| 90405 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں بسلسلہ روزگار متحدہ عرب امارات میں کئی سالوں سے مقیم ہوں اور ڈیجیٹل مواصلات و کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں کام کی مہارت اور تجربہ رکھتا ہوں۔ یہاں امارات میں ڈیجیٹل کرنسی میں لین دین اور ٹریڈ نگ کو مکمل طور پر قانونی تحفظ حاصل ہے۔ جس کے لئے یہاں با قاعدہ ڈیجیٹل کرنسی کی ایکسچینج اور بینک بھی موجود ہیں۔
یہاں موجودہ ملکی حالات میں تمام کاروباری شعبہ جات بہت زیادہ متاثر ہونے اور بیروزگاری کی بنا پہ میں ڈیجیٹل کرنسی کے ایک ادارے میں ایک متوقع ملازمت کی جانب متوجہ ہوا، جسےکمپلائنس آفیسر (Compliance Officer)کہتے ہیں۔ یہاں کے قانون کے مطابق اس پوسٹ پر متعلقہ اہلیت کا معیار رکھنے والے افراد کی تعیناتی کر نا تمام ڈیجیٹل کرنسی کے اداروں کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ براہ کرم اس ساری تفصیل کو مد نظر رکھتے ہوئے اس ملازمت کو کرنے کے بارے میں شرعی طور پر رہنمائی فرمادی جائے۔
تنقیح :
سائل نے مزید بتایا کہ میں کمپلائنسر لگنے کے لیے ایک خاص ڈگری لینے پڑتی ہے، فی الحال میں اس کے لیے پڑھ رہا ہوں، جب وہ ڈگری ملے گی تو میں دبئی میں کئی دیجیٹل کرنسی ایکسچینج میں درخواست دوں گا، پھر جہاں قسمت ہوگی وہاں کام کروں گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
متحدہ عرب امارات میں رائج ڈیجیٹل کرنسیوں کے متعلق آج کی تاریخ تک '' یو اے ای فتوی کونسل '' کا فتوی توقف کا ہے، یعنی وہ خود بھی اسے جائز یا ناجائز قرار دینے میں متردد ہیں۔ ایسی صورتحال میں ان کرنسیوں سے متعلق کسی بھی ادارے میں کام کرنا قباحت سے خالی نہیں ہے۔
تاہم اصولی جواب یہ ہے کہ اگر متوقع نوکری میں کام کے دوران آپ کوبراہ راست غیر شرعی معاملات سرانجام دینے نہ پڑتے ہوں اور ایکسچینج کی اکثر آمدن جائز ذرائع سے ہو، توایسی ملازمت اور اس کی کمائی حلال ہےاور اگر کوئی غیر شرعی کام سر انجام دینا پڑتا ہو یا ایکسچنج کی اکثر آمدن ناجائز ذرائع سے ہو، تو ناجائز ہے۔
مزید تفصیل کے لیے جب آپ کی تقرری کسی ادارے میں ہوجائے گی تو وہاں کے اصول و ضوابط اور کام کی تفصیل بتاکر سوال جمع کریں۔
حوالہ جات
صحیح مسلم : (5/50)
عن جابر قال لعن رسول ﷲ صلىﷲ عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال:هم سواء.
تکملۃ فتح الملھم : (1/388)
قوله: کاتبه, کتابة الربا إعانة عليه ،ومن ههنا ظهرأن التوظف فی البنوک الربویة لایجوز ،فإن کا ن عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا کالکتابة أو الحساب ،فذاک حرام لوجهين: الأول :إعانة علی المعصیة ,والثانی: أخذالاجرة من مال الحرام ،فإن معظم دخل البنوک حرام مستجا ب بالربا وأما إذا کان العمل لا علاقة له بالربا ،فإنه حرام لوجه الثانی ،فإذاوجد بنک،معظم دخله حلال جاز فيه التوظف للنوع الثانی من الأعمال .
زبیر احمد بن شیرجان
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
25/ذوالقعدہ/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


