| 89405 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
سردار خان کا ایک بیٹا سرفراز خان اور ایک بیٹی پروین ہیں سردارخان کی وفات ہو گئی اور کچھ عرصے بعد اس کے بیٹے سرفراز خان کا بھی انتقال ہو گیا اس کی ایک لےپالک بیٹی ہے اور بیوہ ہے اور اس کی بہن پروین ورثاء میں سےموجودہیں وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی شرعی حیثیت سے بتائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومین( والدسردار خان،بیٹے سرفراز خان )نے اپنے انتقال کے وقت جو جائیداد ،نقدرقم، سونا ،چاندی، مکان، کار و بار، ضرورت کی اشیاء، الغرض جو کچھ چھوٹا بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض ہے، وہ سب ان کا ترکہ شمارکیا جائے گا۔ اس میں سے سب سے پہلے ان کے تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطور احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعددیکھاجائےگاکہ اگر ان کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیاجائے گا۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیروارث کےحق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے گا۔صورت مسئولہ میں چونکہ یکےبعدیگرےدو بندوں کاانتقال ہواہے ،لہذا ترکہ کو صرف ان کےزندہ ورثہ میں تقسیم کیاجائےگاجس میں سے پروین(سردارخان کی بیٹی اورسرفرازخان کی بہن کو فیصدی اعتبارسے%83.3333اور میت ثانی(سرفرازخان )کی بیوی(ممتازبیگم) کو%16.6666 ملےگا۔لےپالک بیٹی کو شرعاًترکہ میں سے کچھ نہیں ملےگا۔البتہ اگر ورثہ اپنے حصے میں سے لےپالک بیٹی کو کچھ دیناچاہیں تودےسکتےہیں ۔کل ترکہ کے چھ(6) حصے بناکر درج ذیل نقشہ کےمطابق تقسیم کیاجائےگا۔
|
نمبر شمار |
زوجہ |
عددی حصہ |
بیٹا |
|
1 |
ممتازبیگم میت ثانی سرفرازکی بیوی |
1 |
%16.6666 |
|
2 |
پروین (سردارخان کی بیٹی سرفرازکی بہن |
5 |
%83.3333 |
|
|
کل مجموعہ |
6 |
%99.9999 |
حوالہ جات
قال الله تعالي :يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَولَٰدِكُم لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ ٱلأُنثَيَينِۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءٗ فَوقَ ٱثنَتَينِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِن كَانَت وَٰحِدَةٗ فَلَهَا ٱلنِّصفُۚ ... [النساء: 11]
وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكتُم إِن لَّم يَكُن لَّكُم وَلَد فَإِن كَانَ لَكُم وَلَد فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكتُمۚ... [النساء: 12]
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري(8/ 563):
قال رحمه الله (وللزوجة الربع) أي للزوجة نصف ما للزوج فيكون لها الربع حيث لا ولد ومع الولد أو ولد الابن.
قال رحمه الله (وعصبهما الابن وله مثل حظهما) معناه إذا اختلط البنون والبنات عصب البنات فيكون للابن مثل حظهما فصار للبنات ثلاثة أحوال النصف للواحدة والثلثان للاثنين فصاعدا والتعصيب عند الاختلاط بالذكور.
التفسير المظهري (7/ 283)
وَما جَعَلَ الله أَدْعِياءَكُمْ اى الذين تبنيتهم جمع دعى على الشذوذ.... أَبْناءَكُمْ فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك- وفى الاية ردّ لما كانت العرب تقول من ان اللبيب الأريب له قلبان والزوجة المظاهر منها تبين من زوجها وتحرم عليه كالام ودعى الرجل ابنه يرثه ويحرّم بالتبني ما يحرم بالنسب.
أحكام القران للتهانوى :(5/184)
والمتبنیٰ لا یلحق فی الاحکام بالإبن فلا يستحق الميراث ولا يرث عنه.
رشيدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
25/جمادی الا ٓخرۃ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


