03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترکہ قرض کی موجودگی میں قربانی کا حکم
89994قربانی کا بیانقربانی کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہمارا ایک مشترکہ خاندانی نظام ہے جس میں تین مائیں، تین بھائی اور دو بہنیں شامل ہیں۔ ہماری رہائش کے لیے ایک ذاتی مکان موجود ہے۔ گھر کے عمومی اخراجات پورے کرنے کے لیے ایک شاپنگ مال ہے جس میں تقریباً 20 دکانیں ہیں، جن سے ماہانہ قریباً 1,80,000 روپے کرایہ وصول ہوتا ہے اور اسی سے گھر کا نظام چلتا ہے۔

ہم بھائیوں کی معاشی تفصیل درج ذیل ہے:

: 1۔ سائل (بڑا بھائی) ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازم ہے اور ماہانہ تنخواہ 1,00,000 روپے ہے۔ بھائیوں میں صرف میری ہی شادی ہوئی ہے اور میرے پاس تقریباً 5,50,000 روپے مالیت کا سونا بھی موجود ہے۔

2۔ دوسرا بھائی ایک پرائیویٹ سکول میں معلم ہے جس کی ماہانہ تنخواہ 20,000 روپے ہے۔

3۔ تیسرا بھائی بھی پرائیویٹ سکول میں معلم ہے اور اس کی ماہانہ تنخواہ 10,000 روپے ہے۔

ان تمام اثاثوں اور آمدنی کے ساتھ ساتھ، ہم پر مجموعی طور پر 20,00,000 (بیس لاکھ) روپے کا قرض بھی ہے، جس میں سے 6,00,000 روپے کی ادائیگی فوری کرنی ہے۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورتِ حال کی روشنی میں ہم گھر والوں میں سے کس کس پر قربانی واجب ہے؟ نیز کیا اس قرض کی موجودگی میں ہم پر سے قربانی ساقط ہو جائے گی یا نہیں؟ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قربانی اور قرض کے حوالے سے شرعی اصول یہ ہے کہ قربانی ہر اس عاقل، بالغ، مقیم مسلمان پر واجب ہوتی ہے جس کی ملکیت میں ایامِ قربانی (10، 11، 12 ذی الحجہ) کے دوران ضرورتِ اصلیہ (رہائشی مکان، استعمال کے کپڑے، سواری وغیرہ) سے زائد اتنا مال یا نقدی موجود ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچ جائے۔ قربانی چونکہ ایک انفرادی مالی عبادت ہے، اس لیے گھر کے ہر فرد کے مال کا حساب الگ الگ کیا جائے گا۔

آپ کی بیان کردہ صورتِ حال کے مطابق تفصیلی شرعی رہنمائی درج ذیل ہے:

1. مکان اور دکانوں کا حکم:

· رہائشی مکان: یہ آپ کی ضرورتِ اصلیہ (بنیادی ضرورت) میں داخل ہے، اس لیے اس کی مالیت  قربانی کے نصاب میں شامل نہیں ہوگی ۔

·شاپنگ مال (دکانیں): جو دکانیں کرائے پر دی گئی ہیں، ان کی اصل مالیت (Capital Value) نصاب میں شامل نہیں ہوتی۔ البتہ ان سے حاصل ہونے والا کرایہ، جو گھر کے اخراجات سے بچ جائے اور ایامِ قربانی میں موجود ہو، وہ دیگر نقدی کے ساتھ مل کر نصاب میں شمار ہوگا۔

2. قرض کی موجودگی میں قربانی کا حکم: قرض کی وجہ سے قربانی صرف اس صورت میں ساقط ہوتی ہے جب کل قابلِ زکوٰۃ و قربانی مالیت سے قرض کی رقم منہا (مائنس) کرنے کے بعد باقی ماندہ مال نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) سے کم رہ جائے۔

چونکہ 20 لاکھ روپے کا قرض پورے گھرانے (یا مشترکہ کاروبار/جائیداد) پر ہے، اس لیے یہ قرض کسی ایک فرد کے ذمے نہیں لگایا جائے گا، بلکہ شرعاً یا عرفاً جس فرد کے ذمے جتنا قرض ادا کرنا لازم ہے، وہ اپنے حصے کی مالیت سے صرف اتنے ہی قرض کو منہا کرے گا۔ فوری ادا کیے جانے والے 6 لاکھ روپے اور باقی ماندہ 14 لاکھ روپے، دونوں ہی منہا کیے جائیں گے بشرطیکہ ان کی ادائیگی کی ذمہ داری متعین ہو۔

3. افراد کے لحاظ سے حکم کا اطلاق:

· سائل (احسان اللہ) کے لیے: آپ کی ملکیت میں 5,50,000 روپے مالیت کا سونا موجود ہے، اس کے علاوہ آپ کی تنخواہ کی بچت اور دکانوں کے کرائے میں سے آپ کا حصہ بھی آپ کی ملکیت ہے۔ آپ اس کل مالیت کو جمع کریں۔ پھر 20 لاکھ روپے کے مشترکہ قرض میں سے جتنا حصہ آپ کے ذمے آتا ہے (مثلاً اگر آپ پر قرض کا ایک تہائی یا اس سے کم/زیادہ حصہ ہے)، اسے اپنی کل مالیت سے مائنس کریں۔ اگر قرض نکالنے کے بعد آپ کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ مالیت کے برابر رقم یا سونا بچتا ہے، تو آپ پر قربانی واجب ہے، ورنہ نہیں۔ (واضح رہے کہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت  تبدیل ہوتی رہتی ہے، ایامِ قربانی میں اس کی تصدیق کر لی جائے)۔

· دیگر دو بھائی (اساتذہ): ان کی تنخواہیں بالترتیب 20,000 اور 10,000 روپے ہیں۔ اگر ان کے پاس تنخواہ کی بچت، دکانوں کے کرائے میں اپنا حصہ یا کوئی اور سونا چاندی وغیرہ ملا کر، اپنے حصے کا قرض منہا کرنے کے بعد نصاب کے بقدر مال نہیں بچتا، تو ان پر قربانی واجب نہیں۔

· مائیں اور بہنیں: خواتین کے پاس عموماً زیورات ہوتے ہیں۔ اگر کسی والدہ یا بہن کی ذاتی ملکیت میں سونا، چاندی، نقدی یا ضرورت سے زائد سامان موجود ہے، تو وہ بھی اپنے ذمے واجب الادا قرض (اگر کوئی ہو تو) نکال کر حساب کریں گی۔ اگر مالیت نصاب کو پہنچ جائے تو ان پر انفرادی طور پر قربانی واجب ہوگی۔

خلاصہ: قرض کی موجودگی مطلقاً قربانی کو ساقط نہیں کرتی۔ ہر فرد اپنے اثاثوں (سونا، نقدی، بچت) میں سے اپنے حصے کا قرض منہا کر کے دیکھے؛ اگر بچت نصاب کو پہنچ رہی ہے تو قربانی واجب ہے، اور اگر قرض کی وجہ سے مالیت نصاب سے کم رہ جائے تو قربانی واجب نہیں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (كتاب الأضحية، الباب الأول، ج: 5، ص: 292، ط: دار الفكر🙁

"وَهِيَ وَاجِبَةٌ عَلَى الْحُرِّ الْمُسْلِمِ الْمَالِكِ لِمِقْدَارِ النِّصَابِ فَاضِلًا عَنْ حَوَائِجِهِ الْأَصْلِيَّةِ، كَذَا فِي الِاخْتِيَارِ شَرْحِ الْمُخْتَارِ، وَلَا يُعْتَبَرُ فِيهِ وَصْفُ النَّمَاءِ، وَيَتَعَلَّقُ بِهَذَا النِّصَابِ وُجُوبُ الْأُضْحِيَّةِ، وَوُجُوبُ نَفَقَةِ الْأَقَارِبِ."

مختصر القدوري (كتاب الأضحية: (

"الأضحية واجبة على كل حر مسلم مقيم موسر في أيام النحر عن نفسه وعن ولده الصغير."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين [رد المحتار] (كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 262، ط: سعيد(

")فَارِغ عَنْ حَاجَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ) لِأَنَّ الْمَشْغُولَ بِهَا كَالْمَعْدُومِ... وَفَسَّرَهُ ابْنُ مَلَكٍ بِمَا يَدْفَعُ الْهَلَاكَ عَنْ الْإِنْسَانِ تَحْقِيقًا أَوْ تَقْدِيرًا كَنَفَقَتِهِ وَدُورِ السُّكْنَى وَآلَاتِ الْحَرْبِ وَالثِّيَابِ..."

الفتاوى الهندية (كتاب الزكاة، الباب الأول، ج: 1، ص: 172، ط: دار الفكر🙁

"وَلَيْسَ فِي دُورِ السُّكْنَى وَثِيَابِ الْبَدَنِ وَأَثَاثِ الْمَنَازِلِ وَدَوَابِّ الرُّكُوبِ وَعَبِيدِ الْخِدْمَةِ وَسِلَاحِ الِاسْتِعْمَالِ زَكَاةٌ."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين [رد المحتار] (كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 265، ط: سعيد🙁

"فَإِنْ نَوَى التِّجَارَةَ بَعْدَ الْعَقْدِ أَوْ اشْتَرَى شَيْئًا لِلْقِنْيَةِ نَاوِيًا أَنَّهُ إنْ وَجَدَ رِبْحًا بَاعَهُ لَا زَكَاةَ عَلَيْهِ."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 259)

(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب. أقول: إنه خرج باشتراط الحرية على أن المطلق ينصرف للكامل، ودخل ما ملك بسبب خبيث كمغصوب خلطه إذا كان له غيره منفصل عنه يوفي دينه (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد)

مختصر القدوري (كتاب الزكاة🙁

"ومن كان عليه دين يحيط بماله فلا زكاة عليه، وإن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابا."

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

16/شوال 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب