایسا کئی دفعہ ہو جاتا ہے کیونکہ اشیاء کی تفصیلات اور انکے اجزاء کو مکمل طور پر چیک کرنا بڑی مقدار میں خریداری کے وقت اکثر ممکن نہیں ہوتا) تو ایسی صورت میں اس پروڈکٹ کا کیا کیا جائے؟

سوال نمبر 2.3: بسا اوقات کسی پروڈکٹ کے اجزائے ترکیبی میں صرف Sea Food لکھا ہوتا ہے لیکن یہ وضاحت نہیں ہوتی کہ کون سا بحری حیوان شامل ہے؟ چنانچہ ایسی اشیاء کی خرید و فروخت کے بارے میں ہم شرعا کن حدود کے پابند ہیں؟ نیز اگر ایسی چیزیں خریداری میں آجائیں تو ان اشیاء کا کیاکریں؟براہ کرم جوابات دے کر ممنون فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

2.2،2.3۔ایسی صورت میں شرعا آپ حکومتی قوانین کےبھی پابند ہیں ،ساتھ ساتھ شرعی حوالےسےحلال وحرام کےاصول وضوابط کےبھی پابند ہونگے،چونکہ آپ کاباقاعدہ اپناایک ادارہ ہے،اوراس حوالےسےمصنوعات کی خریدوفروخت بڑےپیمانےپر کی جاتی ہےتوآپ کےلیےاس طرح کےاصول وضوابط بنانا آسان ہوگا۔

مثلا معاہدہ کےوقت یہ چیزیں طےکرلی جائیں کہ ہم کون سی اشیاء خریدیں گے؟

کس ملک سےخریدیں گے؟

جس ملک  کی مصنوعات خریدی جارہی ہیں  وہاں معتبر حلال سرٹیفکیشن کےاداروں کی معلومات کی جائیں،موجودہوں توان کی تصدیق ومہرکےساتھ خریدی جائیں۔

اگرکوئی معتبرحلال کاادارہ نہیں ہےتوپھرخارجی استعمال والی چیزوں میں توکسی حدتک گنجائش ہے(بشرطیکہ خنزیرکےکسی جزء کاشک وشبہ نہ ہو)،البتہ کھانےپینےکی چیزوں  میں حددرجہ احتیاط  لازم ہوگا۔

 کمائی حلال ہوگی یاحرام اس کاتعلق اس سےہوگاکہ جوپروڈکٹ آپ  بیچ رہےہیں اگروہ کسی طرح مال متقوم ہےتواس کی کمائی حلال ہےاوراگرمال ہی نہ ہو،یامال ہو،لیکن متقوم نہ ہوتوپھراس کی کمائی حرام ہوگی۔

چونکہ اسلامی ملک میں حلت وحرمت کامسئلہ بہت اہمیت کاحامل ہے، ایک مسلم تاجرکےلیےاس کی اہمیت اوربھی زیادہ ہوجاتی ہے،پھرپاکستان میں اکثریت حنفی مسلمانوں کی ہے،لہذامپورٹڈمصنوعات کاآرڈردینےسےپہلےاگراس بات کااہتمام کیاجائےکہ پہلےاس کےاجزائےترکیبی کودیکھ لیاجائے،پھرآرڈردیاجائےتو امید ہےکہ حلال اورپاک چیزوں کی خریدوفروخت ہوگی اور مستقبل کےنقصان سےبھی بچت ہوسکےگی۔

حوالہ جات

"المجلة" 41:

مادة 199 : يلزم أن يكون المبيع مالاً متقوماً:

"فقہ البیوع"1/303-289 :

الشرط الثانی لجواز البیع أن یکون المبیع متقوماً، وهو شرط لانعقاد البیع، فما لیس متقوماً بحکم العرف أو بحکم الشرع لاینعقد بیعه…….. . فکل ما لا یباح الانتفاع به لیس متقوماً شرعاً، ولا یجوز بیعه، وهو ما کان استعماله متمحضاً فی محظور، فلا یجوز بیع الخمر……… أما
المأکولات أو المشروبات التی تشتمل علی الکحول،…. فلو لم یتحقق انقلاب ماهیة الکحول، بل حصل تغیر الأوصاف فقط، فإنه لا یحل علی قول الحنفیة…….وکذلك الخنزیر لایجوز بیعه لکونه لیس بمال متقوم شرعاً، وکذلك بیع أجزاء الخنزیر لایجوز عند الجمهور…… ثم الأحکام التی ذکرناها فی بیع الخمر والخنزیر تنطبق علی ما إذا کان المتبایعان مسلمین، أوکان أحدهما مسلما، أما إذا کانا غیر مسلمین لا یعتقدان حرمتهما فبیعهما فیما بینهم منعقد……… وکذلك المیتة لیست بمال متقوم شرعاً، فلایجوز بیعها، ولا بیع أجزاء تحله الحیاة منها…… والحیوان الذی ذبح أو قتل بغیر ذکاة شرعیة فی حکم المیتة شرعاً، فلا یجوز بیع المنخنقة أو الموقوذة فیما بین المسلمین، وکذلك ما ذبحه غیر أهل الکتاب، ومتروك التسمیة عمداً۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

17/رجب1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب