| 90543 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ممتاز......... نے قرضہ لے کر پورے گھر کی نئے سرے سے مرمت کا کام کروایا تھا، اس کا کیا حکم ہے؟
وضاحت: سائل نےاپنے بھائی عابد......... کی یہ بات درست ہونے کی تصدیق کی ہے کہ 2010 ء میں سترہ سال گزرنے کے بعد گھر کی نچلی منزل کی مرمت کی اشد ضرورت تھی، بھائی ممتاز حسین نے قرضہ لے کر پورے گھر کی نئے سرے سے مرمت کا کام کروایا،اس کی خوبصورتی اور پائیداری کی وجہ سے مارکیٹ ویلیو میں بھی اضافہ ہو گیا، البتہ سائل نے اپنی وضاحت میں مرمت کروانے کا زمانہ 2013اور 2014ء کے درمیان کا بتایا ہے۔نیز بتایاکہ ممتاز حسین نے اپنی مرضی سے یہ کام کروایا اور اس بارے میں کسی بھائی سے رقم وغیرہ کا مطالبہ بھی نہیں کیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں چونکہ ممتاز حسین نے گھر کی مرمت سازی کا کام ازخود اپنی مرضی سے کروایا،اور انہوں نے دوسرے بہن بھائیوں سے اس کے اخرجات کے لیے کوئی مطالبہ وغیرہ بھی نہیں کیا تھا،لہٰذا یہ ان کی طرف سے گھر میں شریک دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ محض تبرع اور نیکی و خیرخواہی کا ایک معاملہ ہے،جس پر وہ ان سے کسی قسم کی رقم مطالبہ نہیں کر سکتے۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص: 249):
المادة (1308)إذا احتاج الملك المشترك للتعمير والترميم فيعمره أصحابه بالاشتراك بنسبة حصصهم...المادة (1311)إذا عمر أحد الملك المشترك من نفسه،أي بدون إذن من شريكه أو القاضي يكون متبرعا، أي ليس له أن يأخذ من شريكه مقدار ما أصاب حصته من المصرف، سواء كان ذلك الملك قابلا للقسمة أو لم يكن.المادة (1312) إذا طلب أحد تعمير الملك المشترك القابل للقسمة، وكان شريكه ممتنعا ،وعمره من نفسه يكون متبرعا ،أي لا يسوغ له الرجوع على شريكه بحصته،وإذا راجع ذلك الشخص القاضي بناء على امتناع شريكه على هذا الوجه، فلا يجبر على التعمير بناء على المادة 25 ،ولكن يسوغ أن تقسم جبرا ويفعل ذلك الشخص بعد القسمة في حصته ما يشاء.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
2/ذوالحجہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


