| 90276 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
میرے دادا عبداللہ کو اپنے والد سے وراثت میں جائیداد ملی تھی۔ عبداللہ کی دو بہنیں بھی تھیں،اور ایک بھائی بھی لیکن اس وقت رائج قانون کے باعث انہیں حصہ نہیں دیا گیا۔ ان کی ایک بہن رحیمہ تھیں، جنہیں بھی حصہ نہیں ملا۔ دادا عبداللہ کے انتقال کے بعد یہ جائیداد میرے والد اور چچاؤں میں تقسیم ہوئی، اور پھر میرے والد کے انتقال کے بعد اس میں سے کچھ حصہ مجھے ملا۔ اب رحیمہ مرحومہ کےبیٹےاور نواسےمجھ سے اپنی داد ی یعنی عبداللہ کی بہن کے حصے کا مطالبہ کر رہے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ انہیں ان کا حق نہیں ملا تھا۔ مزید یہ کہ میرے دادا نے اپنی زندگی میں اس جائیداد کا تقریباً آدھا حصہ فروخت بھی کر دیا تھا۔ اب میرا سوال یہ ہے: کیا رحیمہ مرحومہ کے بیٹوں اورنواسوں کا میرے موجودہ حصے میں کوئی حق بنتا ہے؟کیا مجھے صرف اپنی موجودہ وراثتی زمین میں سے ان کا حصہ دینا ہوگا، یا دادا کی طرف سے فروخت شدہ جائیداد کا حساب بھی شامل کرنا ہوگا؟ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میراث میں جس طرح مردوں کا حصہ متعین ہے اسی طرح قرآن اور احادیث مبارکہ نے عورتوں کا حصہ بھی متعین فرمایا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں آپ کے حصے میں جو موروثی زمین آئی ہے، اس میں سے رحیمہ کو ان کے مقررہ حصے (16.16 فیصد) کے مطابق ان کا حق ادا کرنا آپ پر لازم ہے۔جہاں تک اس زمین کاتعلق ہے جسے دادا نے فروخت کر دیا تھاتو چونکہ دادا نے وہ زمین اپنی بہن (جو شرعاً اس میں شریک تھی) کی اجازت اور رضامندی کے بغیر فروخت کیا تھا، اس لیے اپنی بہن کے حصے کے بقدر وہ غاصب شمارہوگا۔ اس غصب کا تقاضا یہ تھا کہ فروخت کے وقت حاصل ہونے والی قیمت میں سے بہن کے حصے کے مطابق رقم انہیں ادا کی جاتی جو ادا نہیں کی گئی،لہٰذا اب دادا کے انتقال کے بعد ان کے ورثہ پر لازم ہے کہ وہ اس واجب الادا حق کو ترکہ میں سے ادا کریں۔ چنانچہ زمین کی فروخت کے وقت حاصل شدہ قیمت کا 16.16 فیصد رحیمہ کےورثہ کوادا کرنا ضروری ہے،اس لیے آپ بھی اپنے حصے کے بقدر اس کی ادائیگی کے پابند ہیں ۔واضح رہے دوسری بہن کا حصہ بھی رحیمہ کےحصےکےبقدر(16.16فیصد) ہوگا۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی:لِّلرِّجَالِ نَصِيب مِّمَّا تَرَكَ ٱلوَٰلِدَانِ وَٱلأَقرَبُونَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيب مِّمَّا تَرَكَ ٱلوَٰلِدَانِ وَٱلأَقرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنهُ أَو كَثُرَۚ نَصِيبٗا مَّفرُوضٗا [النساء: 7] ... إِنَّ ٱلَّذِينَ يَأكُلُونَ أَموَٰلَ ٱليَتَٰمَىٰ ظُلمًا إِنَّمَا يَأكُلُونَ فِي بُطُونِهِم نَارٗا وَسَيَصلَونَ سَعِيرٗا [النساء: 10] يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَولَٰدِكُمۖ لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ ٱلأُنثَيَينِۚ [النساء: 11]
صحيح مسلم "(3/ 1231):
"عن سعيد بن زيد، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين.
السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (5/ 419):
[فروع] القضاء مظهر لا مثبت ويتخصص بزمان ومكان وخصومة حتى لو أمر السلطان بعد سماع الدعوى بعد خمسة عشر سنة فسمعها لم ينفذ.
قلت: فلا تسمع الآن بعدها إلا بأمر
إلا في الوقف والإرث ووجود عذر شرعي وبه أفتى المفتي أبو السعود فليحفظ.
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري :(1/ 285)
(قوله: ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه وكل واحد منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي) لأن تصرف الإنسان في مال غيره لا يجوز إلا بإذن أو ولاية.
رشيدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
17/ذو القعدہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


