03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دو بطن  کے مناسخہ(والد اور والدہ کی میراث) کا حکم
90537میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

صورتِ مسئلہ کی تفصیل:ہم نو بہن بھائی یعنی چار بھائی اور پانچ بہنیں ہیں،سب شادی شدہ اور حیات ہیں ۔ ماشاء اللہ سب سے بڑی بہن اور چھوٹی بہن بالترتیب 65 اور 45 سال کی عمر کو پہنچ چکی ہیں۔ بابا کے انتقال کو 19 اور امی کے انتقال کو 10 سال ہو چکے ہیں۔ (اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے،اٰمین۔)     

آج سے تقریبا 30 سال پہلے بابا نے نیا گھر بنوانے کے لئے 600 گز کا پلاٹ خرید نا چاہا تو تیسرے نمبر والے بھائی عابد حسین سے پیسے لیے جو تقریبا پونے تین لاکھ تھے ،انہوں نے یہ پیسہ بینک سے قرض لیا جو پھر قسطوں میں بھائی نے ادا کیا ۔بابا نے اس کی تعمیر میں 12 لاکھ کے قریب خرچ کئے جو ان کی جمع پونجی اور GP فنڈ وغیرہ  سے تھے۔ یاد رہے کہ بابا بینک مینیجر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تھے۔ 600 گز کا پلاٹ اصل میں 150 گز کے چار پلاٹوں کا مجموعہ ہے۔ بابا نے ان میں سے دو پلاٹ دو بڑے بھائیوں ( افضل حسین اور ممتاز حسین ) اور دو اپنے نام سے خریدے تھے، اور اس کی وجہ یہی تھی کہ اگر گھر کی تعمیر یا بجلی کے بل وغیرہ میں مدد کی ضرورت ہو تو ان دونوں بھائیوں سے بھی مدد لی جاسکے۔ انھوں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کو یہ احساس نہیں دلایا کہ دو بڑے بھائی دو پلاٹوں کے مالک ہیں، یا جس نے پلاٹ کی قیمت دی ہے وہ اس کا مالک بن جائے گا ،اور جو سب سے چھوٹا بھائی (محمداعجاز ) ہے اس کا اور بہنوں کا کوئی حصہ نہیں ۔گھر سب کا مشترکہ ہی رہا ۔بعد میں دو بھائیوں ( ممتاز حسین اور عابدحسین ) نے اپنے خرچے سے اوپر دو الگ حصے(Portion ) اپنے لیے بنالیے ،اوروہ ان میں  20 سال سے زیادہ عرصہ رہے۔ اس دوران بابا کی ملکیت کی تقسیم کی کوئی خاص کو شش نہ کی گئی۔

 اب وراثت کی تقسیم کا مسئلہ در پیش ہوا  تو جس بھائی نے پلاٹ کے پیسے دیے تھے، وہ کہتے ہیں کہ یہ پورا پلاٹ میرا ہے اور مجھ سے غلطی ہو گئی کہ میں نے پلاٹ بابا سے اپنے نام نہیں کروایا۔ بڑے بھائی صاحبان جن کے نام پر الگ الگ پلاٹ ہیں وہ تو اپنے پلاٹ بابا کے ہی نام کر رہے ہیں،البتہ ممتاز بھائی اور عابد بھائی نے جو اوپر حصے الگ بنائے ہیں وہ ان کا آج کی قیمت( Value)کے حساب سے تقاضا کر رہے ہیں۔ہم سب اس صورت حال سے بہت پریشان ہیں، ہمارے بابا بہت نیک اور متقی انسان تھے۔آپ ہمارے ان سوالات کا تسلی بخش جواب قرآن و سنت کی روشنی میں دے دیں تو ہم آپ کے نہایت شکر گزار رہیں گے۔

ملاحظہ:سائل نے اس مجموعی تفصیل کے بعد کئی سوالات پوچھے ہیں،اور  ساتھ ہی ایک اور دارالافتاء  کا فتوٰی بھی بھیجا ،جس کا پرنٹ یہاں لف کیا گیا ہے۔اس فتویٰ  میں ان کے بھائی (عابد حسین ) کی طرف سے بحیثیتِ سائل  کچھ مختلف تفصیلات  درج ہیں،اور ان کےسوالات کے  جوابات بھی اس  تصریح کے ساتھ  لکھے  گئے :"  سائل کی لکھی ہوئی تفصیلات میں کئی امور قابلِ وضاحت ہیں،مگران امور سے قطع نظرجوابات دیے جا رہے ہیں۔"اس لیے فریقین کے مختلف  بیانات کا  موازنہ کر کےسائل سے کئی امور کی وضاحت  لی گئی ۔چنانچہ اب ذیل میں ہر سوال کے ساتھ متعلقہ وضاحت اور اس کے بعد جواب لکھا  جائے گا۔

والدین کی میراث کس طرح تقسیم کی جائے گی؟

وضاحت: سائل نےیہ  وضاحت کی ہے کہ 2005ء میں بابا کا اور2015ء میں امی کا انتقال ہوا ۔نیز ورثہ کی تعداد کے بارے میں بتایا کہ وہ کل نو بہن بھائی یعنی چار بھائی اور پانچ بہنیں ہیں،اور اب سب شادی شدہ ہیں،جبکہ ان کے بھائی نے اپنے سوال میں دو شادی شدہ بہنوں کو چھوڑ کر اُس وقت  والد کے ساتھ  رہنے والے صرف چار بھائیوں اور تین دو بہنوں کا ذکرکیا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ بالا مجموعی صورتِ حال کے پیشِ نظر بطورِ تمہیددو باتیں واضح  ہوں :

1۔ جیسے ہرفرد کوانفرادی حیثیت میں اپنی ملکیت معلوم ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے شرعی تقاضوں کا خیال رکھنا ضروری ہے،تو ایسے ہی اجتماعی حیثیت میں بھی اس  کا اہتمام کرنا لازم  ہے۔لہذا خاندانی اور کاروباری معاملات میں شریک ہرفردکی ملکیت وسرمایہ متعین  ہونا چاہیے،نیز ملکیت و ضمان(ذمہ داری)  کی منتقلی ،نفع و نقصان اور انتظامات و اختیارات کی پالیسی بھی شرعی احکام کے مطابق واضح  ہونی چاہیے، کیونکہ شریعت کے متعدد احکام جیسے زکوٰۃ، حج، قربانی ،وراثت اور دیگر مالی معاملات کا تعلق اسی ملکیت سے ہے۔

2۔میت کے تمام ترکہ سے متعلق حقوق   کی ادائیگی اور اس کی میت کے بوقتِ وفات   زندہ ورثہ میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم بھی ضروری ہے۔ترکہ کی تقسیم میں بلا عذرتاخیرکرنا یا کسی ایک وارث کا دوسروں کی اجازت کے بغیر ان کے حصے میں تصرف کرنا یا کسی وارث کو اس کا حصہ نہ دینا جائز نہیں ہے،البتہ اگر کسی وجہ   سے فوری طور پر ترکہ کو تقسیم   کرنا مشکل ہو تو اس کے منافع اور آمدن کی منصفانہ    تقسیم کا طریقۂ کار متعین کیا جائے ۔

اس تمہید کے بعد صورتِ مسئولہ میں تقسیمِ میراث کے لیے سب سے پہلے والد مرحوم نے جو کچھ رقم، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد چھوڑی ہو،اس میں سے  پہلےمرحوم کی تجہیز وتکفین کےمعتدل اخراجات (اگركسی وارث نے یہ  بطورتبرع اپنے ذمے نہ لیے ہوں( نکالے جائیں ،پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کاقرض ہو (بیوی کا مہرادا نہ کیا ہوتو وہ بھی دَین یعنی قرض میں شامل ہے) تووہ  ادا کیا جائے ،پھر اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد  تک اس کے مطابق عمل کیا جائے۔

اس کےبعدجوترکہ  بچ جائے اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ ( ایک بیوہ، چار بیٹوں اور پانچ  بیٹیوں) میں تقسیم کیاجائےگا، جس کا طریقہ یہ ہےکہ اس باقی  ترکہ کےکل104 حصے بنائیں جائیں،ان میں سے 13حصے بیوہ کو،7حصےہر بیٹی کواور 14حصےہر بیٹے کو ملیں گے،جبکہ فیصدی اعتبار سے بیوہ کا 12.5%، ہر بیٹی کا 6.7307% اور ہر بیٹے کا  13.4615%حصہ ہوگا۔ذیل میں تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ ہو:

نمبرشمار

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوہ

13

12.5%

2

بیٹی

7

6.7307%

3

بیٹی

7

6.7307%

4

بیٹی

7

6.7307%

5

بیٹی

7

6.7307%

6

بیٹی

7

6.7307%

7

بیٹا

14

13.4615%

8

بیٹا

14

13.4615%

9

بیٹا

14

13.4615%

10

بیٹا

14

13.4615%

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اس کے بعد والدہ مرحومہ  کو جو حصہ آپ کے والد  کی میراث سے ملا وہ اور ان  کا جو کچھ ذاتی ترکہ ہو،اُس   سب سے پہلےان کی تجہیز وتکفین کےمعتدل اخراجات (اگركسی وارث نے یہ  بطورتبرع اپنے ذمے نہ لیے ہوں( نکالے جائیں،پھر اگران  کے ذمہ کسی کا قرض ہوتو وہ  ادا کیا جائے، پھر اگرانہوں  نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائز وصیت کی ہوتو ایک تہائی ترکہ کی حد  تک اس کے مطابق عمل کیا جائے۔اس کے بعد جو ترکہ  بچ جائے اس کوان  کے انتقال کےوقت موجود ورثاء (پانچ  بیٹیوں اور چار  بیٹوں ) میں تقسیم کیاجائے ، یعنی  اس بقایا ترکہ کے کل13 حصے بنائے جائیں،جن میں سے ہر بیٹی کو 1 حصہ اورہر بیٹے کو 2حصے ملیں گے۔ فیصدی اعتبار سے ہر بیٹی کا  7.6923%اور  ہر بیٹے کا 15.3846% حصہ ہوگا۔ذیل میں تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ ہو:   

نمبرشمار

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیٹی

1

7.6923%

2

بیٹی

1

7.6923%

3

بیٹی

1

7.6923%

4

بیٹی

1

7.6923%

5

بیٹی

1

7.6923%

6

بیٹا

2

15.3846%

7

بیٹا

2

15.3846%

8

بیٹا

2

15.3846%

9

بیٹا

2

15.3846%

حوالہ جات

۔۔

محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

2/ذوالحجہ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب