| 90071 | مضاربت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
ہم ایک زرعی کاروبار کرتے ہیں، جس میں کھاد اور زرعی ادویات کی خرید و فروخت شامل ہے، ہمارا طریقہ کار یہ ہےکہ سرمایہ کار ہمیں سرمایہ فراہم کرتا ہے،ہم (عامل) اس سرمایہ سے فیکٹریوں سے کھاد اور زرعی ادویات خرید کردکانوں / ڈیلرز کو فروخت کرتا ہے،اس خريد و فروخت کا دورانیہ عموماً ایک ماہ یا اس سے کم ہوتا ہے۔ جس کا ہم ایک ماہ میں حساب کرتے ہیں ہیں، فروخت کے بعد حاصل ہونے والی رقم میں سے پہلے تمام اخراجات نکالتے ہیں، پھر جو بچتا ہے اسے دونوں فریقوں کے درمیان Net Profit (خالص منافع ) 50:50 کے تناسب سے تقسیم کیا جاتا ہے، جو کہ اندازا ًایک لاکھ پر 3 سے 5ہزار تک ایک ماہ میں 50% منافع بن سکتا ہےاور جو سرمایہ کار ہے وہ ہم سے ایک سال کا معاہدہ کرتا ہے کہ ہم ایک سال تک ایسے کام کریں گے،پھر اس سرمایہ کار کو ہم اپنا چیک بطور گارنٹی کے طور پر ایک سال بعد کا دیتے ہیں،اب یہ رہنمائی مطلوب ہے کہ:
کیا مذکورہ طریقہ کار شرعاً درست مضاربت کے اصولوں کے مطابق ہے؟اگر اس میں کوئی کمی ہو تو اس کی درست اور جائز صورت کیا ہوگی؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ یہ معاہدہ ہمارا سال کا ہی ہوتا ہے، اسی لیے سرمایہ کی واپسی کا چیک سال بعد کا دیا جاتا ہے،البتہ نفع ہر ماہ حساب کر کے تقسیم کرتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق آپ کا مضاربت کا کاروبار کرنا درست ہے، البتہ شرعی اعتبار سے مضاربت کا اصول یہ ہے کہ اگر بالفرض کاروبار میں نقصان ہو جائے تو وہ سرمایہ کار کا سمجھا جاتا ہے، مضارب یعنی کام کرنے والا اس کا ذمہ دار نہیں ہوتا، بشرطیکہ اس کی تعدی اور کوتاہی کے بغیر نقصان ہوا ہو، اس لیے ماہانہ دیا جانے والا نفع تحت الحساب سمجھا جائے گا، اور سال مکمل ہونے پر نقصان کی صورت میں فریقین حاصل شدہ نفع مضاربت کے کاروبار میں واپس کرنے کے پابند ہوں گے، تاکہ اس نفع سے سرمایہ کے نقصان کو پورا کیا جا سکے اور اگر نفع سے نقصان پورا نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کو سرمایہ کا نقصان شمار کیا جائے گا، جس کی ذمہ داری مضارب پر عائد نہیں ہو گی۔ لہذا آپ یعنی مضارب کی طرف سے جو سرمایہ کار کو چیک دیا گیا ہے،سرمایہ کار کے لیےنقصان کی صورت میں اس کا لینا ہرگز جائز نہیں، کیونکہ تعدی نہ ہونے کی صورت میں مضارب کو راس المال یعنی سرمایہ کا ضامن قراردینا خلافِ شرع ہے۔
حوالہ جات
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي، کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج:5،ص:67،ط:المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة)
قال - رحمه الله - (وما هلك من مال المضاربة فمن الربح)؛ لأنه تابع ورأس المال أصل لتصور وجوده بدون الربح لا العكس فوجب صرف الهالك إلى التبع لاستحالة بقائه بدون الأصل كما يصرف الهالك العفو في الزكاة قال - رحمه الله - (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن المضارب)؛ لأنه أمين فلا يكون ضمينا للتنافي بينهما في شيء واحد.
مجمع الضمانات(باب في مسائل المضاربة،الفصل الأول في المضاربة،ص: 303،ط:دار الکتب الإسلامی):
"ثم المدفوع إلى المضارب أمانة في يده لأنه يتصرف فيه بأمر مالكه لا على وجه البدل والوثيقة، وهو وكيل فيه لأنه يتصرف فيه بأمر مالكه فإذا ربح فهو شريك فيه، وإذا فسدت ظهرت الإجارة حتى استوجب العامل أجر مثله، وإذا خالف كان غاصبا لوجود التعدي منه على مال غيره".
تنویر الابصار مع الدر المختار (کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل فی المتفرقات فی المضاربۃ،ج:5،ص:656،ط:ايچ، ايم، سعید):
(وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح) ؛ لأنه تبع (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن) ولو فاسدة من عمله؛ لأنه أمين (وإن قسم الربح وبقيت المضاربة ثم هلك المال أو بعضه ترادا الربح ليأخذ المالك رأس المال وما فضل بينهما، وإن نقص لم يضمن) لما مر".
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
2/ذوالقعدہ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


