03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثت کی تقسیم میں تاخیراور اس کی وجہ سے  نقصان   کا ذمہ دار کون ہوگا؟
90545میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

وراثت کی تقسیم میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا حرجانہ کس کے ذمہ ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

وراثت کی تقسیم میں تاخیر کے اسباب  مختلف ہو سکتے ہیں،مثلاً شرعی احکام سے ناواقفیت،خاندانی جھگڑے،اور چلتے ہوئے کاروبار یاجائیداد کے انتقال کی پیچیدگی وغیرہ ،اس لیےعموماً  کسی ایک فرد کو وراثت کی تقسیم میں تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرانا مشکل ہے ،ہاں اگر دیگر  ورثہ  کے مطالبۂ تقسیم کے بعد بھی اگرکوئی وارث بلاعذر تقسیم میں رکاوٹ بنے تو وہی تاخیر کا ذمہ دار ہوگا۔

 باقی صرف ناحق تاخیر پر کوئی مالی حرجانہ وتاوان  تو مقررنہیں ہے،البتہ تاخیر کا سبب بننے والااپنی اس کوتاہی  کے سبب گناہگار ہوگا،اور جو وارث دیگر ورثہ کی اجازت سے یا بلا اجازت بھی مشترکہ مالِ وراثت سے  کاروباریااس کے کرایہ کی صورت میں مالی نفع حاصل کرے، تو یہ نفع تمام ورثہ میں ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا، جبکہ  بلا اجازتِ دیگر ورثہ اگر   کسی وارث  نے مالِ وراثت پر  قبضہ کیا،اور پھر اسے ضائع کردیا، یا اس کی کسی تعدی و زیادتی کے بغیر  مالِ وراثت میں کچھ نقصان واقع ہوا ،تو بطور ضمانِ غصب کے وہ  دیگر شرکاء کےحصوں کے نقصان کی تلافی کا ذمہ دار ہوگا۔  

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 253):

(هي) لغة اسم للاقتسام كالقدوة للاقتداء. وشرعا (جمع نصيب شائع له في مكان معين. وسببها طلب الشركاء أو بعضهم الانتفاع بملكه على وجه الخصوص)،فلو لم يوجد طلبهم لا تصح القسمة.

 مجلة الأحكام العدلية (ص: 207،172):

(المادة 890) يلزم رد المال المغصوب عينا وتسليمه إلى صاحبه في مكان الغصب إن كان موجودا، وإن صادف صاحب المال الغاصب في بلدة أخرى وكان المال المغصوب معه، فإن شاء صاحبه استرده هناك، وإن شاء طلب رده إلى مكان الغصب، وتكون مصاريف نقله ومؤنة رده على الغاصب.(المادة 891) كما أنه يلزم أن يكون الغاصب ضامنا إذا استهلك المال المغصوب ،كذلك إذا تلف أو ضاع بتعديه أو بدون تعديه يكون ضامنا أيضا، فإن كان من القيميات يلزم الغاصب قيمته في زمان الغصب ومكانه، وإن كان من المثليات يلزمه إعطاء مثله...(المادة 1077) لو أجر أحد الشريكين المال المشترك لآخر وقبض الأجرة يعطي الآخر حصته منها و يردها إليه.

محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

2/ذوالحجہ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب