03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ترکہ میں موجود مکان کی ایک منزل کے حوالے سے بہن کا ہبہ کا دعوی کرنا
88606میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال یہ ہے کہ  ہماری بہن کا کہنا ہے کہ والد صاحب نے زبانی طور پر ان سے کہا تھا کہ اوپر والی منزل تمہاری ہے،اس کی کوئی لکھت پڑھت نہیں ہے اور نہ والد صاحب نے کبھی ہمارے سامنے اس کا تذکرہ کیا اور نہ مرتے دم تک اوپر والی منزل کا قبضہ اور تصرف ان کے حوالے کیا،بلکہ وہ خود بھی بہن کے ساتھ اس منزل میں رہائش پذیر تھے،جبکہ کچن میں ان کے ساتھ چھوٹا بھائی بھی شریک تھا،اگرچہ رہائش اس کی نچلی منزل میں تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زندگی میں اپنی اولاد کو کچھ دینا ہبہ کے حکم میں ہے اور ہبہ کی تکمیل کے لئے قبضہ شرط ہے،لہذا مذکورہ صورت میں اگربالفرض  بہن کا دعوی سچا بھی ہو تو والد کے محض زبانی طوریہ کہنے سے کہ یہ منزل تمہاری ہے،ہبہ مکمل نہیں ہوا،کیونکہ انہوں اس منزل کا قبضہ آپ کی بہن کو نہیں دیا ،لہذا ان کی وفات کے بعد اب اوپر والی منزل ان کے ترکہ میں شامل ہوکر تمام ورثا میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔

حوالہ جات

.......

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

06/ربیع الثانی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب