03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بعض ورثا کاترکہ میں موجود مکان کی تقسیم سے انکار کا حکم
88608میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

چوتھا سوال یہ ہے کہ اگر تقسیمِ میراث کے لئےدونوں بھائی اس مکان کو بیچنا چاہیں،لیکن بہن بیچنے پر راضی نہ ہو تو کیا حکم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میراث کے بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ اس کو حتی الامکان جلد از جلد ورثاء میں تقسیم کیا جائے، کسی معقول اور معتبر عذر کے بغیر میراث کی تقسیم میں تاخیر درست نہیں، اس سے ورثا کی حق تلفی ہونے کے ساتھ ساتھ غلط فہمیاں اور رنجشیں پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ وراثت میں شرعی اعتبار سے سب ورثاء کی شرکتِ ملک ثابت ہوتی ہے اور شرکتِ ملک کی تقسیم کا اصول یہ ہے کہ اگر مال تقسیم کرنے کی صورت میں سب ورثاء اپنے مال سے نفع اٹھا سکتے ہوں تو بعض ورثاء کے مطالبے پر بھی مال کو تقسیم کر دیا جائے گا اور اگر کسی وارث کو تقسیم کی وجہ سے نقصان ہو تو ایسی صورت میں زیادہ حصے والے فریق کے مطالبے پر مال تقسیم کیا جائے گا اور دوسرے فریق کے انکار کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، صاحب ہدایہ اور دیگر بعض فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اس قول پر فتوی کی تصریح کی ہے اور علامہ حصکفی رحمہ اللہ کی تصریح کے مطابق متون میں بھی یہی قول منقول ہے۔

چونکہ مذکورہ صورت میں دونوں بھائیوں کا حصہ بہنوں کے مقابلے میں زیادہ ہے،اس لئے محض بہن کے انکار کی وجہ سے تقسیم میں تاخیر شرعا لازم نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

"الهداية" (3/ 5):

"الشركة ضربان: شركة أملاك وشركة عقود، فشركة الأملاك العين يرثها رجلان أو يشتريانها، فلا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه، وكل واحد منهما في نصيب صاحبه کالأجنبی".

"الدر المختار" (6/ 260):

"(وقسم ) المال المشترك ( بطلب أحدهم إن انتفع كل ) بحصته ( بعد القسمة، وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته ). وفي الخانية: يقسم بطلب كل، وعليه الفتوى، لكن المتون على الأول، فعليها المعول."

"رد المحتار" (6/ 260):

" (قوله: وقسم المال المشترك ) أي الذي تجري فيه القسمة جبرا بأن كان من جنس واحد، كما مر ويأتي.  قوله ( قوله: وبطلب ذي الكثير ) أي إن انتفع بحصته، وأطلقه لعلمه من المقام، ومفهومه أنه لا يقسم بطلب ذي القليل الذي لا ينتفع إذا أبى المنتفع. ووجهه كما في الهداية أن الأول منتفع، فاعتبر طلبه، والثاني متعنت، فلم يعتبر اه. ولذا لا يقسم القاضي بينهم إن تضرر الكل وإن طلبوا، كما في النهاية، وحينئذ فيأمر القاضي بالمهايأة، كما سيذكره الشارح.   قوله ( وفي الخانية ) وقيل بعكس ما تقدم. قوله ( فعليها المعول ) وصرح في الهداية وشروحها بأنه الأصح، وزاد في الدرر وعليه الفتوى.

"درر الحكام شرح غرر الأحكام" (2/ 422):

(وقسم بطلب أحدهم إن انتفع كل بحصته وبطلب ذي الكثير فقط إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) يعني إذا انتفع كل من الشركاء بنصيبه قسم بطلب أحدهم ؛لأن في القسمة تكميل المنفعة وكانت حتما لازما فيما يحتملها إذا طلب أحدهم، وإن انتفع أحدهم بنصيبه إذا قسم وتضرر الآخر لقلة نصيبه فإن طلب صاحب الكثير قسم، وإن طلب صاحب القليل لم يقسم،كذا ذكر الخصاف وذكر الجصاص عكسه وذكر الحاكم في مختصره أن أيهما طلب القسمة قسم القاضي. قال في الخانية: وهو اختيار الشيخ الإمام المعروف بخواهر زاده وعليه الفتوى. وقال في الكافي ما ذكره الخصاف أصح. وفي الذخيرة وعليه الفتوى.

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

06/ربیع الثانی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب