03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خاندانی جھگڑے کی   وجہ سے عدالتی خلع لینے کا حکم
90251طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

میری شادی ہوئی، اچھی زندگی گزر رہی تھی، تین بچے پیدا ہوئے۔ اس دوران سالے کے ساتھ کسی پلاٹ کے معاملے  میں اچانک جھگڑا ہوا۔ جس کی وجہ سے عدالت میں کیس درج ہوا اور مختلف چیزوں کے ساتھ یہ بھی درج ہوا کہ بندہ بیوی کو مارتا پیٹتا ہے ،   نان و نفقہ نہیں دیتا  ہےاور جہیز کی تفصیلات بھی درج کی گئی۔ اس میں حقائق غلط درج کیے گئے جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی تھے۔ جب فیصلہ ہوا تو مرد کے خلاف ہوا۔

اس تمام عرصے کے دوران مرد اپنے سسرال میں مختلف لوگوں کو صلح کے لیے بھیجتا رہا، لیکن لڑکی کا باپ صلح کے لیے کبھی بھی تیار نہ ہوا، جبکہ مرد بچوں اور بیوی کا خرچہ اور نان و نفقہ دینے کے لیے مختلف لوگوں کے ذریعے سسرالیوں کو کہتا رہا، لیکن لڑکی کا باپ اس طرح خرچہ لینے کو تیار نہ تھا اور عدالت، عدالت کی رٹ لگاتا کہ عدالتی خرچہ لوں گا۔ یہ سلسلہ پانچ سال تک چلتا رہا۔

پانچ سال بعد عدالت میں خلع کا کیس درج ہوا، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

  1. جس عدالت میں کیس درج ہوا، اس کی جج عورت تھی۔ کیا عورت کا قاضی اور جج بن کر خلع کا کیس سن کر فیصلے کرنے کا اختیار ہے؟
  2. جب خلع کا کیس درج ہوا تو اس کے سمن یا نوٹس مرد کو موصول نہ ہوئے۔ جب خلع ہوگئی اور لڑکی کا دوسری جگہ نکاح ہوا تو مرد کو خلع کے کیس کا علم ہوا۔ پھر کیس کو دیکھا تو اس پر مدعا علیہ (شوہر) کا موبائل نمبر غلط درج تھا ۔ جس کی وجہ سے کیس کے لیے مرد عدالت میں حاضر نہ ہوسکا تھا۔ کیا اس طرح خلع شرعاً درست ہوئی؟
  3. خلع کے کیس میں جو حقائق درج کیے گئے وہ مکمل طور پر غلط تھے، مثلاً: وہ شراب پیتا ہے، دوسری عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں وغیرہ، جبکہ مرد نے نہ کبھی شراب دیکھی اور نہ کوئی غلط حرکت کی۔ کیا اس طرح جھوٹ بول کر، غلط حقائق اور دھوکے سے لی گئی خلع شرعاً درست ہے؟
  4. جس دن عدالت سے خلع ہوئی، اسی دن وکیل کے چیمبر میں جا کر دوسرا نکاح کیا اور شام کو رخصتی بھی کر دی۔ کیا یہ دوسرا نکاح شرعاً درست ہوا یا نہیں؟
  5. دوسرے نکاح کے بعد رشتہ داروں اور دیگر لوگوں نے کہا کہ پہلے شوہر سے اب تک  طلاق نہیں ہوئی۔ اختلاف کے بعد مسئلہ کے حل کے لیے کسی مدرسہ کے مفتی صاحب کے پاس گئے۔ مفتی صاحب نے دونوں فریقوں (لڑکی اور دوسرے شوہر) کو سامنے بٹھا کر مسئلہ سننے کے بعد فتویٰ دیا کہ پہلا نکاح ختم نہیں ہوا، لہٰذا دوسرا نکاح غلط ہے۔ آپ لوگ اللہ تعالیٰ سے توبہ کریں اور دوسرا شوہر طلاق دے۔ چنانچہ دوسرے شوہر نے طلاق دے دی۔ پھر لڑکی کے والد نے کہا کہ دوسرے شوہر نے جو طلاق دی ہے، اس کی وجہ سے میری بیٹی کو طلاق ہوگئی ہے، اب وہ پہلے اور دوسرے دونوں شوہروں سے آزاد ہے  اور اس نے تیسری جگہ اپنی بیٹی کی شادی کر دی۔ کیا لڑکی کے باپ کا یہ کہنا درست ہے؟ اور کیا لڑکی تیسری جگہ شادی کر سکتی ہے؟
  6. لڑکی نے تیسری جگہ شادی کر لی۔ اب اگر پہلا نکاح ختم نہیں ہوا تو یقیناً دوسرا اور تیسرا نکاح بھی درست نہ ہوا۔ لہٰذا اب تیسرے شوہر کے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خلع دیگر معاملات کی طرح ایک معاملہ ہے جس کے لیے فریقین کی رضامندی ضروری ہے۔ یکطرفہ عدالتی خلع میں شوہر کی رضامندی شامل نہیں ہوتی اس لیے وہ شرعا معتبر نہیں ہوتا۔لہذا اگر بتائی گئی معلومات درست ہے تو بیوی بدستور پہلے شوہر کے نکاح میں ہے۔ عورت کے لیے طلاق یا رضامندی سے خلع کے بغیر مزید نکاح کرنا حرام ہے۔ عورت کو چاہیے کہ اللہ تعالی سے اس عمل پر صدق دل سے توبہ و استغفار کرے  اور فی الفور علیحدگی اختیار کرے۔ نیز والد بھی اس عمل کی سرپرستی پر توبہ کرے۔ تیسرے شوہر کو بھی فورا علیحدگی اختیار کرلینی چاہیے۔

تاہم اب جبکہ پہلے شوہر کے ساتھ رہنا عملا ممکن نہیں رہا تو بہتر یہ ہے کہ شوہر خلع کو قبول کرلے یا طلاق دے دے اور پھر عدت گزرنے پر عورت جہاں چاہے نکاح کرلے۔

حوالہ جات

سورۃ البقرۃ رقم الأیۃ: (223)

"ولا يحل لكم أن تأخذوا مما آتيتموهن شيئا إلا أن يخافا ألا يقيما حدود الله  فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به تلك حدود الله فلا تعتدوها ومن يتعد حدود الله فأولئك هم الظالمون "

فتح القدیر:(4/211)

(وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به) لقوله تعالى {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} (فإذا فعلا ذلك وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال) لقوله صلى الله عليه وسلم ''الخلع تطليقة بائنة'' .

ردالمحتار علی الدر المختار:(3/449)

قال الزيلعي: ولا بد من قبولها لأنه عقد معاوضة، أو تعليق بشرط، فلا تنعقد المعاوضة بدون القبول ولا ينزل المعلق بدون الشرط إذ ‌لا ‌ولاية ‌لأحدهما ‌في ‌إلزام ‌صاحبه ‌بدون رضاه، والطلاق بائن لأنها ما التزمت المال إلا لتسلم لها نفسها وذلك بالبينونة.

الدرالمختار مع ردالمحتار: (3/441)

(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر) بغير عكس كلي لصحة الخلع بدون العشرة وبما في يدها وبطن غنمها وجوز العيني انعكاسها.

بدائع الصنائع :(3/145)

وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.

زبیر احمد ولد شیرجان

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

11/ذوالقعدہ/1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب